متحدہ یورپی فوج کا منصوبہ

یورپی یونین کے متعدد رکن ملک اگرچہ  نیٹو میں شامل ہیں تاہم اس کے باوجود یورپی یونین مشترکہ مسلح افواج،  مشترکہ کمان اور برسلز میں یورپی یونین کے مرکز میں ایک مستقل فوجی ہیڈکوارٹر  قائم کرنا چاہتی ہے۔  اس سلسلے میں یورپی یونین نے اپنی سلامتی و تحفظ اور دفاع کے لیے جو نئی  حکمت عملی پیش کی ہے، اس پر یورپی پارلیمنٹ میں حال میں حمایت کا اظہار کیا گیا ہے ۔

ان دنوں یورپی یونین ایک نئی خارجہ و سیکورٹی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے ۔  اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق سے متعلق ایک ڈرافٹ پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ اس کا امکان کم ہے کہ یورپی پارلیمنٹ، یورپی رہنماؤں کی اس خواہش کے مطابق فیصلہ کرے۔  لیکن یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یورپی یونین کن راہوں پر چلنے کے لیے پر تول رہی ہے ۔ 

مشترکہ فوج بنانے کے لیے یورپی یونین ایک طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ یونین صرف اقتصادی و  سیاسی لحاظ سے ایک ’’سپر پاور ‘‘ نہیں بننا چاہتی بلکہ عسکری اعتبار سے بھی وہ  اپنی قوت کا اظہار چاہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے  کہ یورپی یونین کے موجودہ میثاق میں اس  بات کو شامل رکھا گیا ہے کہ یورپی یونین کی ایک مشترکہ فوج بنائی جائے گی۔ یورپی اقتصادی بحران کی وجہ سے اس منصوبے کو ’’ سٹیند بائی ‘‘ رکھا گیا تھا۔ لیکن اب اسے دوبارہ سامنے لاتے ہوئے اس پر تیزی سے عمل  کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 

یورپی یونین رکن ممالک کے باہم انضمام کی طرف بھی بھرپور توجہ  دے رہی ہے ۔  اس طرح  رکن ممالک کو ایک ایسی گرہ میں باندھنے کی کوشش کی جائے گی جو کبھی کھل نہ سکے ۔  یہی وجہ ہے کہ اب زور دیا جا رہا ہے کہ ’’ میثاق لزبن ‘‘ کے ایک ایک لفظ، ایک ایک سطر پر عمل کیا جائے اور یورپی سلامتی اور دفاعی پالیسیوں کو اس میثاق کے مطابق ڈھالا جائے ۔  یہی یہ  وہ نکتہ ہے جسے بنیاد بنا کر یورپی یونین اپنی ایک مشترکہ فوج بنانے پر غور کر رہی ہے ۔

حالیہ دنوں میں یورپی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی ایک قرار داد کے پیراگراف نمبر دس میں کھل کر کہا گیا ہے کہ ’’ پارلیمنٹ  چاہتی ہے کہ مستقل ضم شدہ کثیر القومی فوجی یونٹ، عام دفاعی افواج، اور عام دفاعی پالیسیاں  بالآخر ایک یورپی دفاعی یونین ہونی چاہیے، جس کی قیادت کے لیے ایک فریم ورک بنایا جائے اور اس تناظر میں یورپی یونین کا اپنا مستقل فوجی ہیڈ کوارٹر ہونا چاہیے ۔ اس قرار داد میں مشترکہ یورپی دفاع کے لیے کئی پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔  یہ بھی یاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ یورپی یونین کا ایک اہم سٹریٹجک حصہ دار ہے ۔ ان  کے درمیان باہمی دفاعی اشتراک لازمی ہے ۔  قرار داد میں یورپی یونین کی  مشترکہ فوج بنائے جانے کی سفارش کی گئی ہے اور یورپی عسکری قوت کو بڑھانے کے لیے بھی سفارشات و تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ ہر رکن ملک اپنی قومی پیداوار کا  دو فیصد حصہ دفاع کے لیے مخصوص کرے ۔

یورپی پارلیمنٹ میں عوام کے لیے مخصوص گیلری میں بیٹھنے والا ہر کوئی بخوبی دیکھ سکتا ہے کہ  کس قرار داد کی منظوری کے لیے کونسا رکن ہاں یا نہ میں ووٹ دیتا ہے ۔ پچھلے ہفتے یہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا کہ ڈینش سوشل ڈیموکریٹس نے متذکرہ بالا تمام  تجاویز کے حق میں ووٹ دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں انہوں نے ’’ قراردادوں کے مکمل پیکج ‘‘ کو منظور کیا۔  لطف کی بات یہ تھی کہ اس سارے عمل کو  ’’ یورپی یونین کی جانب سے امن کا منصوبہ قرار دیا گیا۔‘‘ مقصد بالکل صاف ہے، یورپی پارلیمنٹ ( بشمول یورپی یونین کی قیادت) ایک ’’ حقیقی فوجی یونین ‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے ۔

حقیقی فوجی یونین کے قیام کے لیے منظور کی جانے والی قرار دادوں کے پیکج کو ہاں کہنے والے ڈینش سوشل ڈیموکریٹ ارکان نے جو کیا سو کیا لیکن  اُن ڈینش رائے دہندگان کو  یاد  رکھنا ضروری ہے جنہوں نے 1992 میں صاف کہہ دیا تھا کہ ڈنمارک کو اس طرح کے کسی پاگل فوجی منصوبے میں شامل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی  کسی یورپی یونین کی مشترکہ فوج کا حصہ بننا چاہیے ۔ ایسی سوچ رکھنے والے اِن ڈینش رائے دہندگان شکریے کے مستحق ہیں ۔ 

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)