پانامہ لیکس، عالمی سرمایہ داری کے تضادات

پانامہ لیکس نے عالمی سرمایہ داری نظام کے تضادات اور اندرونی تصادم کو بے نقاب کرنے میں حیرت انگیز توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ ہمارے سیاسی اور ریاستی ادارے بھی ان لیکس کے بعد اپنی اپنی چال کھیلنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

ٹیکس چوری، ناجائز دولت اور منی لانڈرنگ کی بنیاد پر دنیا بھر کے میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں اس لیکس نے اپنا کام دکھا دیا۔ یہ لیکس سرمایہ داری نظام کے اندر سے بے نقاب ہوئی ہیں۔ اس بے نقابی کا سہرا ہماری دنیا (تیسری اور اسلامی دنیا) کے سر نہیں اور نہ ہی ہماری دنیا کے لوگوں کے پاس اس قدر ٹیکنالوجی اورصلاحیت ہے کہ وہ ایسے حقائق تک رسائی حاصل کرکے ان کوبے نقاب کر سکیں۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم اپنے مخالف پہلوان کو خود تو زیر نہیں کر سکتے، لیکن دوسرے پہلوان کے ہاتھوں اس کی ہڈی پسلی ٹوٹنے کے ہر وقت خواہاں رہتے ہیں۔

 پاکستان کے اندر اس لیکس نے فوری طور پر ہلچل پیدا کر دی ہے جس میں عمران خان نے آغاز میں بلند آواز میں بڑھک بازی کرتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ان بڑھکوں میں اب حیرانی کی حد تک عملی طور پر کمی نظر آرہی ہے، نہ جانے اس کے اسباب کیا ہیں۔ لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق سیاسی اقتدار پر قابض شریف خاندان کے تضادات اور اندرونی تصادم پر مبنی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ وزیراعظم نے دورہ ترکی منسوخ کرتے ہوئے برطانیہ جانے کو ترجیح دی ہے اور خبر گرم ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں عملی طور پر سیاسی اقتدار میں ہونے والے فیصلوں کا اختیار ان کی صاحبزادی مریم نواز کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی شریک حیات تہمینہ درانی نے پانامہ لیکس پر اپنا فوری ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو اس میں ملوث ہیں، جن میں ان کے جیٹھ وزیراعظم نوازشریف کے دونوں بیٹے اور مریم نوازشریف کا نام بھی شامل ہے۔ اور یہ بھی خبر گرم ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اسلام آباد میں اگلے کئی روز قیام کی تیاری کر چکے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حمزہ شہبازشریف جو عملی طور پر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی’’ آدھی باگ ڈور‘‘  سنبھالے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنی بیماری کی خبر عام کرکے پنجاب کے ’’اقتداری فیصلوں‘‘ کے لیے حکومت پنجاب کی فائلوں کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

پنجاب اور پاکستان کے اقتدار میں شریف خاندان تیس سالوں سے شامل ہے لیکن لگتا ہے کہ  شریف خاندان، جس کی پہچان ’’اتفاق‘‘ کے مشرقی اصولوں پر سے تھی، اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کے لیے پہلے ہی مریم نواز اور حمزہ شہباز کی علیحدہ علیحدہ قیادت استوار Leadership Building کی جارہی تھی۔ اب اس Leadership Building میں دونوں طرف مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے۔ پانامہ لیکس کے بعد کیا متعلقہ لوگوں کی دولت واپس وطن آئے گی، یہ سوال غیر اہم ہے۔ سرمایہ داری نظام  دنیا میں دولت کی Free Movement پر قائم ہے کہ جہاں سے چاہو دولت کماؤ، اکٹھی کرو اور جہاں اورجیسے چاہو لے جاؤ۔ قانونی یا غیر قانونی طریقے سے۔ پانامہ لیکس میں صرف شریف خاندان کے ’’چشم و چراغ‘‘ ہی شامل نہیں بلکہ پاکستان کے دوسرے 220 لوگوں کے نام بھی شامل ہیں جن میں سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کا نام بھی ہے، جو عالمی قوانین کے خلاف سابق عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ تیل کے سودوں میں ملوث رہی ہیں اور اس میں سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک ان کے پارٹنر تھے۔ لیکن پاکستان میں اقتدار پر مکمل گرفت رکھنے والی قوتوں نے ابھی صرف یہ طے کیا ہے کہ پانامہ لیکس کے ذریعے شریف خاندان کے ساتھ نبٹا جائے۔ بھلا کسی قوم کی لوٹی دولت کبھی واپس آئی ہے۔

لیکن ایک بات طے ہے کہ پانامہ لیکس کے شوروغوغا کے بعد پنجاب میں آپریشن فوج کی نگرانی میں ہو گا، جس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کا خاندان لیت ولعل سے کام لے رہے تھے۔ پانامہ لیکس کا حتمی اثر پنجاب میں فوجی آپریشن ہی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کچھ عرصہ بعد  عمران خان سمیت دیگر سیاسی کھلاڑی آگے بڑھو، مزید بڑھو کہتے ہوئے پنجاب میں شدت پسندی اور لوٹ مار اور کرپشن کے خلاف کراچی سٹائل آپریشن کی حمایت کرنے میں بڑھ چڑھ کر اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہوں گے۔

پانامہ لیکس میں امریکیوں کے علاوہ دنیا بھر کے حکمران، سیاستدان اور سرمایہ دار شامل ہیں۔ یہی اس تضاد کی حقیقت کا سب سے بڑا نکتہ ہے۔ روسی صدر اور ان کے دوستوں کا نام پانامہ لیکس میں آنے کے بعد روسی قیادت نے اسے امریکہ کا کھیل قرار دیا ہے اور انہوں نے  سوال اٹھایا ہے اس لیکس میں کسی امریکی کا نام کیوں نہیں۔ روسی قیادت نے کہا ہے کہ ہم نے پچھلے چند برسوں میں جن این جی اوز کو دیس نکالا دیا ہے، یہ تمام امریکی این جی اوز ہیں، جن میں اوپن سوسائٹی انسٹیٹیوٹ کے سربراہ جارج سورس بھی شامل ہیں، جو عالمی سطح پر سٹاک ایکسچینج کے کاروبار سے دیگر معیشتوں کو لوٹتے، تباہ کرتے اور اپنے سرمائے کو بڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ عالمی سرمایہ داری نظام کے اس اندرونی تصادم پر مباحث کا آغاز ہو گیا ہے اور مغرب کے لاتعداد محقق ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ کیسے دنیا کی بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اور سرمائے کی غیر قانونی نقل و حمل میں مصروف ہیں۔ ان میں گوگل، Amazon سمیت سینکڑوں کمپنیاں شامل ہیں۔

مغرب کے ان محققین کا کہنا ہے کہ صرف یورپ میں ہر سال 70ارب یورو تک بڑی کمپنیاں ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ پانامہ لیکس میں جو اعداد و شمار دیئے گئے ہیں، ان میں ان 80 فیصد کمپنیاں برطانیہ کے ملکیتی جزیرے British Virgin Iceland میں پائی گئی ہیں، لیکن کہیں بھی امریکہ کے ٹیکس چوری کے تحت ایسے سرمایہ کاری کے مراکز کا ذکر نہیں۔ ان میں امریکہ کے جزیرے پورٹوریکو کا بھی کہیں ذکر نہیں کہ جہاں عرب حکمرانوں اور خلیجی ریاستوں اور دیگر سرمایہ داروں کی دولت کے انبار پڑے ہیں۔ عالمی سرمایہ داری کے اس تصادم کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ جولیان اسانج اور ایڈورڈ نے سرمایہ دار دنیا کے جن مراکز کو نشانہ بنایا تھا، پانامہ لیکس اس کا جواب ہیں۔ اسی لیے تو پانامہ لیکس میں بڑا نشانہ روس، چین اور برطانیہ نظر آرہا ہے۔ یورپی یونین طویل عرصے سے ’’دولت کے ان جزیروں‘‘ کے خلاف اقدام کی آواز اٹھا رہی ہے کہ جہاں امریکی سرمایہ دار دنیا کی سرپرستی میں دنیا بھر سے لوٹی دولت اکٹھی اور کمپنیاں سرگرم ہیں۔

یورپی یونین عالمی سرمایہ داری نظام میں ایک نیا توازن تھا، لگتا ہے اس اتحاد کی سانسیں بھی کم ہوتی جارہی ہیں۔ جون میں برطانیہ نے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے یورپی یونین میں رہنا ہے کہ نہیں۔ یونان، پرتگال، قبرص، سپین، کساد بازاری کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ اس سارے تناظر میں پانامہ لیکس کو دیکھا جائے تو اس کے اثرات عالمی سیاست پر کافی عرصہ تک مرتب ہوتے نظر آئیں گے۔ ذرا تضاد دیکھیں، عمران خان پاکستان میں پانامہ لیکس پر بڑی بڑھکیں مارتے نظر آرہے ہیں۔ لندن میں ان کی سابقہ بیوی کے بھائی زیگ گولڈ سمتھ جو لندن میں میئر کے امیدوار ہیں اور اس کا الیکشن 3مئی کو ہونا ہے، ان کی آف شور کمپنیاں ہیں اور عمران خان زیگ  کی انتخابی مہم کے لیے اپنا اثرورسوخ بھی استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان کی قومی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو پانامہ لیکس میں شامل 220 افراد میں سب سے زیادہ ٹارگٹ شریف خاندان ہی ہ۔، ایسے میں وہ لوگ، سیاسی جماعتیں اور طاقت کے اہم مراکز اپنے اپنے ٹارگٹس سامنے رکھ کر متحرک ہو گئے ہیں کہ ’’وقت ہوا چاہتا ہے پرانے بدلے چکانے کا‘‘۔