نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا قومی کتاب میلہ

نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے تین سال قبل درحقیقت دوسرا جنم لیا ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید جب سے اس ادارے کے سربراہ بنائے گئے، نیشنل بُک فاؤنڈیشن کو تب سے ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ ادارہ جہاں کتاب اور قلم کاروں کی تخلیقات کو فروغ دے رہا ہے، وہیں وہ کتاب دوستوں، کتاب پڑھنے والوں اور کتاب سے متعلق سماج کے مختلف لوگوں کو کتب بینی کے اس عمل میں داخل کر رہا ہے۔

نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی قیادت میں محدود عرصے میں معجزات کر دکھلائے ہیں۔ ادارہ جو حکومتوں سے مالی مدد کے لیے کشکول اٹھائے کھڑا رہتا تھا، اب منافع سے مالا مال ہوتے ہوئے اپنے کام کو ہر آئے روز وسعت دے رہا ہے۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے سرکاری سطح پر کتاب کے فروغ کے لیے ایک پُرتشدد معاشرے میں امن کا پرچم بھی بلند کرکے امن اور تخلیق کاری کا سربلند کرنے اور معاشرے کو امید کا پیغام دیا ہے کہ ابھی معاشرہ زندہ کھڑا ہے اور تخریب کاروں کے سامنے سر جھکانے کی بجائے، علم فکر اور تحقیق کے لیے اپنا کردار بڑھ چڑھ کر ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی قومی شاہراہوں، ریلوے سٹیشنوں، ہوائی اڈوں سے لے کر چھوٹے بڑے شہروں میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے اپنی کتابوں کے سنگ میل کھڑے کردیئے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں کتاب کو سربلند کرنا جہاں بندوق کو بلند کرنے کی کوشش کی جارہی ہو، وہاں یہ عمل کسی بھی قومی خدمت کے عمل میں سب سے اہم ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس ادارے کا سربراہ متعین ہوئے اور انہوں نے نہایت منکسر المزاجی Humble  سے، یعنی اپنی پروجیکشن کی بجائے ادارے اور کتاب کو سربلند کیا۔ سونے پہ سہاگہ کہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن اوردیگر علمی اداروں کی سربراہی عرفان صدیقی کے ہاتھوں میں آگئی۔ حکومت نے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کی ایک نئی وزارت قائم کرکے بکھرے اداروں کے کردار کو مربوط نظام میں پرونے کا آغاز کر دیا۔ یہ کام نظر آنے والے متعدد ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ اہم ہے کہ یہ شعبہ زندگی قومی تعمیر کا ہے۔ لوگوں کے اجتماعی شعور کی تعمیر کا شعبہ اور عرفان صدیقی جیسے اہل فکر و علم اس وزارت کے سربراہ مقرر ہوئے تو یقین ہوا کہ وزیراعظم نوازشریف کو علم ہے کہ یہ کام ان کے ساتھیوں میں عرفان صدیقی سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ عرفان صدیقی  اس وزارت کے سبب دیگر اداروں کے علاوہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے نگران یا ذمہ دار مشیر وزیراعظم ہیں اور یوں نیشنل بُک فاؤنڈیشن دو دردِ دل رکھنے والے، فکر و علم اور قومی جذبہ رکھنے والوں کے سائے میں مزید پھلنے پھولنے لگی۔

22 اپریل سے  24 اپریل تک نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے اسلام آباد میں قومی کتاب میلہ کا انعقاد کرکے پاکستان کے ادیبوں، پاکستانی کتابوں اور تخلیق کاری کا ایک شاندار اجتماع کیا جس میں پاکستان کے کونے کونے سے دانشور، ادیب، مصنف اور اہل علم و فکر لوگوں نے شرکت کی۔ اس کتاب میلے کا افتتاح صدر مملکت  ممنون حسین نے کیا۔ عورتوں، بچوں، نوجوانوں اور طالب علموں کی تین دن تک شرکت اس ادبی بارات کی روح تھی۔ یہ ادبی میلہ کارپوریٹ ثقافت سے مبرا تھا کہ جہاں زیادہ تر دنیا بھر کے مسائل، دنیا بھر کے مصنفین اوران کی تحریریں اور پاکستان کے مسائل پر ’’بیرونی ماہرین‘‘ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ادبی میلے میں پاکستانیت نمایاں تھی۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام مختلف ادبی سیشنز منعقد ہوئے اور چند ایک کتابوں کی غیر روایتی تقریب رونمائی بھی ہوئی اور اسی طرح کتاب خوانی اور مختلف ادیبوں کے ساتھ گفتگو کی تقاریب بھی ہوئیں۔

اس دوران نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے پاکستان سے مختلف پبلشرز کی جانب سے میلے کے دوران کتب کی فروخت کا اہتمام بھی کیا کہ جہاں کتب فروشوں نے سستے داموں کتابوں کی فروخت کے ذریعے بچوں، نوجوانوں اور طلبا کو سستی کتابیں فراہم کیں۔ ایسے ادبی میلوں کا ایک اور اہم کردار یہ ہوتا ہے کہ وہاں ملک بھر سے آئے ہوئے ادیبوں اور دانشوروں کو مل بیٹھنے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کا موقع ملتا ہے جس میں وہ گفتگو اور بحث زیادہ جاندار ہوتی ہے جو طے شدہ پروگرام کے علاوہ ادیب، دانشور اور اہل فکر، اختلاف اور منطق کے ساتھ کرتے ہیں۔ ایسی بحثیں ہی درحقیقت قومی وحدت، قوم کے ادبی، ثقافتی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی معاملات کو زیربحث لاکر سمجھنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ درحقیقت یہ محفلیں ایسی تقریبات کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔  22 سے 24 اپریل تک بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت، بلتستان سے آئے ہوئےادیبوں، دانشوروں اور اہل فکرنے ان نجی محفلوں میں کھل کر مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

پاک چائنا سینٹر میں برپا ہونے والی یہ تقریب اس پاکستان کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا خواب ہر اس پاکستانی کے ذہن میں گھومتا ہے جو پاکستان کو ایک جدید ریاست، روشن خیال، سماج، منطق، استدلال، برداشت، علم اور فکر کی بنیادوں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک ایسا پاکستان جو تخریب کی بجائے تخلیق کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ فکری طور پر ایک توانا پاکستان، نیشنل بُک فاؤنڈیشن اور دیگر ادارے ایسے کاموں میں جس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یہ ایک بہتر مستقبل کی امید ہے۔

عرفان صدیقی اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ذاتی پروجیکشن کی بجائے اداروں کی تعمیر Institution Building پر یقین رکھتے ہیں۔ جب مخلص لوگ اداروں کو کھڑا کرتے ہیں تو ادارے تعمیر کرنے والے خود بخود متعارف اور مقبول ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں احباب کا شکریہ کہ وہ اتھل پتھل ہوتے سماج میں اپنا علمی، فکری، ادبی اور تخلیقی کردار ادا کر رہے ہیں۔