روحانیت کا سچا راستہ
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعرات 28 / اپریل / 2016
- 8164
عاشق چور فقیر خُدا توُں منگدے گُپ انیہرہ
اِک لٹاوے ،اِک لٹے، اِک کہہ دے سب کج تیرا
ان الفاظ تک تو سمجھ کے دریچوں میں کچھ کرنیں یہ پیغام لے کر پہنچیں کہ حقیقت میں روحانیت ہے کیا اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ لیکن جیسے جیسے آپ بابا جی کی تحریروں کا مطالعہ کرتے جاتے ہیں۔، ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ بابا یحییٰ خان یقیناًروحانیت کی ایسی درسگاہ کا درجہ رکھتے ہیں جو حقیقی روحانیت اور وقت گزاری کے درمیان ایک واضح لکیر ہیں۔
اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تقاضوں کے بالکل برعکس پاکستان میں اس وقت عاملین ، حکماء، اطباء ، علماء، عشاق اور بابے بیچ چوراہوں میں اپنی اپنی ہنڈیا لیے بیٹھے ہیں اور سائلین ان کے ہاتھوں متاثرین بن رہے ہیں( حقیقی علماء، حکماء ، اطباء وغیرہ ہرگز بھی دیواروں ، درختوں، سرکاری عمارات کو اپنی تشہیر کا ذریعہ نہیں بناتے۔ وہ تو بابا یحییٰ کی طرح مخلوق خدا کو حقیقی روحانیت سے روشناس کروانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں)۔ راقم ذاتی طور پہ ایک چوراہے پر گیااور سوچا کہ ذرا بابا جی کی باتوں کی سچائی بھی دیکھی جائے ۔ کیا ایسا تو نہیں کہ یہاں بھی ہمیں کتابی باتوں میں مجذوبیت اور حقیقت پسندی کے نقارے بجا کر صرف الجھایا ہگیا ہے۔ چہرے پہرحتی المقدور مسکینی کے چھینٹے مار کے جیسے ہی باباجی (چوراہی) کے سامنے گیا، دور سے ہی اِک نعرہء مستانہ(جعلی ڈگری کی طرح) بلند ہوا اور نِدا آئی بچہ تو بہت مسائل میں گھراہوا ہے۔ مزید بے بسی کی تصویر بن کر افسردگی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ بابا جی نے وہ وہ بیماریاں بھی گنوا دیں جو میرے خاندان تک میں کسی کو نہیں تھیں۔ اٹھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر بابا جی (چوراہی) کی واقعی اتنی کرامات ہیں تو پھر وہ فٹ پاتھ پرڈیرا کیوں لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ بھی بابا یحییٰ کی طرح مخلوق تک اپنا علم پہنچانے کا ذمہ کیوں نہیں لیتے۔
چوراہی بابے نہ صرف ہمارے ایمان کی کمزوری کا سبب ہیں بلکہ خاندانوں کی تباہی میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے، بابا جی لکھتے ہیں کہ" جب طلب و مطلوب، عاشق و معشوق، محب و محبوب، الوہیت کے رنگ میں رنگے جائیں اور کسی ایک کو دوسرے کی گود نصیب ہو جائے تو پھر گور کے بجائے گود میں سونے کو جی چاہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ماں، محبوب اور مرقد کی گود بڑی گداز ہوتی ہے ۔سونے کا سواد آ جاتا ہے۔ اور حشر تک پڑے رہنے کو جی چاہتا ہے"۔ مرقد کا ذکر بھی آئے تو خوف کی جھرجھری آ جاتی ہے کہ لیکن بابا جی نے روحانیت کے ایسے معیار پر مرقد کو پرکھا ہے کہ دل چاہتا ہے مرقد کا مکیں ہونے کو۔ ہم رب کی شکرگزاری کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو سجدہ ء شکر سے سر نہ اُٹھائے۔ سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک رب کی صناعی شکر کے لائق ہے لیکن ہم شکر ادا نہیں کرتے ۔
بابا جی ایک جگہ تحریر کرتے ہیں کہ ان کی روحانیت کی پہلی درسگاہ ان کی چاچی کھانا کھاتے ہوئے گویا ہوئیں کہ" چھوٹے چھوٹے لقمے اور وقفہء لقمہ میں الحمد للہ کہنا رازق سے رزق وصول کرنے کی شکر گزاری ہے " لفظوں کا سحر ہے جن میں قاری کھو جاتا ہے۔ ہم بطور قوم ایسے فقرا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں جن کا یہ ذریعہ معاش ہے۔ خاندان ان کے ہاتھوں بکھر رہے ہیں۔ قبرستان سے مردے نکالے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف ہو رہے ہیں۔ لیکن حقیقی فقیر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے بابا جی لکھتے ہیں کہ " خواہش ، مرضی، تمنا، طلب اور حرص ان سب چیزوں سے ہٹ کر راہ پکڑنے کا نام فقیری اور درویشی ہے۔ اندیشہء سودو زیاں دنیا کے بندوں کے دلوں میں ہوتا ہے ۔ فقیروں کے ہاں محض تسلیم و رضا کی بات ہوتی ہے"۔ باباجی کو روحانیت کی الگ دنیا کا ایک سفر "رجُل سیاہ پوش " نے کروایا ۔ ایسے ہی رجل کی ضرورت آج بھی ہے جو لوگوں کو حقیقی و جعلی روحانیت کا فرق بتائے اور پیغام کو پھیلائے۔
روحانیت ، مجذوبیت، فقر، درویشی ایک ایسی دنیا ہے جہاں مخلوق کی خدمت خالق کی رضا سمجھ کر کی جاتی ہے۔کچھ نام نہاد عناصر روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر سرمایہ کاری کرتے ہیں جو نہ صرف اسلام کے نام پہ دھبہ ہیں بلکہ عام آدمی کی پریشانی کا باعث بھی ہیں ہر ذی شعور کا فرض ہے کہ وہ روحانیت اور کاروبار میں فرق خود بھی سمجھے اور دوسروں تک بھی یہ پیغام پہنچائے۔