پاکستان میں احمدیوں کی حالت زار
- تحریر منور علی شاہد
- جمعہ 29 / اپریل / 2016
- 12081
پاکستان میں بسنے والے تین ملین سے زائد پاکستانی احمدیوں کی حالت زار دنیا میں گزشتہ تین دہائیوں سے موضوع بنی ہوئی ہے اور اس کا آغاز تیس برس قبل26اپریل1984 کو ہوا تھا جب اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر ضیا ء الحق نے امتناع قادنیت آرڈینس نافذ کیا تھا۔ اس نے پاکستان میں بسنے والے تمام احمدیوں سے ان کی مذہبی آزادیاں چھین لیں تھیں آئین میں 298B,298C کی نئی ترامیم شامل کرکے ایک ننگی تلوار احمدیوں کے سروں پر لٹکا دی گئی تھی۔ اس طرح ظلم و ستم، نا انصافی اور پرتشدد حملوں کی ایک نئی خون آلود تاریخ لکھی ، جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے پاکستان میں بسنے والے احمدیوں پرظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے اور ان مظالم اور اندھا دھند گرفتاریوں کی بازگشت اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور یورپ و امریکہ و کنیڈا تک پہنچی۔ حکومت وقت سے بھرپوراحتجاج کیا گیا۔ یہ آواز اگر نہیں پہنچی تو پاکستان کے اندر کی عدالتوں تک نہیں پہنچ سکی۔ اس قانون نے احمدی پاکستانیوں کو اپنے ہی وطن میں بے نام کر دیا ہے اور آج ان کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیام، دفاع اور استحکام پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
قوانین ملک و معاشرے سے جرائم کے خاتمہ کے لئے بنائے جاتے ہیں جو ملک کے شہریوں کو تحفظ دیتے ہیں لیکن یہ ضیائی قانون ایسا قانون ہے جو خود جرائم کو جنم دے رہا ہے، لوگوں کوجرم کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کے قتل کرنے، ان کی املاک و جائیداد کو لوٹنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ایسا قانون ہے جس نے رواداری کا خاتمہ کیا اور عدم رواداری کو جنم دیا، انصاف کا قتل کیا اور نا انصافیوں کی بنیاد رکھی۔ تمام جمہوری، انسانی اور اخلاقی اصولوں کو پامال کیا ۔ اس قانون کا مذہب کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ یہ فرقہ وارانہ سوچ کی اختراع ہے اور اس کے پیچھے وہی طاقتیں چھپی ہیں جو کہتی ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا۔ اس قانون کی آڑ میں جماعت مخالف گروہوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ جب چاہیں اور جس کے خلاف چاہیں جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کرادیں ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنی ایک رپورٹ جو اس قانون کے نفاذ کے سات سال بعد ستمبر 1991میں جاری ہوئی تھی، میں انکشاف کیا تھا کہ ضیاء کے دور میں اس وقت کی مذہبی جماعتوں اور علما نے ضیاء الحق کو الٹی میٹم دے رکھا تھا کہ وہ 30اپریل تک احمدیوں کے خلاف قومی اسمبلی کے فیصلے کی روشنی میں مزید اقدامات کرے ۔ اس الٹی میٹم کے ختم ہونے سے چار دن قبل ہی احمدیوں کے خلاف یہ قانون نافذ کر دیا گیا۔
ایمنسٹی اپنی اسی رپورٹ میں اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ:
It is contrary to the 1981 United Nations Declaration on the Elimination of All Forms of Intolerance and of Discrimination Based on Religion and Belief. Indeed, in August 1985 the United Nations Sub-Commission on the Prevention of Discrimination and Protection of Minorities passed a resolution expressing "grave concern at the promulgation of Ordinance XX [see below] ...which, prima facie, violates the right to liberty and security of persons, the right to freedom from arbitrary arrest or detention, the right to freedom of thought, expression, conscience and religion, the right of religious minorities to profess and practise their own religion and the right to effective legal safeguard
ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ احمدیوں کے خلاف یہ قانون انسانی حقوق کے یو ڈی ایچ آر کے آرٹیکل18 کی خلاف ورزی ہے ۔
26اپریل کو اس قانون کے نفاذکو پورے تیس برس پورے ہوگئے۔ ان برسوں میں جس طرح کی انتہا پسندی نے جنم لیا ہے، اس کے نتیجہ میں پورے پاکستان اور خصوصا پنجاب کا ماحول ہر احمدی کے لئے ایسا مسکن بن چکا ہے جہاں ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔ ایک احمدی جہاں پڑھتا ہے ، کام کرتا ہے اور کھیلتا ہے وہاں موت اس کی منتظر ہوتی ہے ، جو نہ جانے کب اس کو دبوچ لے۔ بدقسمتی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی جانب سے سرد مہری کی پالیسی کے نتیجہ میں پورے ملک کی فضا احمدیوں کے لئے بہت خطرناک ہو چکی ہے۔اس قانون نے پاکستان کے اندر اجتماعی حملوںmobs attack کو جنم دیا جس کا آخری نشانہ بھی گزشتہ سال نومبر میں جہلم میں چپ بورڈ کی ایک فیکٹری بنی تھی۔ مشتعل ہجوم نے اسے نذرآتش کردیا تھا۔اس قانون کے اندر چھپی نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے نفاذ کے بعد قبرستان میں مدفون احمدی بھی محفوظ نہیں رہے۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اسلام آباد سے سارہ حسن کی ایک رپورٹ میں پاکستان میں مقیم احمدیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ2015 کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سال احمدیوں کے خلاف جاری نفرت و تشدد کی لہر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے احمدیوں کے تحفظ میں ناکام رہے۔پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ایسا شرانگیز لٹریچر کھلے عام شائع کرکے تقسیم کیا جا رہا ہے جس میں احمدیوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ سے لیکر قتل تک کی ترغیب دی جا تی ہے۔پریس ریلیز کے مطابق2015 بھی اردو پریس کی طرف سے بے بنیاد اور اشتعال انگیز خبروں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا اور1570 سے زائد خبریں اور334 سے زائد مضامین مخالفانہ پروپگنڈے کے طور پر شائع کئے گئے۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے انسانی حقوق ڈیسک کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ 2015 میں تفصیل سے اس قانون کے نفاذ کے بعد درج کئے جانے والے مقدمات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس قانون کے نفاذ کے بعد سے دسمبر 2015 سے اب تک مختلف نوعیت کے3996 مقدمات درج ہو چکے ہیں ۔ ان میں اذان دینا، خود کو مسلمان ظاہر کرنا، کلمہ طیبہ کے بیج سینے پر آویزاں کرنا ، نمازوں کی ادئیگی ، تبلیغ کرنا ، اسلامی شعائر کے استعمال کے علاوہ دیگر مذہبی بنیادوں پر ہزاروں مقدمات شامل ہیں۔تضحیک مذہب کے مقدمات میں بھی اس قانون کو بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جماعت کی مخالف دینی جماعتوں کے دباؤپر 1984 کے بعد سے اب تک احمدیہ جماعت کی27مساجد کوشہید کیا چکا ہے جبکہ32مساجدکو سرکاری احکامات کے تحت سیل کیا گیا،بیس کو آگ لگائی گئی یا آگ لگانے کی کوشش کی گئی ، سولہ مساجد پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا اور پچاس کی تعمیر کو زبردستی روکا گیا۔ اس قانون کے ذریعے قبرستان اور قبروں کا تقدس پامال کیا گیا۔ اس وقت جماعت کے تمام جرائد و رسائل پر سینکڑوں کی تعداد میں مقدمات درج ہیں، جبکہ مساجد سے کلمہ طیبہ مٹانے اور اکھیڑنے کے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ اسی رپورٹ کے مطابق39 تدفین شدہ میتوں کو مذہبی جماعتوں کی مخالفت اور احتجاج پر قبروں سے نکالا گیا۔ 65 فوت شدگان کو مشترکہ قبرستان میں دفن کرنے سے منع کیا گیا۔ اس کے علاوہ102واقعات میں احمدیوں کی مساجد سے کلموں کو مٹایا یا اکھیڑا گیا۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امتیازی قوانین اور جانبداری کے نظریات اور تصور کے ساتھ کوئی ریاست اور حکومت استحکام نہیں پا سکتی ہے۔ اور نہ ہی ترقی کی منزلیں طے کر سکتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ کیونکہ اس قانون نے پاکستان سے ایمانداری، قابلیت، دیانت، ذہانت اور فراست سبھی کے دروازے بند کردئے۔ وہ ادارے جو کبھی پاکستان کی نیک نامی اور اس کے استحکام کی ضمانت ہوا کرتے تھے اس قانون کے باعث اب زبوں حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ادارے ہی کسی ریاست کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ لیکن اس قانون کے باعث اب ہر طرف ناکام ریاست کی بازگشت سنائی دیتی ہے کاش کہ کوئی سننے اور سمجھنے والا ہو۔