سیاست اور مقدر کے سکندر مگر کب تک؟

  • تحریر
  • جمعہ 22 / اپریل / 2016
  • 5125

لگ بھگ دو دہائیوں سے کچھ زائد کا قصہ ہے، ہمارا ان دنوں مشرق وسطیٰ کاروباری مصرو فیات کے سلسلے میں بار بار جانا رہتا تھا۔ ہانگ کانگ میں پاکستانی کمیونٹی بھی نمایاں تعداد میں تھی۔ ان میں سے خاصے لوگ متمول اور آسودہ حال کاروباری تھے۔ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جو کبھی خالی ہاتھ ہانگ کانگ وارد ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک فیصل آباد کے چوہدری محمد شریف بھی تھے۔ ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں ایف اے کرنے کو بعد بڑی مشکلوں سے ہانگ کانگ پہنچے۔ چوکیدار کی ملازمت کی، محنت مزدوری کی، چھوٹی چھوٹا کام کاج کیا۔ آٹھ دس سال بعد قدرت نے ان کی محنت کا پھل کچھ یوں دیا کہ ایک بڑی ٹریڈنگ کمپنی کے مالک ہوگئے۔ ہانگ کانگ میں مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹس اور دفتر بنایا۔

اپنی وضع کے عجیب آدمی تھے۔ ہمیشہ بھورے یا سلیٹی رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس رہتے۔ سردیوں میں اس پر سویٹر یا جیکٹ پہن لیتے۔ دنیا کا سردوگرم دیکھ رکھا تھا۔ محفل لگانے کا شوق تھا۔ پاکستان کے زیادہ تر کاروباری وزیٹرز سے ان کے مراسم تھے۔ ستر کی دہائی میں نواز شریف کاروبار کے لیے ہانگ کانگ آئے تو ان سے ملاقاتیں بھی رہیں اور کاروبار بھی ہوا۔ ان ملاقاتوں کی ایک نشانی دیوار پر آراستہ وہ تصویر تھی جس میں نوجوان نواز شریف اپنی معصومیت اور مکمل اصلی بالوں کے ساتھ چوہدری شریف کے ساتھ کھڑے تھے۔ اسی طرح گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ بھی اچھے مراسم تھے۔

نواز شریف اور گجرات کے چوہدری پہلی بار وفاقی حکومت میں جلوہ گر ہوئے تو انہی دنوں ہمارا ہانگ کانگ جانا ہوا۔ حسب معمول ان کے ہاں محفل کے لیے حاضر ہوئے۔ اپنی سفید منتشر مونچھوں کو مخصوص انداز میں سہلاتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔ لو جی، اب زوال کا سفر شروع ہو گیا۔ ہم نے چونک کر کہا، کمال ہے چوہدری صاحب، ابھی تو عروج کا سفر شروع ہوا ہے اور آپ نے اسے زوال کا آغاز بنا دیا۔ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولے۔ بھائی عروج نہیں ہو گا تو زوال کے آنے کا کیا مطلب۔ عروج ہو گا تو ایک نہ ایک دن زوال بھی آے گا۔ دیر یا سویر، زوال کا آنا تو اب ٹھہر گیا! کچھ اپنی کم فہمی اور کچھ اپنی دور کی نظر کی خرابی ، ہم زوال کا آنا دیکھ سکے اور نہ ہی ان کی تائید کر سکے لیکن آنے والے سالوں میں ہم نے زوال کو عروج سے بار بار زور آزمائی کرتے دیکھا تو ان کی باتوں کی گہرائی کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہوگئی۔

عروج اور زوال میں دھوپ چھاؤں کا کھیل جاری رہتا ہے لیکن ایک نہ ایک دن زوال غالب آکر رہتا ہے کہ سدا رہے صرف نام اللہ کا۔ پرویز مشرف نے اپنے تئیں شریف خاندان کا بستر گول کر دیا تھا ، بے نظیر کو باہر کا راستہ دکھا دیا تھا لیکن پھر وہ وقت آیا کہ باہر جانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے۔ کبھی کمر ڈھیلی ہوئی اور کبھی دل کے پہلو میں بے چینی۔ عجیب مضحکہ خیز صورتحال ہے جن کے آنے کا دروازہ بند کیا تھا، وہ مشرف کی روانگی کے لیے دروازہ کھولنے کے مجرم بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ صفائیاں دے رہے ہیں۔ خود ان کے ساتھ عجیب واردات ہوئی کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود غیروں کی ضمانت پرملک سے جانے کی اجازت ملی۔ اب کی بار بھی بھلی چنگی حکومت چل رہی تھی کہ دھرنے نے چار ماہ سے زائد جکڑے رکھا۔ دھرنے سے گلو خلاصی ہوئی تو 2018 کے الیکشن کی زور شور سے تیاریاں شروع ہو گئیں۔ خاندان کی نئی پود کی انٹری کے اسباب مرکز اور صوبے میں ترتیب پائے لیکن بیٹھے بٹھائے پانامہ لیکس نے پرانے پوتڑے دھڑام سے سر بازار ڈھیر کر دیے۔ اس کے بعد جو ہو رہا ہے، و ہ آپ کے سامنے ہے۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ تک آ چکا۔ ایک اور دھرنے کا ارادہ بھی آ چکا۔ کیا ہو گا؟ میڈیا سمیت ایک عالم یہ جاننے اور بتانے کے لیے ہلکان ہو رہا ہے۔ اس عالم میں ہم البتہ اس لیے مطمئن ہیں کہ۔۔ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔

جوڈیشل کمیشن بنتا ہے یا پارلیمانی کمیشن، ان مسائلِ تصوف کی ہمیں سوجھ بوجھ ہے نہ جاننے کی خواہش۔ ہاں یہ یقین ضرور ہو چلا ہے عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں کا کھیل ایک بار پھر اپنے جوبن پر ہے۔ کچھ ایسا ہی ایک کھیل سات سمندر پار برازیل میں اس سے کہیں زیادہ شدومد سے جاری ہے۔ برازیل کی صدر ڈلما روسیف کو مواخذے کا سامنا ہے۔ روسیف کی زندگی بھی عجیب تلاطم خیز ہے۔ آسودہ حال گھرانے میں آنکھ کھولی لیکن جوانی میں فوجی آمریت کے مقابل کمیونسٹ تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ گرفتار ہوئیں۔ جیل ہوئی، ٹارچر سہا اور تین سال بعد رہائی ملی۔ ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کی بانی رکن بنیں۔ اس کے بعد سیاست کا سلسلہ جاری رہا۔ 2000 میں اس پارٹی کو چھوڑنا پڑا تو لولا ڈی سلوا کی بائیں بازو کی ورکر ز پارٹی کو جائن کیا۔ اس پارٹی نے 2003 میں الیکشن جیتا تو روسیف صدر لولا کی کیبنٹ میں شامل ہوئیں اور انرجی منسٹر مقرر ہوئیں۔ 2005 میں صدر کی چیف آف سٹاف مقرر ہوئیں۔ سیاسی ترقی کا سفر حیران کن تھا مگر اس میں ان کی محنت اور اپنے خیالات پر ڈٹ جانے کا بڑا رول تھا۔ اتنا کہ صدر لولا ڈی سلوا انہیں ایک حیرت انگیز منتظم اور لوگ انہیں آئرن لیڈی کہنے لگے۔ اس دوران 2009 میں انہیں کینسر نے بھی آلیا۔ جس سے انہوں نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ نجی زندگی میں بھی نشیب و فراز ساتھ ساتھ چلے۔ دو بار شادی کی لیکن دوسری شادی بھی طویل رفاقت کے بعد طلاق پر ختم ہوئی۔

برازیل کی معیشت میں اشرافیہ کی استحصالی گرفت بہت مضبوط ہے لیکن اسے ڈھیلی کرنے کے لیے بائیں بازو کی صدر لولا ڈی سلوا کی حکومت اور انہی پالیسیوں کو بعد ازاں صدر روسیف کی حکومت نے جاری رکھا۔ تین سال قبل تک پورے ہونے والی دہائی اکونومی کے لحاظ سے بے مثال گذری۔ لیکن گذشتہ دو تین سال سے دنیا میں کمودیٹیز یعنی تیل سمیت اشیاء اور اجناس کی قیمت کم ہونے سے معیشت کے چولیں ہل گئی ہیں۔ بے روزگاری، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر ، غربت میں اضافہ اور پھر کرپشن کا ایک سے ایک بڑا اسکنڈل۔۔۔ ان سب عوامل نے عوامی غم وغصے کو ہوا دی۔ ہنگامے اور ہڑتالیں عام ہوئیں ۔ سیاسی اشرافیہ کے بیشتر حکومتی اور اپوزیشن ممبران پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ انہیں بائیں بازو کی حکومت کبھی ایک آنکھ نہیں بھائی۔ لہٰذا یہ مناسب موقع تھا۔ حریف کمزور پاکر سیا سی وفاداریاں بدل کر بازی پلٹ دی گئی۔ اور وہ بھی کرپشن کے نام پر حالانکہ اپوزیشن کے بیشتر لیڈرز اور ممبران ہی براہ راست کرپشن کے الزامات میں زیر تفتیش ہیں ۔ گذشتہ ہفتے ایوان زیریں نے مواخذے کی تحریک منظور کر لی۔ اب اسے سینیٹ میں منظوری کے لیے جانا ہے جہاں اس کی منظوری طے ہے۔ اس کے بعد مواخذے کی قانونی کاروائی ہو گی جس کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت طے ہے۔ سو یوں اس خاتون آہن کا زوال چپکے سے یوں وارد ہوا کہ صدارت پھانس بن کر اٹک گئی ہے۔

برازیل کے سیاسی کھیل کی پاکستان کے ساتھ کئی مشابہتیں ہیں۔ایک نو آبادیاتی ملک ہونے کی وجہ سے اشرافیہ وسائل اور طاقت پر تسلط کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ معاشی عدم مساوات خوفناک حد تک موجود ہے لیکن سیاسی اور کاروباری اشرافیہ نے پارلیمنٹ اور عدالتی نظام کو اس چالاکی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا کہ ماضی میں ان کا کبھی بال بھی بیکا نہ ہوا۔ کر پشن پر اس انداز کے انوکھے اجماع میں صدر رووسیف کی قربانی ہو رہی ہے حالانکہ ان پر کرپشن کے براہ راست الزامات نہیں ہیں۔

برازیل میں اشرافیہ نے کامیابی سے ایک بار پھر بازی مار لی ہے۔ انہیں امید ہے کہ نئے سیاسی سیٹ اپ میں میگا کرپشن کے یہ اسکینڈلز وقت اور مخالفین پر نئے الزامات کی کھینچا تانی میں عوام کے حافظوں سے جلد محو ہو جائیں گے اور معاملات جوں کے توں چلتے رہیں گے۔ کرپشن میں جو جیتے گا وہی سکندر کہلائے گا مگر کب تک؟ عروج و زوال کی کہانی ایک بار پھر اپنے انداز میںّ گے بڑھ رہی ہے۔ یہاں بھی اور برازیل میں بھی ۔