انگریزی لازم اور داڑھی رکھنا جرم
- تحریر محی الدین عباسی
- اتوار 17 / اپریل / 2016
- 9086
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ان چند مسلمان مردوں کو نظر انداز کرنا ختم کر دیا جائے جو اپنے دقیا نوسی رویوں کے ذریعے اپنے خاندان کی خواتین پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کچھ حلقوں کی جانب سے مسلمان خواتین کو الگ تھلگ رکھنے اور ان کے ساتھ امتیاز برتنے کے خلاف ’مزید مؤثر‘ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت برطانیہ نے انگریزی سکھانے کے لئے دو کروڑ پاؤنڈ کی رقم مختص کی ہے۔ برطانیہ میں تقریباََ 22 فی صد ایسی مسلمان خواتین ہیں جو بہت کم انگریزی زبان جانتی ہیں یا بالکل نہیں جانتیں۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا ہے کہ ان اقدامات سے انتہا پسندی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور یہ کہ کچھ مسلمان حلقوں کی برطانوی معاشرے میں انضمام کی کمی سے انتہا پسندی کو پنپنے میں مدد ملتی ہے ۔ اس وجہ سے خواتین کی زبردستی کی شادیوں اور زنانہ ختنہ جیسی ہولناک روایات جاری ہیں۔
کیمرون نے کہا ہے کہ داعش کو شکست دینے کے لئے مساجد کے پیش امام کو انگریزی سیکھنا ضروری ہے۔ اخباری ذرائع کے مطابق برطانیہ میں بہت سے مسلمان نوجوانوں کو اردو یا عربی نہیں آتی ۔ ایسے نوجوانوں کو داعش کے زہر سے دور رکھنے اور انہیں سمجھانے کے لئے پیش امام کو انگریزی آنی چاہئے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے مسلمان تارکین وطن خواتین کو تیس ماہ میں انگریزی سیکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی خاتون اس عرصے میں انگریزی نہ سیکھ پائی تو اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔
انہوں نے امسال جنوری میں انتہائی ذہین اور روشن خیالات کی مالک مسلمان خواتین کے ایک اجلاس کی صدارت کی جو بہترین رول ماڈل ہیں۔ وہاں بہت سی خواتین کی مثالیں سنیں جو برطانیہ میں ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہیں اور وہیں چند خواتین نے صنفی امتیاز کی خطرناک صورت حال سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم کیمرون نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی لبرل اقدار کی ترویج کریں ۔ ان افراد کے بارے میں اپنی توقعات واضح کریں جو یہاں رہائش اختیار کرنے کی غرض سے آ تے ہیں ۔ ہمارے ملک کی تعمیر میں ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں درپیش رکاوٹوں کو ہٹانے میں اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سمیت ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا یہ برطانیہ ہے ۔ اس ملک میں لڑکیوں اور خواتین کو آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزاریں۔ یاد رہے کہ حکومت کی انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملی کو ماضی میں برطانوی مسلم کونسل کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ وزیر اعظم آنے والے دنوں میں سماجی تنہائی اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کے لئے نئی پالیسیوں کا بھی اعلان کریں گے ۔ علاوہ ازیں گھروں، سکولوں اور کمیونٹی مراکز میں انگریزی سکھانے کے لئے انتظام کیا جائے گا جبکہ سفر اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی دئے جائیں گے ۔
حکومت برطانیہ کا کہنا ہے کہ پہلے سے جاری ایک منصوبے کے تحت اب تک تیس ہزار سے زائد بالغ افراد کی مدد کی جا چکی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون کہتے ہیں کہ اگر یہاں آنے والے لوگ برطانیہ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا یہاں کی شہریت کے حصول کے خواہشمند ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انگریزی زبان میں مہارت پیدا کریں۔ جنوری 2016 میں تاجکستان کے علاقے ختلون کی پولیس نے کہا کہ انہوں نے ’انسداد بنیاد پرستی کی مہم‘ کے تحت تقریباََ 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈی ہیں۔ حکومت نے اپنے اس عمل کی توجیہ یوں بیان کی ہے کہ وہ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی مہم چلا رہی ہے اور اس بات کے خدشات ہیں کہ وسطی ایشیا بھی دوسرے ممالک جیسے افغانستان، عراق یا شام کی شدت پسندی کی پیروی کر سکتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق جون 2015 کے دوران شام میں 1500 سے4000کے لگ بھگ وسطی ایشیا کے لوگوں نے مختلف اسلامی شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ داڑھی کے خلاف مہم کو تاجک معاشرے میں اسلامی ثقافتی طریقوں کو اپنانے اور سیکولر روایات کے تحفظ کی وسیع تر حکومتی مہم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 99 فی صد تاجک آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے تاہم سوویت یونین اقتدار کے 70 سالوں کے دوران سرکاری طور پر مذہب مخالف رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
اسلامی روایات کے خلاف مہم نے خواتین کو بھی متأ ثر کیا ہے ۔ اسکولوں اور جامعات میں حجاب لینے پر سرکاری پابندی بھی عائد ہے لیکن عملی طور پر یہ قانون تمام ریاستی اداروں میں نافذ ہے۔ حکومت نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سیاہ لباس بھی نہ پہنیں۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے بھی تاجک باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ملکی روایات کے تحت عبادت نہ کریں۔ غیر ملکی ثقافت کی پیروی نہ کریں۔ اور سیاہ رنگ کی بجائے روایتی رنگوں اور ڈیزائن کے کپڑے پہنیں۔ یہاں تک کہ سوگ یا ماتم میں بھی تاجک خواتین کوسفید رنگ پہننا چاہئے نہ کہ سیاہ رنگ۔ حکام نے اس سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کے عربی یا غیر ملکی طرز کے ناموں کے بجائے روایتی تاجک نام رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اس طرح کا طرز عمل ہے جو لوگوں کو بنیاد پرست بننے پر اکساتا ہے۔