تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ....
پاکستان کی مخالفت کے بارے میں جماعت اسلامی کا طرز عمل اور جماعت کے بانی کی سوچ ہماری سیاسی تاریخ اور جدوجہد کے سیاہ با ب ہیں۔ 1941 میں اس جماعت کا جنم ہوا جبکہ 6 سال بعد پاکستان معر ض وجود میں آیا تھا۔ اس وقت بھی جب پا کستا ن کی آزادی کے لئے جدوجہد ہو رہی تھی، تب بھی اس جماعت کے بانی نے اس کے قیام اور آزادی کی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
جب قائد اعظم کی ولولہ انگیز اور دور اندیشی پر مبنی قیادت کے باعث تمام مخالفوں جن میں اندرونی اور بیرونی دونوں شامل تھے، کو شکست ہوئی تو اس کے باوجود کئی سال تک بانی جماعت اسلامی، بانی پاکستان اور مسلم لیگ کے بارے میں اپنا بغض نکالتے رہے جو آج بھی ان کی کتب کے صفحات کی زینت ہیں۔ ان تمام کتب میں جہاں جہاں پا کستان مخالفت کے بارے میں جماعت اسلامی کا تصور موجود ہے وہ تما م کتب جماعت اسلامی کے کارکنوں کو نہ صرف پڑھنی پڑتی تھیں بلکہ ا سلام کے نا م پر پا کستا ن کی مخا لفت کر نا بھی لازم قرر پاتا تھا۔ یہی و جہ ہے کہ اب تک ہر دور میں اس جما عت نے کبھی بھی کو ئی ایسا مو قع ہا تھ سے نہیں جا نے دیا جہاں وہ پا کستان پر اپنا غصہ نکا ل کر با نی جماعت کے سا تھ اپنی عقیدت ظا ہر نہ کردے۔ جماعت کے با نی کی پا کستان مخا لف تحر یریں ہی جما عت کا اصل خون ہے جو ہر کارکن کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ جبکہ جما عت کے ہر امیر کی آ نکھوں میں نظر آتا ہے۔ ماضی میں سابقہ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے شہید کے حوا لے سے جو شر ا نگیز اور شر مناک بیان دیا تھ اوہ لازمی طور پر قا بل گرفت ہے۔ ناقابل معا فی ہے۔
آئیے ذرا جما عت کی کتب کے ان سیاہ صفحا ت پر نظر ڈالتے ہیں ۔
قیا م پا کستان سے پہلے جب آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی اور مخا لف فریقین کی جا نب سے مخالفت کی جا رہی تھی تو دور حا ضر کی طرح ماضی میں بھی ا یسا ہی کردار تھا۔ چند جھلکیاں ملاحظہ کریں۔ پا کستان مسلم لیگ کو ووٹ د ینا حرام ہے۔ پا کستان جنت الحمقاء اور مسلما نوں کی کا فر حکو مت ہے۔ مزید لکھا گیا ہے کہ پاکستان کا قیام اور اس کی پیدائش درندے کے برا بر ہے۔ بانی پا کستان کے خلاف یوں ہرزہ سرائی کی گئی ہے کہ محمد علی جناح کا مقا م مسند پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدا لت کا کٹہرا ہے۔اور یہ کہ تقسیم ہند کے تین اداکار تھے اور محمد علی جناح کی ادا کاری سب سے زیا دہ نا کا م رہی۔ اپنی کتب اور تحر یروں میں پاکستان کی مخالفت کچھ یوں کی گئی ہے کہ مسلم لیگ خدا سے بے خوف اور ا خلاق کی بند شوں سے آ زاد جما عت ہے جس نے ہمارے اجتما عی ما حول کو بیت الخلاء سے بھی زیادہ گندا کر دیا ہے۔ اور یہ کہ پاکستان لا کھوں، کروڑوں ڈا کوﺅں، لٹیروں ، قا تلوں، زانیوں اور سخت کینہ صفت ظا لموں سے بھرا ہے۔ یہ سب سیاہ تصوارات ترجمان ا لقرآن کی جلدوں میں محفوظ ہیں اور یہ سب کچھ آزادی کے بعد کے ا بتدا ئی سالوں میں ناکامی کے ردعمل کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔
ضیاءالحق کے دور میں اس جماعت نے آفت مچا رکھی تھی۔ نا ئن الیون کے سا نحے کے بعد کر ا چی اور دیگر شہروں میں جما عت اسلامی کے گھر وں اور دفا تر سے ا لقاعدہ اور طا لبا ن نواز د ہشت گروں کی جو گرفتا ریاں ہو ئیں تھیں، وہ بھی ہمارے ہی قو می اخبارات کی زینت بن چکی ہیں ۔ ایسی خبروں کی کبھی تر دید نہیں ہو ئی اورایسی شرمناک خبریں گا ہے بگاہے قوم سنتی رہتی ہے۔ لیکن ریاست مخالف ان تمام سر گرمیوں کے با وجود اس جماعت کو تمام سیا سی جماعتوں اور ہر حکومت وقت نے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دیا۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ گواہ ہے کہ یہ جماعت دیگر سیاسی جماعتوں کی سیاسی بیساکھیوں ہی کی مدد سے اسمبلیوں میں پہنچتی رہی ہے اور عوام نے ہمیشہ اس جماعت کو دھتکارا ہے۔ لیکن افسوس کہ سیاست دان اپنے مفادات کے لئے اس کو سیاسی طاقت دیتے رہے۔
گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں اس جماعت کا سیاسی دھڑن تختہ ہو چکا ہے اور مزے کی بات یہ کہ ان کے مرکز منصورہ کی بلدیاتی سیٹ بھی اس جماعت کے ہاتھ سے نکل گئی۔ جس سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ یہ جماعت کتنے پانی میں ہے۔ لہٰذا اب نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس جماعت کی تمام سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد اس جماعت کے کردار سے اس جماعت کے عزائم کا پتہ چلتا ہے اس کو جب بھی موقع ملا اس نے ہمیشہ استحکام پاکستان کے خلاف ہی کام کیا اور پاکستان کے اندر مذہبی اقلیتوں کے خلاف بھی اس کا کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ سب کچھ قومی اخبارات کی زینت بن چکا ہے۔ فوج کے شہدا کے بارے دیدہ دلیری کے ساتھ بد زبا نی کے بعد شر مندہ ہونے کی بجائے ا لٹا اس کو شریعت سے منسو ب کرنے کی جسارت کی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ منور حسن نے جو کہا تھا وہ عین شر یعت کے مطابق ہے۔
وطن عزیز کے اندر سالہا سال سے خونر یزی کر نے و ا لے طا لبا ن کی طرف سے اسلامی جمعیت کے سابقہ امیر کے بیان پر اظہار خوشنو دی کرنا اور با قی جماعتوں کو اس کی تقلید کر نے کی ترغیب دینا اس ا مر کی نشا ند ہی کر تا ہے کہ اندر کے دشمن کو ن ہیں جو و طن عزیز کے خلاف آلہ کار بنے ہو ئے ہیں۔ کیا اس حقیقت سے انکا ر کیا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں، یو نیور سٹیوں میں پروفیسرز اور لیکچرز پر تشدد کرنے اور و ہاں کا تعلیمی ما حول کو آلودہ کرنے والے جماعت اسلامی ہی سے ہی تعلق ر کھتے ہیں۔ چند ماہ قبل ہی پنجاب یو نیورسٹی میں جمعیت کے طلباء کے کمروں سے د ہشت گردوں کی گر فتا ریاں ہوئیں تھیں۔ جماعت اسلامی کے طلباء ونگ اور شباب ملی کی سر گر میاں سب کے سا منے ہیں۔
نپو لین کا ا یک مشہور قو ل ہے کہ دنیا کو غلط لو گوں کے تشد د سے ا تنا نقصا ن نہیں پہنچتا جتنا اچھے لوگوں کی خا موشی سے پہنچتا ہے۔ لہذا اب ملک کی خاموش ا کثریت کو اپنا کر دار ادا کرنا ہو گا۔ اور ایسی جماعتوں سے نجات حا صل کر نا ہو گی ۔پاکستانی عو ام کو یہ کر یڈٹ تو جا تا ہے کہ انہوں سیا ستدانوں اور سیاسی جما عتوں کی نسبت زیا دہ سیاسی سوجھ بو جھ کا مظا ہرہ کیا اور ہمیشہ ہر ا لیکشن میں ا س کو رد کیا۔ ملک میں انتہا پسندی کے خلاف مہم میں ایسے عناصر کے خلاف مہم جوئی ضروری ہوگی۔