گر بہ گنج اندر زیاں آید ہمے

دوستو، مسافر اب تک دوشنبہ میں ہی پھنسا ہوا ہے۔ ارادہ تو یہ تھا کہ گورنو بدخشاں جا کر، پیشہ ورانہ امور کی بجا آوری کے علاوہ پامیر کے غروب آفتاب کو دیکھا جائے کہ آیا وہ لعل کے ڈھیر ویسے ہی گلگوں لگاتا ہے جیسے کہ علامہ اقبال نے چشم تصور سے دیکھا تھا مگر اے بسا آرزو.... اس آرزو کے اب تک خاک میں دبے رہنے کی وجہ افسر شاہی کا وہ نالائقی پر مبنی نظام ہے جو ان تمام حکومتوں کا خاصا ہوتا ہے جن کے ہاں جواب دہی کا کوئی سلسلہ نہ ہو۔ ہمارے دفتر نے کئی روز پہلے ہمارے اس ’حساس‘ علاقے میں جانے کے لئے اجازت نامے کی درخواست کی تھی جو متعلقہ اہل کاروں کی گوناگوں مصروفیات کے سبب کہیں دبی رہی۔ اب جب کہ اس کے ملاحظے کی باری آئی تو پتا چلا کہ جن تاریخوں کے لئے درخواست دی گئی تھی، وہ گزر چکی ہیں۔ چنانچہ کل سے یہ اجازت نامے کا کھٹ راگ پھر سے بجایا جائے گا۔ امید ہے کہ اگلے ہفتے تک کچھ پیش رفت ہو جائے تو ہم عید اور اپنی سالگرہ پامیر کی وادیوں میں جا منائیں۔

اس دوران آپ کی یاد سے غافل نہیں رہا۔ آپ کو یاد ہو گا، دوشنبہ سے لکھے گئے پہلے محبت نامے کا سرنامہ ہی رودکی کے معروف قصیدے سے لیا تھا، ’یاد یار مہرباں آید ہمے‘۔ آج ارادہ تھا کہ اسی قصیدے کی ایک سطر آپ کی نذر کی جائے۔ ’گر بہ گنج اندر زیاں آید ہمے‘۔ مگر اب استاذی ڈاکٹر سلیم مظہر صاحب نے ابوالحسن احمد سمرقندی ملقب بہ نظامی عروضی کی 1156ء میں تصنیف کی گئی کتاب ’چہار مقالہ‘ کے باب دوم ’شعر کی ہیئت‘ کا حوالہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ مصرع سرے سے رودکی کے قصیدے کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو امیر نصر بن احمد سامانی کے کسی چپڑ قناتیے درباری شاعر کی تضمین ہے۔ اچھاصاحب ، ڈاکٹر سلیم مظہر سچے اور نظامی عروضی صاحب سچے.... ہم اور آپ جھوٹے۔ مگر ہم تو پھر بھی یہی کہیں گے کہ ’گر بہ گنج اندر زیاں آید ہمے‘۔ مطلب یہ کہ ہم ایسے غریب الدیار مسافر آپ کو یاد کرتے رہیں گے تو آپ کے حسن خزانے میں کون سی کمی واقع ہو جائے گی۔ تو چلئے اب دوشنبہ کی کچھ بات ہو جائے۔

اس دوران اس ملک بلکہ اس شہر کو کچھ مزید کھنگالا ہے۔ ایک عجیب بات یہ نظر آئی کہ یہاں پانی فراواں ہے، زمین بھی زرخیز ہے مگر معمولی پیمانے پر آلو، پیاز، ٹماٹر کی کاشت اور کہیں کہیں پھلوں کے باغات کے سوا زراعت میں چنداں دل چسپی نہیں پائی جاتی۔ سبزیاں اور پھل اکثر درآمد شدہ ہیں، بشمول پاکستانی آلو.... اس کے باوجود وہ ہولناک غربت نظر نہیں آتی جس میں ہمارا کسان سخت محنت کے باوجود نسلوں سے گرفتار ہے۔ ہمارے دیرینہ ممدوح اور ان کے پرستار یہ سن کر مطمئن ہوں گے کہ دو چار لوگ بھیک مانگتے نظر آئے، مگر وہ آنکھوں سے محروم تھے یا عمر رسیدہ سابق فوجی، جن کی سرخ فوج کی پنشن تعطل کا شکار ہے۔ خیر، پتا چلا کہ لوگوں کی اوسط مرفہ الحالی کا راز یہ ہے کہ جواں عمر سے ادھیڑ عمر تک کے لوگ روس جا کر بطور ہنر مند، یا غیر ہنر مند محنت کش ملازمت کرتے ہیں جس سے اتنی یافت ہو جاتی ہے کہ اپنے اور گھر والوں کے اخراجات نکال کر بھی، دو تین سال میں مکان بن کر آراستہ ہو جاتا ہے اور گاڑی بھی خرید لی جاتی ہے۔

پچھلے سال سے روس کی معیشت تیل کی عالمی قیمت میں گراوٹ اور یوکرین کے تنازعے کے سبب لگنے والی تجارتی پابندیوں کی وجہ سے سکڑاؤ سے گزر رہی ہے جس کے سبب وہاں ملازمتوں کا کال پڑا ہوا ہے۔ اس لئے کچھ تنگی سی نظر آنے لگی ہے اور بے روزگاروں کی ایک فوج ہر قریے میں موجود ہے۔ آمرانہ حکومت نے اس کا کوئی دیرپا حل نکالنے کی بجائے ہمارے والا نسخہ آزمایا ہے اور بیرونی قرض لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔ ان میں ایک بڑا قرض خواہ چین ہے، جو اس قرض کے سمجھوتے کے تحت ایک بڑا پن بجلی کا منصوبہ تعمیر کر رہا ہے، جس میں ظاہر ہے کہ اکثر مزدور چینی ہوں گے۔ افواہ ہے کہ چینی کمپنیوں کو پٹے پر زرعی زمین بھی دی جا رہی ہے جس میں وہ بے دریغ ادویات، کیمیائی کھاد اور مبینہ طور پر جینیاتی تبدیل شدہ بیجوں کی مدد سے فصلیں اگائیں گے۔ کچھ دوستوں نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ اس بے روزگاری اور حکومتی بے حسی کے سبب ملک کے خصوصاً دیہی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی کا نفوذ ہو رہا ہے۔ ماضی قریب پر نظر رکھنے والے دوستوں کو علم ہوگا کہ یہ ملک پانچ برس خونریز خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور اس میں مذہب کا نعرہ بھی بے محابا استعمال ہوا تھا۔

وطن میں عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو سے متعلق فیصلے اور اس پر ہونے والی گرما گرم بحثوں کی کچھ تپش ہم تک بھی پہنچی ہے۔ اس بارے میں ہماری جو رائے ہے سو ہے، مگر اس حوالے سے تاجکستان کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، غالب زبان یہاں کی فارسی ہے۔ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے تک، جو مٹھی بھر لوگ یہاں خواندہ تھے، وہ اسے ہماری طرح عربی نما رسم الخط میں لکھتے تھے۔ یہ رسم الخط اپنی جمالیاتی خوب صورتی کے باوجود، علمائے لسانیات کے نزدیک خاصا گنجلک سمجھا جاتا ہے۔ کیوں گنجلک ہے؟ تفصیل کا یہاں موقع نہیں، معذرت خواہ ہوں۔ بہرکیف، اس ملک نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے یہاں سریلک (روسی/ یونانی) رسم الخط کو ذرا سا تبدیل کر کے رائج کر دیا جائے۔ اس کی مخالفت ظاہر ہے کہ صرف پڑھے لکھوں کے ایک حصے نے کی۔ باقی عوام تو یوں بھی الف کو لٹھ کہتے تھے اور ان کے لئے دونوں رسم الخط یکساں اجنبی تھے۔ خیر، یونانی رسم الخط کی تعلیم آسان ہونے، اور اس سے زیادہ حکومت کے خواندگی پھیلانے کے آہنی عزم کی وجہ سے چند برس میں شرح خواندگی سو فی صد کے قریب پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، روسی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم اختیار کیا گیا اور سوویت یونین میں ہونے والی تمام تر ریسرچ اور نصابی پیش رفت لوگوں کی دسترس میں آ گئی۔

اب تک ابتدائی تعلیم فارسی میں دی جاتی ہے اور روسی بطور زبان پڑھائی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں یہ ترتیب الٹ جاتی ہے۔ ہمارے لئے روسی رسم الخط میں فارسی پڑھنا ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ سب سے بڑی آسانی یہ ہے کہ اس میں اعراب سے متعلق تلفظ کی غلطی کا امکان صفر ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ لکھا ہو ’کتابچہ‘ اور کوئی اس پر سگ لیلیٰ کے نور نظر کا گمان کر بیٹھے۔ بے شک خالص عربی آوازوں کا اس میں خون ہو جاتا ہے کہ ’ز، ذ، ض، ظ‘ کے لئے ایک ہی علامت ہے۔’الف‘ اور ’ع‘ کا فرق نہیں اور ’کاف کلمن‘ و ’قاف قرشت‘ اور حائے حطی و ’ہائے ہوز‘ میں تفریق نہیں ہے، مگر احباب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہمارے ہاں ان آوازوں کے لئے حروف تہجی موجود ہونے کے باوجود، ہم میں سے کتنے ہیں جو انہیں عام گفتگو میں درست عربی مخارج کے ساتھ ادا کرتے ہیں، یا ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ ’ولاالضالین‘ اور’والدوالین‘ کے اختلاف پر مسجدوں میں دیوار کھنچ جاتی ہے۔

تاجکستان میں کچھ لسانی بنیاد پرست علما نے رسم الخط کی تبدیلی کے وقت یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ اس اقدام سے سعدی، عرفی، قانی، بیدل وغیرہ کا کلاسیکی کلام ضائع ہو جائے گا۔ عملیت پسندوں نے جواباً پوچھا کہ کلاسیکی ادب میں دلچسپی کتنوں کو ہے؟ جب اس شوق کے اسیروں کی شرح ہمارے ہاں سے بھی کم پائی گئی، ایک جانب تو یونانی رسم الخط کو نافذ کر دیا گیا اور دوسری جانب کلاسیکی ادب کے دیوانوں کے لئے یونیورسٹی کی سطح پرعربی رسم الخط کی تعلیم کا اور سچ پوچھیں تو اس اڑچن کے باوجود، جس اعلیٰ معیار کا تحقیقی و تنقیدی کام کلاسیکی ادب پر تاجکستان کے محققین، صدر الدین عینی، ترسون زادہ، بابا جان غفوروف نے کیا ہے، ہمارے اچھے اچھے محققوں کو دھول چٹا دی ہے۔

صدر الدین عینی کے مرزا عبدالقادر بیدل پر تحقیقی کام کو باآسانی انٹرنیٹ پر عربی رسم الخط، حتیٰ کہ اردو ترجمے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دل چسپی رکھنے والے دوست اسے ڈھونڈ کر پڑھیں اور سر دھنیں کہ، ’دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخن ور سہرا۔‘ مختصراً یہ کہ تعلیم اور اس میں زبانوں کے کردار کے معاملے کو اگر افادی، معروضی اور عوام دوستی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکل آتی ہے۔ جذباتیت سے دریدہ دامنی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ وہی ’گر بہ گنج اندر زیاں آید ہمے‘ کا مضمون ہے۔ ارتقا کے عمل میں کچھ زیاں بھی ہوتا ہے ، آنکھ مگر سود اور نفع پر رکھنی چاہیے۔ (جاری ہے)