دار سے اقتدار کی پارٹی

کچھ عرصے سے یہ خبریں گرم ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی تنظیم نو کا آغاز کرنے والی ہ۔، اس کے لیے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قمرالزمان کائرہ پریس کے ذریعے مطلع بھی کر رہے ہیں اور پنجاب میں تنظیم نو کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چند ہمدرد اس بات پر یقین کر چکے ہیں کہ بلاول زرداری کی قیادت میں پارٹی ذوالفقار علی بھٹو شہید یا محترمہ بینظیر بھٹو کی طرز پر ایک منظم تنظیمی ڈھانچہ دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جبکہ پارٹی کے ایک بڑے ہمدرد طبقے کو ایسی توقع نہیں اور وہ پارٹی کے حوالے سے ایسی تنظیم سازی سے توقعات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس طبقے کو پاکستان پیپلزپارٹی سے اپنے تعلق اور وابستگی پر فخر تو ہے لیکن وہ موجودہ قیادت سے نالاں ہی نہیں بلکہ اس کو کرپٹ، نااہل اور ایسے لوگوں کی قیادت سمجھتا ہے جن کا پاکستان پیپلزپارٹی سے نظریاتی، فکری حتیٰ کہ جذباتی تعلق بھی نہیں۔ وہ موجودہ قیادت کو پارٹی کے نظریے، فکر اور سیاسی ورثے کی ضد تصور کرتا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی تنظیم نو ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ جن لوگوں کو پارٹی کی تنظیم نو کے حوالے سے ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ کسی ایک انتخابی حلقے میں پارٹی کو کامیاب تو کروا سکتے ہیں، لیکن ان کے اندر وہ صلاحیت موجود نہیں جو ایک عوامی جماعت کی تنظیم نو کے لیے درکار ہے۔ پارٹی کی پنجاب میں تنظیم نو کرنے والے لوگ اپنے اپنے حلقوں میں تو کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ان کے بس کی بات نہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کو پنجاب کی سطح پر بطور سیاسی طاقت تسلیمکروانے  اور اس کی مقبولیت بحال کروانے میں کامیاب ہو سکیں۔ جو پارٹی کو طاقت، تنظیم اور مقبولیت ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں تھی۔ پارٹی کے حقیقی قائد آصف علی زرداری ہیں۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ پیپلزپارٹی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر لے۔ ان کو صرف یہ غرض ہے کہ کسی طرح بھی ممکن ہو پاکستان پیپلزپارٹی قومی یا صوبائی سطح پر کہیں بھی اقتدار کی پارٹی بن کر موجود رہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کھوئی ہوئی مقبولیت، طاقت، عوامی قبولیت کے باوجود ابھی بھی ایسی جماعت ہے جو اقتدار یا اقتدار میں شامل رہ سکتی ہے۔ لیکن اب یہ وہ پارٹی نہیں جو مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں، درمیانے طبقات اور دانشوروں کے اتحاد سے سماج میں ایک سیاسی تحریک کے ذریعے سماج کے اندر ایک سوشل ریفارمر  Social Reformer کا ویسا کردار ادا کرے، جیسے یہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔ یعنی رجعت پسندی، شدت پسندی، جنونیت، سامراجیت، جاگیرداری، سرمایہ داری، حکمران طبقات، استحصال اور ناانصافی کے خلاف ایک عوامی سیاسی تحریک کا کردار۔ اب تو یہ جماعت آصف علی زرداری کے فلسفے پر گامزن ہے۔ یہ فلسفہ ’’اقتدار اور کسی بھی طرح کا اقتدار‘‘  کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی جیسے بھی ممکن ہو سٹیٹس کو میں حصہ دار رہا جائے۔ ایسے میں ایسی تنظیم سازی کی خبریں اور کوششیں صرف اشک شوئی Eyewash ہے۔ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کی حقیقی قیادت پارٹی کی تنظیم سازی اور اس کو عوامی وبولیت کے ڈھانچے میں  بحال کرنے کی خواہاں ہوتی تو پارٹی کے اندر ان لوگوں کو یہ فریضہ سونپتی جو ماضی میں اس پارٹی کا حقیقی سرمایہ رہے ہیں۔ ایسی قیادت ہر سطح پر موجود تو ہے، لیکن غیر متحرک، مایوس اور ان کے ہاتھوں میں پارٹی کی ذمہ داریاں نہیں ہیں۔

اگر ہم پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ دیکھیں تو اس کو عوامی پارٹی بنانے میں ان لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا جو انتخابی حلقوں کی سیاست سے بالاتر ہو کر اس کے لیے دن رات، ملک کے کونے کونے میں تنظیم سازی کرتے رہے۔ جبکہ حال ہی میں جن چند لوگوں نے تنظیم نو کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ صرف اپنے انتخابی حلقوں کے اسیر ہیں۔ بھلا یہ کیا جانیں کہ عوامی جماعتیں کیسے منظم کی جاتی ہیں اور نہ ہی ان کی یہ خواہش ہے۔ عوامی جماعتوں کی تنظیم سازی وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنے انتخابی حلقوں اور Careerists (پارٹی کی قیادت یا اقتدار کے خواہاں) نہیں بلکہ پارٹی کو نچلی سطح تک منظم کرنے کا تجربہ یا یقین رکھتے ہیں۔ انتخابی حلقوں میں فتح اور ٹی وی چینلز میں شاندار گفتگو کرنے والے ایسے چند لوگوں کا عوامی جماعتوں کو تنظیم سازی کے ذریعے انتخابی جماعت بنانے سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اس میں کوئی عار نہیں کہ وہ مستقبل قریب میں طاقتور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں کردار ادا کرے۔ مقصد و منزل اقتدار حاصل کرکے دولت کے انبار بڑھانا ہے نہ کہ عوامی سطح پر دولت کی جائز تقسیم۔ وہ پارٹی لد گئی جو کسانوں اور محنت کشوں کی پارٹی تھی۔ موجودہ پارٹی کا ذوالفقار علی بھٹو سے تعلق صرف اتنا ہی ہے کہ ان عظیم لوگوں کی تصاویر کو پوسٹرز اور بینرز پر لگا کر عوام کے ایک بڑے طبقے کو اپنا حمایتی بنایا جائے۔ کہاں ذوالفقار علی بھٹو اور کہاں آصف علی زرداری۔ وہ دار پر جھول جانے والے تھے اور یہ اقتدار کے جھولوں میں جھولنے کے خواہاں۔ اُن کی جھولیاں خالی اور اِن کی جھولیاں مال و دولت سے بھاری ہوتی جارہی ہیں۔ وہ عوام کے لیے مرتے تھے اور یہ عوام کو اپنے لیے مرنے کا کہتے ہیں۔ یہ وہ پارٹی ہی نہیں جو محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے چھوڑی۔ یہ تو ایک نئی پارٹی ہے۔ پاکستان کے ’’کامیاب حکمران‘‘ کی پارٹی، جس نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کرنے پر داد لیتے ہوئے پارٹی کی ساکھ، مقبولت، نظریے، عوامیت کو قربان کر دیا۔ ذراغور سے دیکھیں، آصف علی زرداری کا سفرِسیاست اور کاروانِ سیاست کے ہمراہی، تو معاملہ سمجھ آجائے گا۔