سفر عمرہ کا احوال (4)

کشمیر کی جبری تقسیم سے پہلے اور بعد کے جبر کی وجہ سے کشمیری اپنی بے شمار روایات کھو چکے ہیں۔ بقول ایک برطانوی خاتون مصنف اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صدیوں سے جاری غیر ملکی قوتوں کے تسلط کی وجہ سے کشمیریوں کو زندہ رہنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرنے پڑے۔ کچھ غیروں کی سازشوں اور کچھ اپنوں کی بد اعمالیوں کے باعث طوالت اختیار کر جانے والی غلامی کی وجہ سے کشمیریوں کی بعض عادتیں  پختہ ہو گئی ہیں۔ لیکن مہمان نوازی میں اب بھی وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہمیں بے شمار آشنا اور غیر آشنا کشمیری ملنے آئے جن میں زیادہ تر ہمارے تحریکی قدردان تھے۔ جدہ میں ملک شفیق اور انکی ٹیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم پر انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جدہ میں ایک بڑے پروگرام کے بعد جب ہم مدینہ منورہ سے واپس آئے تو ملک شفیق اور طائف سے ان کے ساتھی ملک معروف اور متعدد دیگر لوگ الوداعی ملاقات کے لیے آئے۔ جبکہ مدینہ منورہ میں راجہ ساجد خان آف بٹل کھوئیرٹہ نے ایک ہوٹل میں ظہرانہ دیا جس میں انہوں نے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اس فیملی کو بھی دعوت دی جن کے ساتھ دوران عمرہ ہماری شناسائی ہوئی تھی۔ اس فیملی کے اراکین میں دو خواتین اور ایک بزرگ تھے جن کی صحت اتنی اچھی نہیں تھی۔ ان کو زیارتوں پر جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا مسلہ درپیش تھا۔ راجہ ساجد خان سے میں نے بات کی تو انہوں نے اپنی کار پر اس فیملی کو مدینہ منورہ میں تمام زیارتیں کروائیں۔

راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار مجید خان ہر صبح مسجد نبوی میں فجر کی نماز کے بعد ہمیں ناشتہ کروانے خصوصی طور پر آتے جبکہ ملک طاہر یعقوب ہر روز دن میں دو مرتبہ ہمیں ملتے۔ راجہ طارق، محمد شبیر امریز کشمیری اور محمد اویس مدینہ سے کافی دور کام کرتے تھے لیکن وہ بھی خصوصی طور پر ملنے آئے اور ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔ طالب علم محمد عنایت سے کوئی شناسائی نہ تھی مگر وہ بھی ملنے آئے جبکہ محمد مقصود مغل جنہیں مدینہ میں بیس سال ہو گئے ہیں، ان کی رفاقت سے مسلسل اٹھ دن تک ہم مستفید ہوتے رہے۔ دوستوں کی کرم نوازی کی وجہ سے ہمیں مدینہ سے مکہ واپسی کے لئے بسوں کے طویل اور مشکل سفرسے بچ گئے۔ راجہ راشد خان اور حافظ محمود ہمیں مدینہ سے لانے کے لیے خصوصی طور پر مکہ سے آئے ۔

یہ سفر ہم نے رات کو کیا ۔ راستے میں مسجد میقات پر رکے۔ نوافل ادا کیے اور احرام باندھے۔ مکہ پہنچ کر دوبارہ عمرہ ادا کرنے کے بعد ہم رہائش پر گئے۔ مدینہ منورہ سے مکہ واپسی پر مزید پانچ دن وہاں ٹھہرے۔ اس دوران ہر روز اپنے والدین، دادا دادی ، نانا نانی اور دیگر فوت ہو جانے والے رشتہ داروں کو طواف کے تحفے پیش کر کے سکون قلب حاصل کیا۔ مکہ اورجدہ میں ملاقاتوں اور ضیافتوں کا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوا کہ یہاں اگر میں نام لکھنا شروع کر دوں تو شاید میں کسی بھائی کا نام لکھنا بھول جاؤں۔ لیکن اپنے سب ہموطنوں کو خراج عقیدت پیش کروں گا جو سعودی عرب کے سخت ترین قانون کے زیر سایہ رہ کر مزدوری کے ساتھ ساتھ حج اور عمرے پر جانے والے لوگوں کی رہنمائی اور دیکھ بھال کا اخلاقی فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالی مکہ اور مدینہ میں حاجیوں کی خدمت کرنے والوں کو اس کا صلہ نصیب کرے۔ بعض لوگوں کو وہاں بیس پچیس سال ہو گئے ہیں۔

میں کافی عرصہ یورپ میں رہا ہوں جہاں رنگ نسل اور مذہب کے فرق کے باوجود پانچ سال کسی یورپی ملک میں قیام کرنے والے کو شہریت دے دی جاتی ہے جبکہ رہائشی پرمٹ ملنے والے کے بچوں کو بھی تعلیم و صحت کی تمام تر سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک میں اپنے ہم مذہب مزدوروں کو شہری حقوق تو درکنار کئی کئی ماہ اجرت نہیں دی جاتی۔ اکژ مزدوروں کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تنخواہ حاصل کرنا پڑتی ہے۔ بعض اوقات تو تنخواہ کے مطالبہ پر ملک بدر بھی کروا دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب حکومت نے خود اپنے ملک میں جمہوری حقوق نہیں دئیے ہوئے مگر وہ یمن میں جمہوریت لانے کے لیے جنگ کر رہا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جنگ ہے جس کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔ مگر کفیلوں نے اسے بہانہ بنا کر غیر ملکی مزدوروں کی مزدوری روکی ہوئی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نبی کریم کا فرمان ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے لیکن سعودیہ میں بعض مزدوروں کو خون خشک ہونے پر بھی مزدوری نہیں ملتی۔ اس سے بڑا ظلم تارکین وطن پر ان کے اپنے خاندان کرتے ہیں جنہیں جب سعودیہ سے کوئی گھر رقم ارسال کرتا ہے تو انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا کہ اس بے چارے نے کتنی محنت مشقت اور زلت و رسوائی کے بعد اپنے پیاروں کو یہ رقم ارسال کی ہے۔ قدم قدم پر فضول خرچی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ مشرق وسطعی میں کام کرنے والے ہمارے اکثر لوگ اپنے بیوی بچے کم آمدنی کی وجہ سے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔ مشکل ترین حالات میں کمایا جانے والا پیسہ ترجیحاً بچوں کی تعلیم پر صرف ہونا چائیے لیکن بد قسمتی سے یہ پیسہ جن کو واپس وطن بھیجا جاتا ہے وہ اس کا بڑا حصہ نمود و نمائش پر ضائع کر دیتے ہیں۔

میری تین نابالغ بیٹیاں ہیں۔ جب میں گھر آتا ہوں تو دور سے کار آتی دیکھ کر سڑک پر پہنچ جاتی ہیں۔ وہ مجھ سے طر ح طرح کی فرمائش کرتی ہیں اور ان کے درمیان میرے ساتھ کھانے اور سونے کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ فطری طور پر ۹ سالہ مومنہ اور پانچ سالہ آمینہ کو تین سالہ سلویہ کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں کیونکہ بچوں اور بزرگوں کے آگے دلیل کام نہیں کرتی۔ سعودیہ میں ہمارے میزبان جب ہمارے سامنے کھانا رکھتے تو میں یہ سوچ کر لرز جاتا کہ میں عمرے کے چند دنوں کے دوران کھانا کھاتے وقت اپنی بیٹیوں کو کتنی شدت سے یاد کرتا ہوں جبکہ ہمارے ان پردیسی بھائیوں کے بچے باپ کی شفقت سے سالہا سال محروم رہتے ہیں۔ میں سوچتا کہ میری بیٹیاں کیسے اکیلے سکول جاتی آتی ہوں گی اور دوسری طرف ان بھائیوں کی طرف دیکھتا تو سوچتا کاش ان کو اپنے وطن میں ہی مزدوری ملتی اور ان کے بچے شفقت پدری اور والدین خدمت سے محروم نہ ہوتے۔

ایک بچہ وہ ہے جو اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر سکول جاتا ہے۔ چھٹی کے وقت سکول کے دروازے پر باپ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا بچہ وہ ہے جس کا باپ پردیس میں مزدوری کرتا ہے اور اسے کبھی کوئی سکول چھوڑنے یا لینے نہیں آتا بلکہ پیدل خطرناک راستوں پر چلتا یا بے ہنگم ٹریفک سے ڈر ڈر کر سکول پہنچتا ہے۔ دیر ہو جانے پر استاد سے ڈنڈے کھاتا ہے۔ کاش اس ملک کی باگ ڈور دیانتدار اور صالح قیادت کی ہاتھوں میں ہو اور کسی بچے کے باپ کو پردیس میں اکیلے کھانا اور سونا نہ پڑے اور نہ ان کے بچوں کو شفقت پدری سے محروم ہونا پڑے۔ 22 اپریل کو حرم پاک کے سامنے کھڑے ہو کر درجنوں دوسری دعاؤں کے ساتھ یہ دعا مانگ کر ہم وطن واپس لوٹ آئے۔ (ختم شد)