حسین مجروح، نئے عہد کا ترجمان

شاعری اگر فنکار کی ذات کا اعلانیہ یا بیانیہ ہے تو اس بات کی کمٹمنٹ ہر لحاظ سے زندگی سے ہوتی ہے اور زندگی کے ذریعہ اس کے احاطہ میں پوری طرح سمٹ آتی ہے۔ لہٰذا شاعر اگر خود کو لکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے وسیلے سے دنیا کو لکھ رہا ہے اور دنیا اتنا بڑا موضوع ہے کہ اس کی انتہا نہیں معلوم۔ اور اگر کچھ معلوم ہے تو بس اتنا کہ اسے دیکھتے دیکھتے سانسوں کی طناب ٹوٹ جاتی ہے اور نگاہوں کے خیمے اکھڑ جاتے ہیں۔

شاعر کا کام دنیا بدلنا نہیں، سمجھنا ہے، ادب انقلاب برپا نہیں کرتا وہ انسانی فکر کو بدلتا ہے اور انہیں انقلاب کے تئیں بیدار کرتا ہے اس لئے ادب جانبدار بھی ہے۔ سماجی سائنس نعرے لگانے سے نہیں آتی سیکھنی پڑتی ہے۔ یہاں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خیال و فکر کی آزادی سے سمجھوتہ ناممکن ہے۔

”اندھیروں“ کو مکمل طور پر مٹانا ضروری نہیں بلکہ اگر یہ اس قدر کم کر دیئے جائیں کہ اندھیروں کا وجود معاشرے کو محسوس نہ ہو اور یہی کام حسین مجروح کر رہے ہیں۔ حسین مجروح پاکستان کے اردو شعرا میں جدید نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ چند ہی برس میں انہوں نے اردو شاعری کے اسٹیج پر اپنے لئے ایک جگہ بنا لی ہے اور ایک حد تک مجھ جیسے قاری کیلئے خوشگوار اچنبھے کی بات ہے۔

تخلیقی ادب کا یہ عجیب اسرار ہے کہ وہ اپنے اظہار کیلئے موزوں شاعر کا قلم ڈھونڈ نکالتی ہے۔ جینوئن رائٹنگ کیلئے کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں منفرد مواد، کمٹمنٹ، تجربات، کچھ زخم اور تھوڑا سا انبساط۔ مجروح جانتے ہیں کہ اچھی شاعری کیا ہے۔ شعری آہنگ کیا ہوتا ہے۔ شعری شعور کیا ہے اور داخلی و خارجی عوامل سے یہ کس طرح ترتیب پاتے ہیں۔ یہ سب پانے کے بعد بھی ہمارے دگرگوں معاشرے میں ایک شاعر کا نصیب سویا رہتا ہے لیکن ضمیر جاگتا ہے۔ زندگی انہیں اداسیوں اور محرومیوں کی سوغات دیتی ہے، محرومیوں کا یہی احساس انہیں حساس بنا دیتا ہے۔

جو منہ کو آ رہی تھی وہ لپٹی ہے پاﺅں سے
بارش کے بعد خاک کی سیرت بدل گئی!

مجروح کی شاعری میں اس کا شعوری ردعمل صاف جھلکتا ہے اس کا کلام زندگی کی بنیادی کہانیوں کا آئینہ دار ہے اور اس کے اشعار معاشرے کے رستے ناسور کی نقاب کشا ہیں۔

نکل کے دل سے پہلو پر یہ انکشاف ہوا
کہ گھر بدلنے سے آب و ہوا بدلتی ہے

ستر کی دہائی میں جب میں یورپ آیا تو پاکستان کی نئی شاعری اور پھر جدید شاعری میں بہت سارے ناموں میں ایک نام حسین مجروح کا بھی تھا۔  انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا نظموں سے کی تھی۔ ان کی نظموں میں جوش و جذبہ نہیں بلکہ احساسات کی روشنیاں اور پرچھائیاں ہیں جن کے باعث ان کے لہجے میں پرسکون سا اتار چڑھاﺅ اور دھوپ چھاﺅں کی سی کیفیت پیدا ہوئی اور اسی کیفیت میں انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو شاعری کے حوالے کی۔ا اگرچہ نظریے اور رجحان کی رو سے وہ کشمکش میں مبتلا تھے کہ فنکاری تو پورا دائرہ بنانے کا نام ہے۔ حسین مجروح کے بارے میں وہ بات جو میں پہلے کرنا چاہتا تھا اب کر رہا ہوں کہ وہ انتہاپسندی، مذہبی جنونیت، دلیل و منطق کا فقدان اور مملکت خدادا میں پھیلی لاقانونیت سے بہت دکھی ہیں۔ عصری تعلیم کے حق میں دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان مذہبی اور سیاسی ٹھیکیداروں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ اچھی سوچ والے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

وہاں بھی شیخ ہی قابض تھا ہر طرف مجروح
حرم میں ہم تو گئے تھے خدا کے ویزے پر

وہ یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ مسائل کا حل صرف تعلیم ہے کہ جو تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہے وہ اقتصادی لحاظ سے بھی پسماندہ ہی ہو گا، جو اقتصادی میدان میں پیچھے ہو گا وہ سماجی اعتبار سے پیچھے ہو جائے گا، جو سماجی اعتبار سے پیچھے ہو گا وہ سیاسی اعتبار سے پسماندہ ہو گا کہ غیر تعلیم یافتہ قوم کی دنیا میں کوئی عزت و تکریم نہیں۔

حسین مجروح کا مجموعہ ”آواز“ میرے سامنے رکھا ہے اسے پڑھ کر اس بات کا احساس پھر تازہ ہوا ہے اور یقین کی تصدیق بھی کہ ہر عہد کی ایک مخصوص فکر ہوتی ہے اور طرز تحریر بھی اور یہ کہ ماہ و سال کے آئینے میں عہد کو دیکھنا آسان نہیں۔ مجروح کی فرمائش تھی کہ میں ان کے کلام کے بارے میں کچھ لکھوں، اس ضمن میں مجھے اپنی بے بضاعتی کا احساس ہے میں نہ تو نقاد سخن ہوں نہ سخن دان۔ سخن فہمی اور سخن سنجی میں بہرحال فرق ہے۔ لیکن مخلص، حساس اور جمال پرست دوست کا احترام نہ کرنا میرے بس سے باہر ہے اور اسی پاس احترام نے مجھے اپنی بے بضاعتی کی تشہیر کیلئے مجبور کر دیا ہے۔ مجروح ہمارے ان شاعروں میں سے ہیں جو شعر روایت سے نہ صرف واقفیت رکھتے ہیں بلکہ کلاسیکی شاعری اور اس کی بوطیقا سے حسب توفیق استفادہ بھی کرتے ہیں۔ ان کے ہاں نہ سراسر روایت پرستی ہے اور نہ روایت گزیدگی۔ شعری روایت کے شعور نے ان کے شعری ادراک کو زیادہ سے زیادہ نکھارنے اور سنوارنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ مجروح کے ہاں ایک میلان جو ان کی جمالیاتی فکر سے آمیز ہو کر بار بار سامنے آتا ہے وہ شدت غم کو Dilute کرنے کا عمل ہے۔

کبھی سفر سے کبھی راستے سے ڈرتے ہوئے
میں خاک ہو گیا اس عمر کو بھرتے ہوئے

مجروح اپنی شاعری میں شکست و ریخت زمانہ اور انسانی زندگی کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ جزئیات پر دسترس کے سبب حقائق کے بطن میں پوشیدہ لہروں کو بھی گرفتار کر سکتے ہیں۔ ”راستے“ اور ”خاک“ کے درمیان مرحلوں اور رابطوں کا عرفان حاصل کئے بغیر ”عمر بسر کرنا“ کی معنویت کو سمجھنا دشوار ہے۔ مجروح نے ایک پرانے مضمون کو نئے عہد کی زبان میں جن استعاروں کے ذریعہ پیش کیا ہے، اس سے حسیت کی حقیقت پر روشنی پڑتی ہے ۔ ایک دوسری جگہ مجروح کہتے ہیں۔

اے گرفتار ہوس تجھ کو خبر ہے کہ فتور
مال کے ساتھ ترے آل میں جا پہنچا ہے

مجروح کی زیادہ تر شاعری خارجی حوالے سے ہے ان کے کلام میں خیالات کی ندرت اور احساسات کی شدت کے ساتھ طنز کا باریک نشتر بھی چھپا ہوا ہے جو ان کی نظموں کو انفرادیت بخشتا ہے۔ اسلوب اور ہیئت کے اعتبار سے ان کی نظمیں شعری ادب کے سرمائے میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتی ہیں (یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں) مجروح نے شاعری کو محض فن بلکہ فنی پینترے بازی میں مقید نہیں کیا جیسا کہ جوش اسکول کا خاصہ ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے۔ غیر ملکی ادب سے خوب آگاہ ہیں۔ وہ قدیم و جدید ہر دو شعرا کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں گہرائی کی نسبت گیرائی زیادہ ہے اور یہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ان کے نظریات سے آپ خواہ اتفاق نہ کریں لیکن ان کے کلام کی تاثیر سے آپ اختلاف نہیں کر سکتے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ ادبی دنیا میں ایک اہم مقام بنا چکے ہیں۔

لکھتے ہوئے قلم پہ مسلط ہے ایسا خوف
مفہوم اپنی بات کا زیرسطر رہا!