یورپی یونین: مخالفت میں اضافہ
پہلے ڈنمارک، پھر ہالینڈ اور اب برطانیہ ۔ اِن ملکوں میں کرائے جانے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین کے خلاف عوامی رائے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
ڈنمارک میں ترپن عشاریہ ایک فیصد رائے دہندگان نے، تین دسمبر کو یورپی یونین کے نظام قانون و عدل میں ڈنمارک کی شمولیت کو رد کر دیا تھا۔ امسال اپریل کے مہینے میں ہالینڈ کے چونسٹھ فیصد رائے دہندگان نے یورپی یونین کے ایک تجارتی و کاروباری معاہدے کو مسترد کردیا اور اب یورپی یونین میں برطانیہ کی شمولیت بحال رکھنے یا اس سے باہر نکل جانے کے سوال پر 23 جون کو کرائے جانے والے ریفرنڈم میں ہاں یا نہ کہنے والے دونوں دھڑے بہت زیادہ متحرک ہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ مقابلہ سخت ہوگا۔ جب بھی ریفرنڈم کروایا جاتا ہے یورپی یونین مسائل کا شکار ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ جب بھی لوگوں کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملتا ہے وہ یورپی یونین میں کسی بھی نکتے پر اتحاد کے خلاف نہ کر دیتے ہیں ۔ اور یہ طریق اظہار یورپی یونین میں سب مشترکہ منصوبوں کے متعلق یونین کے ہر رکن ملک میں ہر سطح پر پایا جاتا ہے ۔ یہ اس بات کو بھی عیاں کرتا ہے کہ یورپی یونین کے رائے دہندگان کی مجموعی اکثریت یونین کے بیشتر فیصلوں سے متفق نہیں ہوتی۔ اس کی حالیہ مثال یورپی یونین کے دو بنیادی و اہم ملکوں ہالینڈ اور فرانس کی دی جا سکتی ہے۔
مارچ کے مہینے میں کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 53 فیصد فرانسیسی چاہتے ہیں کہ فرانس کی یورپی یونین میں رکنیت کے سوال پر ریفرنڈم کرایا جائے ۔ سویڈن میں رائے دہندگان کی یہی شرح تناسب 49 فیصد ہے ۔ یورپی یونین کو نہ کہنے والے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور وہ یونین کی حمایت کرنے والی اپنی حکومتوں کو سزا دینے پر تلے رہتے ہیں۔ گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کو، برسلز کے احکام ، قواعد و ضوابط کا اس طرح پابند کای جارہا ہے کہ وہ ان قواعد وضوابط پر پورا اترنے کے لیے اپنے ہاں کٹوتیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنی جمہوری روایت اور قومی خود ارادیت تک کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔
نتائج کچھ بھی ہوں، یورپی یونین میں کسی ملک کا اپنی رکنیت بحال رکھنے یا اس سے باہر نکل جانے کا سوال ہو یا کوئی اور معاملہ، اِس پر کرائے جانے والے ریفرنڈم، یور پی یونین کے مخالفین کو قوت مہیا کرتے ہیں اور وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جاتے ہیں۔ اس طرح مجموعی اعتبار سے یورپی یونین کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ ڈنمارک میں یہی بات 1992 میں ماسٹرچ Maastricht معاہدے پر کرائے گئے ریفرنڈم سے ثابت ہو چکی ہے ۔ یورپی یونین کے مخالفین اب بڑی سختی سے اپنے مؤقف کو سامنے لا رہے ہیں اور اس کے لیے اپنی سیاسی قوت کے اظہار کے لئے بھر پور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں ۔ برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت کے سوال پر کرائے جانے والے ریفرنڈم کے نتائج سے ظاہر ہو جائے گا کہ یونین کے مخالفین اور اس کے حمایتیوں میں سے برطانیہ کی قسمت کے فیصلے پر فاتح کون ہو گا ۔
حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینے لاگارڈے Christine Lagarde نے اپنے ایک انٹرویو میں، برطانیہ کو یورپی یونین سے انخلا کے سوال پر بڑی سختی سے انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ اس سےہر ایک محاذ پر یورپی یونین کے لیے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘ ہالینڈ میں کرائے گئے حالیہ ریفرنڈم میں یورپی یونین کے تجارتی و کاروباری معاہدے کو مسترد کئے جانے کے بعد اب ڈچ حکومت ایسے راستے تلاش کر رہی ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کی فیصلہ کن اکثریتی رائے سے ہٹ کر کسی نہ کسی طرح اس معاہدے پر برسلز کے احکامات کی پیروی کر سکے ۔ جب کسی ریفرنڈم میں رائے دہنگان یورپی یونین سے متعلقہ کسی معاہدے، منصوبے یا کسی دوسرے معاملے کو مسترد کردیتے ہیں تو یورپی یونین کی حمایتی اُس ملک کی حکومت اسی طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے ۔ ڈنمارک میں بھی یہ بات بہت پہلے دیکھی جا چکی ہے ۔
برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت کے سوال پر اب ملک میں 23 جون کو ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے اور اس کے لئے سیاسی مہم بڑے زوروشور سے جاری ہے۔ رکنیت کو نہ کہنے والے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو یورپی یونین کے حامی بھی پیچھے نہیں۔، اس مقابلے میں جیت کس کی ہوگی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یورپی یونین میں یونین کے مخالفین کو غیر م؎ثر کرنے کے لئے پرسطح پر حکومتی کوششیں زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔
(نصر ملک آن لائن جریدے اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے ایڈیٹر ہیں اور یورپی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں)