سفر عمرہ کا احوال (3)

مکہ مکرمہ میں ہمیں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی لیکن مدینہ منورہ میں ہوٹل کی رہائش مہیا کرنے والے پاکستانی کمپنیوں کے ملازمین نے ہمارے ساتھ بھی وہ کھیل کھیلنے کی ناکام کوشش کی جو وہ حاجیوں کے ہر نئے گروپ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو حاجی معاملات کو سمجھتے ہیں ان کے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی کوشش کرے تو وہ تو حالات سے نمٹ لیتے ہیں لیکن نئے اور ناتجربہ کار حاجیوں کو طرح طرح کے مسائل میں الجھایا جاتا ہے۔

اس وجہ سے وہ سخت ذہنی تشدد کا شکار ہو کر یکسوئی کھو دیتے ہیں۔ سب سے بڑا فراڈ رہائش کے حوالے سے کیا جاتا ہے اور ساتھ یہی نو سر باز حاجیوں کو صبر کا درس دیتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوٹل کے پاکستانی ملازمین دیکھتے ہیں کہ مہمان شریف اور نئے ہیں تو ان کے اوپر سب سے پہلا دھماکہ یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ جی آپ کے ایجنٹ نے تو آپ کی ہوٹل بکنگ کروائی ہی نہیں۔ وہ آپ کے پیسے کھا گیا ہے۔ لہذا آپ کو اگر رہائش چائیے تو از سر نو بکنگ کروانی پڑے گی۔ جس کامطلب ہے کہ دوبارہ اتنے پیسے دینے پڑیں گے جتنے پاکستان دے کر آئے تھے۔ پیسے بٹورنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر کمرے سے میز اور کرسیاں نکال کر ان کی جگہ مزید بستر لگا کر ذیادہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح چار بستر والے کمرے میں کم از کم سات آٹھ بستر لگا دئیے جاتے ہیں ،جہاں سب سے بڑی غیر انسانی زیادتی یہ ہوتی ہے کہ خواتین کو یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ آپ کا محرم آپ کے ساتھ ہے لہذا اسی کمرے میں کسی نا آشنا مرد پر آپ کو اعتراض نہیں ہونا چائیے۔

مکہ مکرمہ میں بے شمار لوگوں نے اس طرح کی کہانیاں مجھے سنائی تھیں او ر چند ایک کی ہم نے مدد بھی کی ۔ اس لیے جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم ذہنی طور پر کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ مدینہ منورہ میں ہمارا ہوٹل الساعتہ الوعتہ تھا جو حرم شریف کے گیٹ نمبر 22سے شروع ہونے والی کنگ فہد روڈ کے دوسرے کونے پر واقع تھا۔ ذاتی دوکاروں پر ہمیں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ لے جانے والے راجہ راشد اور راجہ ساجد خان نے کاریں نبی کریم ﷺ کے نامور صحابی حضرت بلال کے نام پر قائم مسجد کی پارکنگ میں کھڑی کیں۔ ہم مسجد نبوی میں عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہوٹل پر گئے۔ اصولی طور پر ہمارے کمرے ہوٹل پہنچنے سے پہلے ہی تیار ہونے چا ہئے تھے، کیونکہ ہم نے ہوٹل بکنگ کی قبل از وقت ادائیگی کی ہوئی تھی ۔ لیکن ہمیں استقبالیہ میں بتایا گیا کہ ہمارے گروپ کی ذمہ داری جس پاکستانی کے پاس ہے وہ فی الحال ہوٹل پر موجود نہیں ہے۔ پندرہ منٹ انتظار کے بعد میں نے اسقبالیہ میں موجود فرد کو بتایا کہ ہم نے کسی فرد نہیں ہوٹل کے ساتھ بکنگ کروائی ہوئی ہے۔ ہمارے ساتھ خواتین ہیں ہم انہیں مزید گیٹ پر کھڑا نہیں رکھ سکتے۔ کافی دباؤ کے بعد ملتان سے تعلق رکھنے والاادریس نامی نوجوان آیا تو اس نے کمرے کی صفائی کے لیے مزید پندرہ منٹ مانگے۔

نصف گھنٹہ بعد بھی جب کمرہ نہ ملا تو میں نے ادریس کو کہا کہ اسے معلوم تھا کہ ہم آ رہے ہیں۔ اسے کمرہ تیار رکھنا چائیے تھا۔ غیر ضروری بحث و تکرار کے بعد جب وہ ہمیں کمرے میں لے گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اس کمرے میں پہلے سے ہی ایک مرد سویا ہوا تھا اور ایک باہر گیا ہوا تھا ۔ ادریس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی کہ میرے ساتھ تین خواتین ہیں۔ میرے اعتراض پر ادریس نے کہا کہ ہم اس سے نہیں بلکہ پاکستان میں بکنگ کرنے والے ایجنٹ سے شکایت کر سکتے ہیں، جس نے ہمارے لیے شئیرنگ کمرہ بک کروایا ہے۔ میں نے ادریس کو سمجھایا کہ وہ اس عجیب منطق کو چھوڑ کر عقل سے کام لے اور شئیرنگ کی جو تعریف وہ کر رہا ہے وہ اس کی اپنی ہے۔ شئیرنگ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی خواتین سمیت غیر مردوں کے ساتھ کمرہ شئیر کریں بلکہ شئیرنگ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی خواتین کے ساتھ ایک کمرے میں رہیں گے اور کمروں کے سائز کے مطابق کسی بھی کمرے میں چار سے زائد چارپائیوں کی جگہ نہیں ۔ لیکن اس نے جیسا کہ میں نے سن رکھا تھا، کمرے سے میز اور کرسیاں نکال کر مزید تین بستر لگائے ہوئے تھے۔ جب وہ اپنی بات پر اڑا رہا تو میں خواتین کے سامنے اس کی بے ہودہ باتیں سننے کے بجائے اسے استقبالیہ میں لے گیا اور اسے بازو سے پکڑ کر کہا کہ ہم عمرے کی سعادت حاصل کرنے آئے ہیں اس لیے ہم صبر کا مظاہرہ کر رہے جسے وہ ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ تلخی پیدا نہ ہوا لیکن ادریس کو اس وقت تک عقل نہ آئی جب تک میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کہا کہ بھائی میں پہلی دفعہ گھر سے باہر نہیں نکلا نہ پہلی دفعہ عمرے پر آیا ہوں۔ میں ہوٹلنگ سسٹم اچھی طرح جانتا ہوں۔ اگر پانچ منٹ کے اندر اندر ہمیں کمرہ نہ ملا تو میں پولیس کو بلاؤں گا۔ اس طرح اسے نوکری سے بھی شاید ہاتھ دھونے پڑیں۔ اس پر ادریس نے کہا اچھا بھائی مگر صرف آپ کے لیے۔ میں نے سوچا پہلے میں کمرہ لے لوں پھر میں اس کا کام تمام کرتا ہوں اور وہی کیا ۔

ادریس کا حشر دیکھنے کے باوجود استقبالیہ پر موجود دوسرے ملازم سے جب میں نے کمرے کی چابی مانگی تو وہ کہنے لگا صفائی والے نے صفائی کرتے وقت چابی جیب میں ڈالی اور وہ چھٹی کر کے گھر چلا گیا ہے۔ مگر میں فکر نہ کروں کچھ نہیں ہو گا۔ میں نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ کمروں سے سامان چوری ہوتا ہے اس لیے میں نے اسے کہا مجھے چابی چا ہئے ۔ یہ اس کا مسئلہ ہے کہ وہ کہاں سے لائے۔ اگر نہیں تو ہمیں وہ کمرہ دو جس کی چابی موجود ہے۔ چند منٹ بعد وہ کیبن سے چابی لے آیا ۔ اس کے بعد آٹھ دن ہم مزے سے اس ہوٹل میں رہے اور جو بھی مہمان ہمیں ملا اسے ہم نے کہا کہ اگر کوئی ہوٹل ورکر ان سے ذیادتی کرے تو وہ ہمیں بتائے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ لے جانے اور واپس لانے والی بسوں کے اکثر ڈرائیورز بھی پاکستانی ہیں۔ بعض زائرین کے ساتھ بچے اور بزرگ بھی ہوتے ہیں۔ بس تقریبا چھ گھنٹے لگاتی ہے۔ اس دوران اگر کسی بچے کو یا شوگر کے مریض مسافر کو واش روم میں جانے کی ضرورت پڑے تو ڈرائیور بے رخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں بس صرف مخصوص ہوٹل پر رک سکتی ہے ، حالانکہ ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

وطن واپسی پر میں نے چند ایک عمرہ پیکج ایجنسیوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ انہیں بھی اس طرح کی زیادتیوں کا علم ہے لیکن انہوں نے اس بارے کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ جی کون نوٹس لیتا ہے اور اسی وجہ سے نو سر باز اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ البتہ ہم نے حکومت پاکستان اور سعودی سفیر متیعن پاکستان کو لکھا ہے کہ وہ اس بارے ضروری اقدامات اٹھائیں۔