دو عظیم مصنفین

آج سے چار سو سال پہلے ایک دن کے وقفے سے دنیا کے سب سے پہلے دو ناول نگاروں کا انتقال ہوا تھا ۔ ان کے نام تھے (Miguel de Cervantes) میگل ڈے تھرونٹس جس کا تعلق اسپین سے تھا اور (William Shakespeare)ولیم شیکسپیر جس کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔دنیا کے دو معروف اور قد آور مصنفوں کا نام اپنی اپنی زبان اور ادب میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔  ولیم شیکسپیر کی کتاب اور کام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے لیکن اسپینیش ناول (Don Quixote)ڈون کیکھوٹے کے مصنف میگل ڈے تھرونٹس کے متعلق نہ کوئی چرچا ہے اور نہ ہی کوئی جشن منایا جا رہا ہے۔
آئیے آج ان ہی دو معروف اور نامور مصنفین کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ چار سو سال مکمل ہونے پر شیکسپیر کی زندگی کے حالات، ان کے کام اور باتوں کو دنیا کے 50 کروڑ لوگوں تک پہنچایا جائیگا۔ پچھلے دنوں شیکسپیر کے ڈارمے (bard's stage plays)بارڈ اسٹیج پلے (بارڈایسے شاعر کو کہا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان اپنی شاعری کو پڑھتا ہے)کے ذریعہ 37 چھوٹی فلمیں دکھائی گئیں۔اس کے بر عکس تھرونٹس کے متعلق اسپین یا دیگر جگہوں پر ایسا کچھ بھی نہیں ہؤا۔ البتہ چند بڑے شہروں میں نمائش اور کانفرنس کا اہتما م کیا گیا ہے۔
اس پر اسپین کے کچھ لوگوں کو مایوسی کے ساتھ غصہّ بھی آرہا ہے کہ کیوں کہ تھرونٹس کی زندگی اور کارناموں پر اسپین میں بڑے پیمانے پر کوئی ثقافتی پروگرام یا کانفرنس نہیں ہوئی۔ لیکن(Spanish Royal Academy)اسپینس رائل اکاڈمی کے ڈائریکٹر داریو ویلانیو نے اس کے دفاع میں کہا کہ ہم لوگوں نے پچھلے چار سو سال سے اس کی تیاری کی ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس خط کے جواب میں کہی ہے جو حال ہی میں دنیا بھر کے اخباروں میں شائع ہوا ہے ۔ اور جس میں شیکسپیر کے جشن منانے کی تفصیل ہے۔ تاہم اسپین کے ثقافتی وزیر نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ پروگرام کو مکمل کرنے اور آگے بڑھانے میں تیزی لانے کی ضرورت ہے ۔
تھرونٹس انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ میگل ڈے ٹھرونٹس کا معروف ناول اب تک دنیا کی 140زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے جبکہ وہیں برٹش
کو نسل کا کہنا ہے کہ ولیم شیکسپیر کی تصانیف کا ترجمہ اب تک 100سے زیادہ زبانوں میں ہؤا ہے۔شیکسپئیر کے ڈراموں پر لگ بھگ 1000فلمی اسکرپٹ تیا ر ہوئے ہیں۔ جبکہ ڈون کیکھوٹے پر مختلف زبانوں میں 50فلمیں بن چکی ہیں۔شیکسپیر کے ناول پر بننے والی مشہور فلم (Hamlet)ہیملیٹ اور(Romeo and Juliet) رومیو اور جولیٹ کافی مقبول ہوئی تھیں۔
اسپین کے معروف ناول نگار اور مبصر (Andres Trapiello) آندریس تراپیوئے نے دلیل دی ہے کہ مختلف طور پر ان لوگوں کی یاد منانے میں خود مصنف کی شخصیت کا دخل ہوتا ہے اور کس طرح سے عوام اس بات میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسپین تھرونٹس کے جشن کو مزید فروغ دے سکتا تھا لیکن درحقیقت شیکسپیر کی مقبولیت دنیا میں کافی زیادہ ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تھرونٹس کے 1100 صفات کا ناول ڈون کیکھوٹے کے مقابلے میں شیکسپیر کے ڈرامے آپ دنیا بھر کے تھیٹر میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد فلمیں بھی بنی ہیں جن کا موازنہ تھرونٹس کی تصا نیف سے کرنا ناممکن ہے۔
آندریس تراپیوئے نے کہا کہ تھرونٹس کے ناول کو پڑھنا آسان کام نہیں ہے ۔اس سے اسپین کے ایک ناکام ثقافت کا اندازہ لگتا ہے کہ ہر کوئی ڈون کیکھوٹے ناول کی تعریف کرتا ہے ۔ لیکن اس ناول کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ایک مایوسی کی بات ہے کہ لوگ اس کو مکمل نہیں پڑھ پاتے ۔ہر سال لوگ یہی کہتے ہوئے ناول کی شروع کرتے ہیں کہ اس بار وہ اسے ختم کریں گے۔ لیکن پچاس صفحات تک پہنچ کر وہ مزید پڑھنا گوارا نہیں کرتے ۔
2015 کے ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ دس میں سے صرف دو لوگوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے ڈون کیکھوٹے ناول کو پورا پڑھا ہے۔جن میں سے آدھے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا ہے کہ ناول کے اہم کردار کا اصل نام (Alonso Quijano)الونسو قیو کھانو ہے ۔جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قاری پڑھتے وقت اپنی دلچسپی کھو دیتا ہے۔ دریں اثناء شیکسپیر کی انگریزی زبان کی فلمیں اس کے مقابلے میں اسپین میں کافی مقبول ہیں۔ ایک پچیس سالہ اسپینیش آئی ٹی انجینئر ہوزے ریواس نے اس حوالے سے کہا کہ جب وہ شیکسپیرکے بارے میں سوچتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دماغ میں’ کینتھ برانا ‘ فلم کا نام آتا ہے جسے اس نے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے شیکسپیر کی اور بھی کئی فلمیں دیکھی ہیں ۔ لیکن اس کے مقابلے میں اس نے تھرونٹس کو کبھی نہیں پڑھا ہے اور اسے اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ اس سال تھرونٹس کی برسی منائی جا رہی ہے۔
بچوں کی کہانیاں لکھنے والی معروف اسپینیش مصنفہ(Lupe Estevez)لوپے اسٹا ویتھ کا کہنا ہے کہ بچپن میں انہوں نے جب ڈون کیکھوٹے ناول کو پڑھا تھا تو انہیں یہ ناول کافی دلچسپ لگا تھا۔ انہیں اس بات کی بھی حیرانی ہوئی تھی کہ سترہویں صدی میں اتنا معیا ری ناول لکھی جاسکتا تھا لیکن لوپے ا سٹاویتھ کا کہناہے کہ جس طرح سے اس ناول کو بوجھل اور پرانے طرز پر ٹی وی اور فلم میں دکھا یا گیا ہے، اس سے اس ناول کو وہ مقبولیت نہیں مل پائی جو اس کو ملنی چاہئے تھی۔
1991میں (The Instituto Cervantes)دی انسٹی ٹیٹو تھرونٹس کا قیام اسپین کے میڈریڈ(Madrid) اور الکلا دے ناریس
(Alcala de Henares) شہرمیں ہوا .جس کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اسپینیش زبان اور ثقافت کوفروغ دیا جائے۔ الکلا دے ناریس شہر میں ہی تھرونٹس کی پیدائیش ہوئی تھی۔دی انسٹی ٹیٹو تھرونٹس کے سینٹر دنیا کے لگ بھگ 70ملکوں میں واقع ہے۔لندن کے (Belgravia)بلگر یویاعلاقے میں دی انسٹی ٹیٹو تھرونٹس واقع ہے جہاں اسپینیش زبان اور ثقافت کے فروغ کے لئے کلاسز ہوتی ہیں ۔
ولیم شیکسپیر کو دنیا کے تقریباً سب لوگ جانتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو شیکسپیر کا انوکھا انداز اور لاجواب تصنیف جس کو دنیا بھر کے تنقید نگاروں نے تسلیم کیا ہے۔شیکسپیر کی تصنیف کو بادشاہوں سے لے کر عام آدمی تک نے پسند کیا ہے۔اس کی ایک عمدہ مثال یہ ہے کہ چار سو سال گزرنے کے بعد بھی شیکسپیر کی تصنیف آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی یہ پہلے تھی۔شیکسپیر کے ڈرامے اور کہانیاں آج بھی پڑھی اور دکھائی جاتی ہیں۔
شیکسپیر 1616 میں 52سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آج تک کسی اور مصنف کے کام کا اثر انگریزی زبان پر اتنا نہیں پڑاجتنا شیکسپیر کا انگریزی زبان پر اثر ورسوخ تھا۔ شیکسپیر نے انگریزی زبان میں لگ بھگ دو ہزار نئے الفاظ اور جملے شامل کئے تھے جن میں (football)فٹ بال، (school boy) اسکول بوائے،(mimic) میمک،(upstairs)اپ اسٹیرس،(downstairs)ڈاون اسٹیرس،(shooting star)شوٹنگ اسٹاراور (partner)پارٹنر عام ہیں ۔