یورپی یونین میں سنسر شپ
مستقبل میں یورپی یونین پر تننقید کرنے والے، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو ٹیلیویژن مباحثوں میں شامل ہونے سے روکا جئے گا۔ یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز Martin Schulz نے خواہش ظاہر کی ہے کہ یورپی یونین کی مخالفت میں بولنے والے یورپی یونین کے ایسے ارکان کو ٹیلیویژن پر ہونے والے مباحثوں سے فوراً ہٹا د یا جانا چاہیے جو یورپی یونین کے اتحاد کے خلاف علامات یعنی یورپی اتحاد مخالف ٹی شرٹ یا بینر وغیرہ کے ساتھ مباحث میں شریک ہوتے ہیں۔
یورپی یونین کے صدر کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو بتایا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو ٹیلیویژن پر بحث کے دوران یونین پر تنقید کرنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدام پر غور ہو رہا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ بات عین اُس وقت سامنے آئی ہے جب یورپی یونین میں شمولیت کے سوال پر برطانیہ میں ریفرنڈم کی تحریک زوروں پر ہے ۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے تو یہ جمہوریت اور معلومات عامہ کے فروغ کے لیےخطرہ ہوگا ۔ کیونکہ یورپی پارلیمنٹ کی ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والے کارروائی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے توسط سے لوگوں کو یہ معلوم ہو تا ہے کہ برسلز اور سٹراسبرگ میں کیا ہو رہا ہے۔ مجوزہ طریقہ کار پر کافی تشویش پائی جا رہی ہے لیکن اس پر تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ یورپی یونین کی حامی حکومتیں یہی چاہتی ہیں کہ یونین کے مخالفین کی آواز دبا دی جائے ۔
مارٹن شلز Martin Schulz نے اب حکم جاری کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی کارروائی کو فلم بند اور براہ راست نشر کرنے والے کیمروں کی تعداد کم کردی جائے اور پارلیمنٹ کے وہ ارکان جو اُن کے بقول خود کو سنبھال کر نہیں رکھتے اور مناسب طریقے سے کارروائی میں حصہ نہیں لیتے ان کی ’’ کوریج فی الفور روک دی جائے۔‘‘ اِس کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ کے صدر یہ بھی چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں میں اپنا پیشہ وارانہ کام کرنے والے اخباری فوٹو گرافروں کی تعداد بھی بہت کم ہونی چاہیے۔
یورپی پارلیمانی امور کے ماہرین و مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے سوال پر برطانیہ میں کرائے جانے والے ریفرنڈم کی تاریخ جوں جوں قریب آ رہی ہے، برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے صدر اور یونین کے حامی پارلیمانی ارکان کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اور برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالف برطانوی پارٹی’’ یوکے آئی پی‘‘ ایک بڑی قوت بنتی جا رہی ہے جو یورپی پارلیمنٹ کے اندر بھی ایک ٹھوس آواز بن چکی ہے۔ اس کی بازگشت برطانیہ کے ایوان اقتدار تک بھی پہنچنے لگی ہے۔ یونین کے بعض دوسرے ممالک مثلاً ہالینڈ، فرانس اور ڈنمارک و سویڈن وغیرہ میں امخالفت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے صدر کی جانب سے یونین مخالف آوازوں کو روکنے کے لیے دی گئی دھمکی خاص کر ’’ یو کے آئی پارٹی ‘‘ کے ارکان کے خلاف ہے ۔ اس پارٹی کے ارکان نے پچھلے سال موسم گرما میں ایک پارلیمانی اجلاس کے دوران ایسے بینر پارلیمنٹ میں لہرائے تھے جن پر یونان کے لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں ہونے والے یورپی یونین کے معاہدے کے خلاف ریفرنڈم میں ووٹ دیں ۔ یہ برطانوی پارٹی اس سے پہلے بھی یورپی پارلیمنٹ میں اسی طرح کی کئی ایک مثالیں قائم کر چکی ہوئی ہے ۔ ایسے احتجاجی اقدامات میں اسے ڈنمارک سمیت دوسرے رکن ممالک کی ان پارٹیوں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے جو یورپی یونین کے خلاف ہیں۔
یہ صورت حال برسلز میں افسر شاہی کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے اور وہ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے نئی نئی ترکیبیں پیش کرتے ہیں۔ یہ عناصر اب سراسر غیر جمہوری طریقوں پر اُتر آئے ہیں ۔ اِن اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی نشریاتی و اخباری آزادی کو محدود تر کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہی کو ایک طرح سے ’’ بے آواز اور ایک بند پارلیمنٹ‘‘ بنا دیا جائے گا۔ یہی ’’سنسر شپ‘‘ ہوتی ہے۔ اسی کے نفاذ کے لئے اب یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز نے فوری ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ اس سلسلے میں اگر ضوابط لاگو کر دئے جاتے ہیں تو نہ صرف یورپی پارلیمنٹ کے اندر یونین کے خلاف بولنے اور اس پر تنقید کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کا منہ بند کردیا جائے گا بلکہ یونین کے رکن ممالک میں بھی یورپی یونین کی مخالفت کرنے والی تحریکوں کو دھچکہ لگے گا ۔
یہ یورپی یونین کے جمہوری تسلط Totalitarianism کی زندہ مثال ہوگی۔ اس طرح وہ یورپی یونین پر تنقید کرنے اور اس کے خلاف بولنے والوں پر یورپی یونین کے اندر ’’ سنسر شپ ‘‘ لگا دینا چاہتی ہے اور ان کے پیغام کو لوگوں تک پہنچے سے روک دینا چاہتی ہے۔ سوال ہے کہ کیا یہی وہ اظہار خیال کی آزادی ہے جس کی پاسداری کا ڈھنڈورا پیٹا باتا ہے؟
( نصر ملک ڈنمارک سے شائع ہونے والے انٹر نیٹ اخبار ارو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے، کے مدیر ہیں اور یورپی امور پر مہارت کے حامل ہیں)