عمران خان، نظام گراؤ حکومت نہیں
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 30 / اپریل / 2016
- 5006
عمران خان 2013ء میں انتخابات کی کامیابی کے بعد جس دھج سے سیاست کر رہے ہیں، لگتا ہے ان کا تصورِ جمہوریت، کسی کوڈیٹا سے متاثر ہے۔ وہ معاملاتِ سیاست کو آئین، جمہوریت اور قانون سے بالاتر ہو کر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد حکومت کو اپنے ’’تصورِ جمہوریت‘‘ کے مطابق تحلیل کرنے کے لیے دھرنا اور سول نافرمانی کا قدم اُٹھایا۔
کیا معاملاتِ زندگی یا سیاست میں ایمانداری اور نیک نیتی کی کلغی ہی کافی ہے؟ ہرگز نہیں! زندگی اور سیاست کے معاملات میں ایمانداری اور نیک نیتی تو ایک ایسی بنیاد ہے جس کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ ان دونوں عناصر کے ساتھ Competency (اہلیت) کا عنصر کسی بھی شخص کی اس شعبے میں کارکردگی کے لیے لازمی جزو ہے۔ اگر ایمانداری اور نیک نیتی ہی کسی بھی شعبے میں کافی ہو تو پھر اہلیت کی بھلا کیا ضرورت۔ کوئی بھی شعبہ زندگی یا ادارہ قابلیت، اہلیتCompetency کے بغیر چلایا ہی نہیں جاسکتا۔ پچھلی دو تین دہائیوں میں چند ممالک میں ایسے لیڈر بھی ابھرے ہیں جو قابلیت یا اہلیت کی مثال ہیں، یعنی انہوں نے اپنے ممالک میں ترقی، خوشحالی اور کامیاب معیشت کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا لیا۔ میرے ذاتی مطالعے کے مطابق یہ دو لیڈرز جن کا تعلق دو اسلامی ممالک سے ہے، انہوں نے اپنے ملک کی ترقی اور معیشت کو چار چاند لگا دئیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرپشن کی بھی انتہا کر دی اور ہم نے دیکھا کہ وہاں کے عوام نے ان کی کرپشن کوبالائے طاق رکھ کر ان کی پالیسیوں کے حوالے سے حمایت کرتے ہوئے، ان کی قائدانہ صلاحیت کو اہمیت دی۔
میں قطعاً کسی طرح کی کرپشن کو جواز نہیں بنانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان دو لیڈروں جن کا تعلق اسلامی دنیا کے دو ان ممالک سے ہے جن کی مثالیں اب ہمارے ہاں دی جاتی ہیں۔ ان دو رہنماؤں نے سیاست کا ایک نیا ماڈل متعارف کروایا، یعنی Development & Corruption۔ ان کے ہاں اور ہمارے یہاں بھی ان دونوں رہنماؤں کے مداحین ان کی کرپشن کی ثابت کردہ داستانوں پر کان نہیں دھرتے۔ دلچسپ تضاد یہ ہے کہ ان دونوں ممالک ملائیشیا اور ترکی میں دونوں رہنماؤں نے جہاں کرپشن اور ڈویلپمنٹ کا تصورِ سیاست دیا، وہیں ان دونوں رہنماؤں نے اپنے ہاں دو مخالف مذہبی سیاست کرنے والوں کو نہ صرف ریاستی جبر کے تحت ایسے مقدمات میں الجھایا کہ ان کو جیل یا جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔ ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم جیل اور ترکی کے مذہبی رہنما فتح اللہ گلین کو جلاوطن ہونا پڑا۔ ان دونوں رہنماؤں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے ہاں حکومتوں اور حکمرانوں کی مخالفت کی۔
ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ وہاں کے عوام نے ان دونوں حکومت مخالف رہنماؤں کو مذہبی بنیاد پر حکومتوں کی مخالفت اور اِن دونوں ممالک کے حکمران رہنماؤں کی کرپشن کی ثابت شدہ داستانوں کو نظر انداز Ignore کرکے، ترقی، خوشحالی، مضبوط معیشت اور جاندار اقتصادیات کو اہمیت دی۔ یہ تکلیف دہ حقائق ہیں، لیکن ان کو اپنی خواہشات کے مطابق آنکھوں سے اوجھل نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے ہاں جن دیگر ممالک کی ترقی و خوشحالی کی مثالیں دی جاتی ہیں، ذرا ان کا مطالعہ کریں تو ایسے ہی حقائق سامنے آئیں گے، جیسے درج بالا ممالک کے حقائق ہیں۔ کرپشن کے حوالے سے درج بالا مثالیں یقیناً تکلیف دہ ہیں، لیکن مدعا یہ ہے کہ عوام ایسی سب داستانوں اور ثبوت شدہ حقائق کو مسترد کر دیتے ہیں، جب وہ یہ دیکھ رہے ہوں کہ ترقی کے نتائج ان تک پہنچ رہے ہیں۔ ایک کامیاب لیڈر کے لیے اہلیت (Competency) سب سے اہم عنصر ہے۔
عمران خان نے انتخابی کامیابی کے بعد جس انداز میں اقدامات اٹھائے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ Agitation کی سیاست سے نابلد ہیں۔ یعنی ان کے یہاں اس شعبہ میں بھی صلاحیت Competency کا فقدان ہے۔ میرے لیے عمران خان کے نیٹو کے حوالے سے دو مختلف موقف، مضحکہ خیز ہیں۔ نیٹو جب افغانستان میں موجود تھی تو عمران خان بیان داغا کرتے تھے ’’ نیٹو افغانستان سے نکل جائے‘‘ اور جب نیٹو نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا تو خان صاحب نے بیان داغے، ’’ہم نیٹو کے آگے لیٹ جائیں گے‘‘۔ مجھے آج تک ان کے ان بیانات کی حکمت سمجھ نہیں آئی۔ وہ نواز حکومت پر کرپشن کا الزام لگاتے ہیں، ان کو گھر روانہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن جب وہ کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں تو ان کو اپنے دائیں بائیں بیٹھے وہ دونوں ساتھی نظر کیوں نہیں آتے جنہوں نے حکمرانی کے بغیر کرپشن کے ذریعے سرمائے کے انبار لگالئے۔ ذرا تصور کریں، یہ مشہورِ زمانہ ’’اے ٹی ایم رہنما‘‘ جب اقتدار میں آئیں گے تو کیا کیا گُل کھلائیں گے۔
نواز حکومت اور نوازشریف کا خاندان اگر کرپشن میں ملوث ہے تو اس کا فیصلہ آئین وقانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ میں عمران خان کا یہ حالیہ بیان بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ’’پہلے نوازشریف کا احتساب ہو پھر میرا‘‘۔ اگر آپ دوسرے کا احتساب چاہتے ہیں تو پہلے اپنا احتساب کروائیں اور اسی طرح آپ نوازحکومت میں شامل وزراء کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے ’’اے ٹی ایم رہنماؤں‘‘ کو کٹہرے میں کیوں کھڑا نہیں کرتے؟
نواز حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ سرکار کے پیسے پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اپنا دفاع کرے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، وہ مجھے ذرا یہ بتائیں کہ کبھی مغرب میں رکھی تیسری دنیا کے کسی لٹیرے لیڈر اور سرمایہ داروں کی دولت واپس آئی ہے؟ یہ بیان یا موقف سیاسی ادراک سے کوسوں دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ایک شاندار پیداواری قوم ہے اور اندرون ملک لوٹ مار کا جو نظام ہے، یعنی پیداواری طبقات جس معاشی استحصال کا شکار ہیں کیا یہ کرپشن نہیں؟ ٹرلین ڈالرز کی کرپشن جو اس نظام کے سبب نسلوں سے جاری ہے۔ پاکستانی معیشت 85 فیصد بلیک اکانومی پر کھڑی ہے۔ کیا یہ کرپشن نہیں؟ کسان، مزدور اور محنت کش طبقات کو ان کی اجرت ان کی محنت کے مطابق نہیں ملتی، کیا یہ کرپشن نہیں؟ ملک کے اندر جاری استحصالی نظام، کیا یہ کرپشن نہیں؟ گڈگورننس اور کرپشن، یہ دو ایسے سیاسی مطالبے ہیں، جن کا آغاز سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی اداروں سے ہوا۔ لوگوں کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے۔ ایسے ہی جیسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوریت برآمد "Export Democracy" کرنے کا اعلان کیا۔ ان ممالک کا جو حشر ہوا، جہاں عالمی سرمایہ داری نظام نے ڈیموکریسی ایکسپورٹ کی، وہ سب کے سامنے ہے۔ عراق، لیبیا، شام، یمن اور دیگر ممالک۔
عمران خان اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں توسوال یہ ہے کہ کیا وہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور عالمی سرمایہ داری نظام سے چھٹکارے کا کوئی ایجنڈا رکھتے ہیں؟ وہ جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں؟ وہ کسانوں کے حقوق اور زمین کی ملکیت کی حد کے حوالے سے کیا مؤقف رکھتے ہیں؟ ان کے پاس نو آبادیاتی نظام پر کھڑی ریاست اور اس نوآبادیاتی نظام کی مرہونِ منت جمہوریت کا متبادل تصورِ جمہوریت کیا ہے؟ کیا وہ عالمی سرمایہ داری نظام کے Neoliberal Agenda کے مخالف ہیں؟ انہوں نے اپنی پارٹی کی قیادت کن لوگوں کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جو جاری نظام کے مفاد یافتہ Beneficiary ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مزید مفاد یافتہ More Beneficiaries ہونے کے خواہاں ہیں؟
کیا تحریک انصاف کی قیادت انہی لوگوں کے پاس ہے جنہوں نے اس کی غیر مقبولیت کے زمانے میں دن رات ایک کر دئیے تھے؟ اگرعمران خان، نواز حکومت کو گرا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نظام کو ڈھا دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ اور اگر ان کا اس پر کامل یقین ہے کہ حکومتوں کو ڈھانے سے نظام بدل جاتا ہے تو پھر ان کے سیاسی ادراک پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔