بھارت میں نشہ کی عادی نوجوان نسل
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 19 / اپریل / 2016
- 6702
انسان کو لگنے والی کسی بھی طرح کی لت اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ عموماً یہ لفظ استعمال بھی منفی معنوں میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود مختلف افراد اپنے ذوق کے لحاظ سے مختلف طرح کی لتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اور توجہ دلانے کے باوجو د ان کے لیے اپنی مخصوص لتوں سے چھٹکارا ایک اہم مسئلہ بن سامنے آتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات مذہبی امور میں بھی انسان نہ جانے کون کون سی بری عادتوں میں ملوث ہوجاتا ہے۔ نتیجہ میں مذہب کے اُس آفاقی تصور سے نالاں رہتا ہے، جومطلوب ہے۔ ان عادات سے چھٹکارے کی خواہش اورسعی و جہد کے باوجود اگر فردیا گروہ کی صحیح رہنمائی نہ کی جائے تو عین ممکن ہے کہ ایک لت سے نکل کر دوسری اور دوسری سے نکل کر تیسری لت میں وہ مبتلا ہوجائے ۔ دیکھا جائے تو منزل مقصود تک نہ پہنچنے کے عموماً دواسباب بیان کیے جا سکتے ہیں ۔ 1: صحیح رہنما کی کمی، 2: عزیمت کا فقدان۔ پھر ان اسباب کے پس پشت بھی دو بڑے اسباب کارفرما ہیں۔ 1: خلوص نیت کی کم یابی اور 2: مناسب رہنما کا نہ ملنا۔
ہندوستان میں نشہ کی لت وباعام ہے۔ نشہ کی ایک شکل گانجہ ، چرس، بھانگ، ہیروئن اورافیون ہے جس کے عادی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بیڑی ، سگریٹ اور شراب نوشی میں مبتلا افراد کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ نشہ کی ایک اورشکل گٹکہ ہے۔ گزشتہ دودہائیوں میں گٹکہ کی وبا عام ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ یہ ایک مکمل انڈسٹری بن چکی ہے ۔ہندوستانی معاشرہ میں نشہ آور اشیاء کا ستعمال قابل گرفت نہیں ہے۔ ہندو معاشرہ میں خوشی کے مختلف مواقع پر نشہ آور اشیاء کا کھلے عام استعمال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض تہواروں کی ادائیگی مراسم میں نشہ شامل ہے۔اور اگر ایسے مواقع پر نشہ نہ کیا جائے تو وہ تہوار ہی نامکمل کہلائے گا۔ مثلاً ہولی کے موقعہ پر دیسی شراب کا استعمال عام بات ہے۔ اگر فرد صاحب حیثیت ہے تو انگریزی شراب اس کے اسٹیٹس کوبڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ معاشرتی سطح پر اور نہ ہی مذہبی بنیادوں پر شراب یا نشہ آور اشیاء کا استعمال معیوبنہیں سمجھا جاتا ۔ ہندو معاشرہ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں کہ سادھو اور بھکت نشہ کرتے ہیں اور غالباً وہ اس کو عبادت کی انجام دہی میں معاون سمجھتے ہیں۔ ویدوں میں چند نشہ آور پودوں کے نام بھی آتے ہیں جن کا استعمال ان کے مخصوص دیوتاکرتے تھے۔ لہذامخصوص مواقع پر نشہ کو بھی عبادت کا حصہ مان لیا گیا ہے۔
اس پس منظر میں یہ کیسے ممکن ہے کہ نشہ کو ہندو یا ہندوستانی معاشرہ سے مکمل طور پر الگ کیا جاسکے۔ نشہ آور اشیاء نہ صرف انسان کے دماغ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اس کے دل، گردے اور پھیپڑوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچاتی ہیں۔ نشہ کے عادی افراد کو کینسر ہونا عام بات ہے۔ نشہ کے عادی افراد کی 2.4ملین تعداد ایسی ہے جو HIV Positiveسے متاثر ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان فی الوقت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں ایچ آئی وی پازیٹیو انفیکشن ان افراد کے ذریعہ پھیل رہا ہے جو نشہ کی لت میں مبتلا ہیں۔ قانونی اعتبار سے ہیروئن کا استعمال کرنے والوں میں ہندوستان بھی، ایران ، پاکستان اور چین کے ساتھ سرفہرست ہے۔ دنیا میں ہیروئن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک برما اور افغانستان ہیں۔ جو ہندوستان سے بالکل قریب ترین ہیں۔ اس اعتبار سے ہیروئن کا ہندوستان میں غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونا اور کاروباری شکل اختیار کرنا دوسرے ملکوں کی نسبت آسان ہے۔ نشہ آور اشیاء میں ہیروئن ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔
نشہ کی بچوں میں بھی عام ہے۔ ان میں غربا اور اشرافیہ کے بچے یکساں طور سے شامل ہیں۔ ہندوستان میں نشہ کی لت میں مبتلا افراد میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ۔موجودہ حکومت کا یہ خواب ہے کہ 2020ء تک دنیا کا طاقتورملک بن سکے ۔ اس خواب کی حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ نتیجہ میں ذہنی تناؤ میں مبتلا افراد کی تعداد روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ ایسے نوجوان ہیں جو بے روزگار بھی ہیں اور ذہنی تناؤ اور دباؤ کا شکار بھی۔ آج نشہ صرف مزہ حاصل کرنا اور تناؤ دور کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کی ایک ضرورت بن چکی ہے۔ نشہ کے بغیر وہ اپنی روز مرہ زندگی کو نامکمل سمجھتے ہیں۔ خطر ناک بات یہ ہے کہ نشہ آور اشیاء ہوٹلوں،عام دکانوں اورتعلیمی اداروں کے قرب و جوار میں بہت آسانی سے دستیاب ہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ آن لائن خریداری کی ویب سائٹس پر نشہ آوراشیاء مختلف کوڈ ورڈس میں دستیاب ہیں۔ جنہیں بہت آسانی کے ساتھ بغیر کسی رسک کے ہوم ڈلیوری کے ذریعہ گھر بیٹھے منگایا جا سکتا ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر نوین گرور کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں نشہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ بدلتی طرز زندگی، برے دوستوں کا ساتھ، خاندانی دباؤ،ماں باپ کے جھگڑے، انٹرنیٹ پر گھنٹوں وقت صرف کرنا اور خاندانی تضادات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ، نوئیڈا، گڑگاؤں، فریدآباد اور غازی آباد جیسے علقوں میں نشہ عام ہے۔ آج ملک کا نوجوان نشہ آور اشیاء کا استعمال بڑے پیمانہ پر کررہا ہے۔ اس کے سنگین سماجی، معاشی اور نفسیاتی نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔
ان حالات کو بدلے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔