امان اﷲ خان : شخصیت و جد وجہد

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ  امان اﷲ خان چند دنوں سے ہارٹ انٹرنیشنل راولپنڈی میں زیر علاج تھے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ گلف زون کے صدر راجہ محمد حنیف خان، طالب علم رہنما ادیب ظفر اور راقم صبح چار بجے آبائی گھر کھوئیرٹہ سے امان اﷲ خان سے ملاقات کے لیے پنڈی روانے ہوئے۔ ابھی ہم نے دہان گلی کا پل کراس ہی کیا تھا کہ فرنٹ کے چیف کمانڈر راجہ حق نواز کا فون آیا کہ امان ﷲ خان اس عارضی دنیا سے چل بسے ہیں۔

ان کے ساتھ ملاقات ہمارے مقدر میں نہ تھی۔ بتایا گیا کہ انکی باڈی سرد خانے میں ڈال دی گئی ہے۔ اس لیے ہم ہسپتا ل کے بجائے جے کے ایل ایف کے دفتر بمقام چاندنی چوک راولپنڈی چلے گئے۔ ابھی میں زہنی طور پر کچھ لکھنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کشمیر لنک کے ایڈیٹر نثار کیانی اور دیگر چند صحافیوں نے درخواست کی کہ میں کچھ وقت نکال کر امان اﷲ خان کی رحلت کی مناسبت سے ہنگامی طور پر ایک مضمون لکھوں۔ انتہائی دکھ بھرے لمحات میں اتنی جلدی ایک تاریخ ساز شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے شاید میں انصاف نہ کر سکوں۔ لیکن صحافیوں کی خواہش کے مطابق ایک کوشش کر رہا ہوں۔

امان اﷲ خان کے ساتھ میری پہلی ملاقات جولائی 1981ء میں جرمنی میں اس وقت ہوئی جب وہ برطانیہ سے ہمراہ دو ساتھیوں اسلم مرزا اور سردار مضبل خان ملاقات کے لیے آئے۔ ہماری ملاقات کا سبب مقبول بٹ کی رہائی کے لیے قائم ہماری مہم تھی۔ امان اﷲ خان نے برطانیہ سے مجھے خط لکھا کہ وہ مقبول بٹ کے تحریکی ساتھی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ ہم مل جل کر کام کریں۔ ہم نے ان کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ وہ جرمنی کے صنعتی شہر سٹٹ گارٹ ہمارے پاس آئے جہاں ہم نے ان کے اعزازمیں ایک تقریب منعقد کی۔ امان اﷲ خان نے بتایا کہ انہوں نے کن حالات میں محاز رائے شماری کے پلیٹ فارم سے میرپور کے باسی  عبدالخالق انصاری، مقبول بٹ شہید اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کشمیر کی وحدت کی بحالی کی جد و جہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تیرہ سال کی عمر کے تھے کہ ان کے اندر وطن عزیز کی آزادی کا جذبہ بیدار ہوا۔

وہ چوبیس اگست 1931 ء کو کھنگرول گلگت میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی تین سال کے تھے کہ ان کے والد محترم داغ مفارقت دے گئے۔ جس کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ ان اپنی کفالت کے لیے محنت مزدوری بھی کرنا پڑی۔ پرائمری سکول میں انہیں طلبا یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ پاکستان کے وزایر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے خلاف طلبا نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی۔ اس وقت وہ ہندواڑہ میں زیر تعلیم تھے۔ طلبا کے خلاف حکومت حرکت میں آ گئی توہ 1952 ء میں خفیہ راستوں سے پاکستان آ گئے، جہاں پشاور میں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ 1963 ء میں کشمیر انڈپنڈنس کمیٹی قائم کوئی جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ 1966 ء میں مقبول بٹ شہید کے ساتھ مل کر جموں کشمیر محاز رائے شمار کا عسکری ونگ نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کیا۔ اس ونگ کے پلیٹ فارم سے مقبول بٹ گلگت کے انیس سالہ نوجوان اورنگ زیب کے ساتھ بھارتی مقبوضہ کشمیر گئے۔ اورنگ زیب نے اس نئی جد و جہد کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کیا۔ مقبول بٹ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاتے ہوئے گرفتار ہوئے۔ اس دوران بھارت کا ایک بارڈر انسپکٹر دوران مقابلہ مارا گیا۔ مقبول بٹ کو بھارتی فوج نے گرفتار کرکے مقدمہ چلایا اور پھانسی کی سزا سنائی۔ مقبول بٹ دو سال بعد جیل سے فرار ہو کر آزاد کشمیر آ گئے جہاں انہیں قید کر دیا گیا۔ لیکن اما نﷲ خان اور محاز رائے شماری کی جد وجہد کے نتیجے میں تین ماہ بعد رہا ہوئے۔

1971 ء میں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی گنگا اغوا کرکے لاہور لائے جہاں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ ذوالقار علی بھٹو ان سے لاہور ائر پورٹ پر ملے اور کہا کہ کاش یہ کام  مرتضی اور شاہ نواز کرتے۔ لیکن مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے مجیب الرحمن کے ساتھ ادھر ہم ادھر تم کی کی جنگ کے دوران اپنے جرائم چھپانے کے لیے گنگا ہائی جیکنگ کو بھارت کی سازش قرار دے کر محاز رائے شماری کے تین سو کارکنوں کو گرفتار کر کے شاہی قلعہ لاہور میں بند کر کے انتہائی غیر انسانی سلوک کیا۔ اما ن اﷲ خان نے کہا کہ ان تمام تر زیادتیوں کے باوجود وہ پاکستان اور بھارت کو ایک پلڑے میں نہیں تولتے۔ لیکن انہوں نے واضع کیا کہ پانچ جنوری 1949 کو پاکستان نے سیکورٹی کونسل کی قرارداد منظور کروا کر مسلہ کشمیر کو جس طرح پاک ۔ ہند کے علاقائی جھگڑے میں تبدیل کیا، وہ اس کو  نہیں مانتے۔

پاکستان میں جب سیاسی جد و جہد جاری رکھنا مشکل ہو گیا تو محاز رائے شماری نے انہیں برطانیہ بھیجا جہاں عبدالخالق انصاری کے تعاون سے 1977 جموں کشمیر لبریشن فرنٹ قائم کیا گیا ،جسے محاز رائے شمارکی ذیلی تنظیم کے طور پر قائم کرنا تھا۔ مگر 1982 ء میں لبریشن فرنٹ محاز سے الگ ہو گیا۔ دو سال بعد مقبول بٹ کی جان بخشی کے لیے بھارتی سفارتکار مہاترے برمنگھم میں اغواء کیا گیا جس میں راقم بھی گرفتار ہوا اور 22 سال ماورائے عدالت قید رہا۔  یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے مجھے بری کیا۔ میں نے منصوبے کی ناکامی کی جانکاری کے لیے لبریشن فرنٹ کی اس وقت کی سنٹرل کمیٹی کو تحقیقات کرنے کے لیے جیل سے خط لکھا مگر عمل نہ ہوا ۔ اما ن اﷲ خان متعدد بار برطانیہ سے مسلہ کشمیر اٹھانے کے لیے اقوام متحدہ گئے۔ برطانیہ سے انہیں مہاترے کیس میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے نتیجے میں ملک بدر کر دیا گیا۔ پ

اکستان پہنچ کر انہوں نے چودہ کشمیری تنظیموں کے ساتھ ملکر ایک اتحاد قائم کیا جس میں زیادہ تر پاکستان نواز جماعتیں تھیں ۔ یہ اتحاد آہستہ آہستہ خود بخود ختم ہو گیا۔ اتنے میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں1989 میں لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جد و جہد کا آغاز ہوا۔ تحریک زوروں پر تھی کہ حزب المجاہدین قائم کر دی گئی۔ لبریشن فرنٹ کو ایک طرف بھارت اور دوسری طرف اندرونی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ 1992ء میں امان ﷲ خان نے خونی لکیر توڑنے کا اعلان کیا جس میں آر پار کے لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا۔ مگر ہندوستان اور پاکستان کی افواج نے کشمیریوں کو دونوں اطراف روک لیا۔ دنیا بھر کے میڈیا نے کوریج دی ہمارے درجنوں ساتھی اور بچے شہید ہوئے مگر نام نہاد اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

اما ن اﷲ خان پر پاکستان چھوڑنے کے آخری وقت تک پابندی قائم رہی۔ میں یوں تو تحریک آزادی کے لیے جد جہد کرتا رہا مگر کئی سال تک لبریشن فرنٹ سے الگ رہا ۔ لبریشن فرنٹ کے سنئیر وائس چئیرمین اور مقبول بٹ شہید کے ساتھ قید رہنے والے حمید بٹ، کمانڈر راجہ حق نواز اور گلف زون کے صدر راجہ حنیف خان کی کوششوں اور امان اﷲ خان کی دیرینہ خوا ئش پر میں فرنٹ میں واپس آیا۔ امان اﷲ خان ہمراہ ساتھیوں مجھے ملنے کے لیے کھوئیرٹہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ قلمی محاز پر زیادہ کام نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے انکی خواہش ہے کہ میں اس کمی کو پورا کروں۔ انہوں نے انگلش میں اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے سربراہان کو لکھے جانے والے مکتوب کا ڈرافٹ مجھے دے کر کہا کہ اسے عالمی معیار کے مطابق کمپوز کروں۔ میں کمپوز کر رہا تھا کہ امان ﷲ خان میرے پانچ سالہ اکلوتے بیٹے برہان کی حادثاتی موت پر لکھی جانے والی میری کتاب کا مطالعہ کرتے کرتے رو پڑے۔ ماضی میں کئی معاملات پر میرے اختلاف رائے اور سخت رویے کے باوجود ان کے دل میں میرے لیے ہمیشہ نرم گوشہ رہاجو ہمارے تعلقات کی بحالی کا سبب بنا۔

امان اﷲ کھوئیرٹہ کے جس آدمی سے ملتے اس سے میرے بھائی اور والدہ کا خصوصی ذکر کرتے تھے۔ امان اﷲ خان جہاں بعض اوقات ہٹ دھرم نظر آتے تھے وہاں روادار بھی تھے۔ وہ اکثر لوگوں کی تحریروں اور تجویزوں کو رد کیا کرتے تھے لیکن مجھے وہ اپنی تحریریں درست کرنے کے لیے دیا کرتے تھے۔ آخری بار انہوں نے مجھے ایک ڈرافٹ دیا جس میں نہوں نے لکھا کہ کشمیر کا رہائشی رائے شماری میں حصہ لے سکے گا۔ میں نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ صرف ریاستی باشندے کو رائے شماری میں حصہ لینے کا حق ہونا چاہئے۔ رہائشی تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اس پر وہ بڑے خوش ہوئے۔ یہ ان کی آخری تحریر تھی۔ وہ سیاستدان ہی نہیں جس کے ساتھ کسی کو اختلاف نہ ہو۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اما ن اﷲ خان زندگی کی آخری سانس تک مسلسل جد وجہد کرتے رئے۔ آزادی کا سورج دیکھنا ان کے مقدر میں نہ تھا۔ لیکن آنے والی نسلیں انشااﷲ اس جد وجہد کا ثمر پائیں گی۔

اس موقع پر ہم امان اﷲ خان کے خاندان سے دلی اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور اپنی قومی جد و جہد جاری و ساری رکھنے کا عزم کرتے ہیں!