سرو سوئے گلستاں آید ہمے

دوستو، تاجکستان کے دیہی علاقے رشت سے مسافر کا سلام و آداب قبول کیجیے۔ یہ علاقہ دریائے پنج کی وادی میں واقع ہے جو بنیادی طور پر سلسلہ کوہ پامیر کے گلیشیروں کے پگھلنے کے عمل سے لاکھوں سال میں وجود پزیر ہوئی ہے۔ رشت کا صدر مقام "غرم" ہے جسے چاروں جانب سے اونچے اونچے پہاڑوں نے کچھ اس طور اپنی آغوش میں لے رکھا ہے کہ ہر چند کہ سال بھر یہاں چوٹیوں پر جمی برف دکھائی دیتی ہے، وادی میں کبھی سردی بہت شدت سے نہیں پڑتی۔ کچھ یوں سمجھ لیجئیے کہ ایبٹ آباد، لورالائی، ژوب جیسا موسم ہے. پہاڑوں پر سرو، سفیدے اور صنوبر کے درخت آبادیوں کے آس پاس لگے ہوئے ہیں۔ دیہات کے نام عجب دلفریب سے ہیں، گل ریز، مزار بالا، میدان، غنچہ گاہ وغیرہ. اس علاقے میں گزشتہ چند سالوں سے گلیشیر پگھلنے کے سبب ایک مخصوص طرز کے سیلاب بڑھ گئے ہیں جن میں پانی سے زیادہ کیچڑ اور چٹانوں کا ریلا آ کر گھروں، فصلوں اور متعلقہ تنصیبات کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسے ہمارے دھندے کی زبان میں "گلوف" کے مخفف سے جانا جاتا ہے۔ اس معمولی قصبے تک بھی سوویت یونین کے زمانے کی بنی ہوئی اعلی معیار کی سڑک آتی ہے۔

یہاں کی دیگر سہولیات کے بارے میں تو کوئی تجربہ نہیں مگر قصبے کے مختصر بازار میں ایک عدد طبی تعلیم کا ادارہ، ایک عدد تکنیکی تعلیم کا کالج، بچوں کے متعدد مکتب اور ثقافتی مرکز موجود ہیں۔ آج اور کل کا دن دور دراز متاثرہ علاقوں، نودی، تاجک آباد، مزار بالا، مزار پایاں اور نذر زادہ میں گزرا ۔ ان علاقوں کی بود و باش، جغرافیائی حالات اور لوگوں کے نین نقش بہت کچھ ہمارے وطن مالوف بلوچستان کے لوگوں سے ملتے جلتے ہیں۔ مگر یہ مشابہت بس یہیں تک ہے۔ ہر گاؤں میں عظیم الشان سکول، مع کھیل کے میدان کے موجود ہے اور بچے اور بچیاں جوق در جوق سکول جاتے نظر آئے۔ ہر جگہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ زراعت، کاروبار، تعلیم، صحت کے شعبوں میں سرگرم عمل نظر آئیں ۔ اگرچہ سوویت یونین کو مرحوم ہوئے چھبیس سے زیادہ برس ہوئے مگر اس دور میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کی کھرچن جا بجا نظر آتی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے گاؤں تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ پکی نالیاں آبپاشی کے لئے جا بجا موجود ہیں، اگرچہ اکثر آزادی کے بعد سے عدم توجہ کے سبب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

ملک میں ایک بد عنوان آمریت کا تسلط ہے جس میں سوویت یونین کے زمانے کی جبریت تو جوں کی توں قائم ہے مگر فلاحی ریاست کا تصور بکھر چکا ہے۔ اس کے باوجود یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سرکار تقریباً تمام متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر نئی قیام گاہیں بنا کر دے رہی ہے جو ان کے پرانے گھروں سے بدرجہا بہتر ہیں، بلکہ تمام ضروریات زندگی بشمول فرج، ٹی وی، اور اثاث البیت بھی بہم پہنچا رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک جانب اس قدر فیاضی، مگر ان گھروں کے بیت الخلا اور باورچی خانے کی تعمیر متاثرہ لوگوں کے اپنے ذمے ہے۔ اسی طرح اندازہ ہوا کہ کچھ جگہوں پر پینے کے پانی اور بجلی کی فراہمی کو خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، حالانکہ ان پر آنے والی لاگت، مکان بنانے اور انہیں آراستہ کرنے کے مقابلے میں معمولی ہے.

ہمارا قیام سوویت یونین کے زمانے کے بنے ہوئے ایک سرکاری مہمان خانے میں ہے جو سوویت یونین کی روایات کے مطابق عظیم الشان مگر خاصا غیر آرام دہ ہے۔ تمام تر توجہ عمارت کو حسین اور متاثر کن بنانے پر دی گئی ہے مگر نلکوں میں پانی کی ایک معمولی دھار آتی ہے، پلنگ نیم شکستہ ہیں، وغیرہ۔ ہمارا ہم کار پرویز سعید نامی نوجوان ہے جو روسی، انگریزی اور فارسی پر یکساں قادر ہے۔ وہ اس حوالے سے بہت خوش ہے کہ ہماری لنگڑی لولی فارسی کی استعداد کے سبب اسے ترجمانی کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی۔ آج اس وادی میں ہمیں اپنا کام ختم کرتے کرتے سہ پہر ہو گئی اور ہمارے ادارے کے حفاظت پر مامور اہل کاروں نے ہمیں ایک رات اور یہاں قیام پر مجبور کر دیا ہے۔ کل تاجکستان کا یوم آزادی ہے ۔ دیکھیں کہ بقول مرحوم بھٹو، آزادی موہوم اس ملک میں مزید کیا رنگ دکھاتی ہے.

(جاری ہے)