لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب۔۔۔
- تحریر عثمان قاضی
- ہفتہ 30 / اپریل / 2016
- 14715
دوستان عزیز، مسافر تاجکستان کے صوبہ "گورنو بدخشان" کی سیاحت سے واپس دوشنبہ لوٹ آیا ہے۔ ’گورنو‘ روسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں، پہاڑ۔ دوشنبہ سے بدخشان کے صدر مقام ’’خاروغ‘‘ کی مسافت ایک وقفے وقفے سے شکستگی کی شکار سڑک پر، ہماری اقوام متحدہ کی فراہم کردہ مضبوط اور آرام دہ گاڑی میں بھی بارہ گھنٹے کی ہے۔ راہ کا اکثر حصہ دریائے پنج کی وادی پر مشتمل ہے جو تاجکستان اور افغانستان کے مابین سرحد کا کام دیتا ہے۔ مشرقی جانب یا دائیں کنارے پر واقع جس سڑک پر ہم سفر کر رہے تھے وہ سوویت یونین نے بنائی تھی اور انجنیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ اس کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب گزشتہ چند سالوں سے اس پر چین سے آنے والے سامان سے لدے بھاری ٹرکوں کی آمد و رفت ہے۔ مغربی کنارے پر افغانستان کے گاؤں برابر نظر آتے ہیں، مگر ان کی غربت و نکبت آپ اپنی مثال ہے جب کہ ہماری سمت کا ہر گاؤں اور قصبہ سلیقے سے بسا ہوا ہے، ہر جگہ سکول، شفا خانے، آبنوشی اور آبپاشی کا بندوبست ہے۔ لہلہاتے کھیت اور باغ ہیں، جب کہ دوسری جانب اکثر و بیشتر ویرانی کا دور دورہ ہے۔ اقبال کی مشہور فارسی نظم احباب نے سن رکھی ہو گی.
تو شب آفریدی، چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
نظم کیا ہے، عالمی ادب کے ایک معروف نقاد کے لفظوں میں ’’ قدرت کی ایستادہ رکاوٹوں پر عظمت انسانی کا تیشہ رکھ دیا ہے‘‘۔ ایک طرف رات کا تاریک جنگل ہے تو دوسری طرف چراغ کی روشن لو۔ تاجکستان پہنچ کے ہم پہ کھلا کہ اقبال نے اس نظم کے ہر مصرعے کے حصہ ہائے اولیٰ میں افغانستان کی تصویر کھینچی ہے اور پھر اسی مصرعے کے حصہ ہائے ثانی میں تاجکستان کا آئینہ دکھا دیا ہے۔ ودیعت کے بالمقابل سعی اور کاوش کا عکس کھینچ دیا ہے۔ یوں تو کہنے کو سرحد کے دونوں جانب بدخشاں کا منطقہ ہے، دونوں طرف ایک ہی لسانی گروہ آباد ہے، آب و ہوا بھی یکساں ہے بلکہ افغان کنارہ مغرب میں ہونے کے سبب دھوپ کے رخ، لہذا کھیتی باڑی کے لئے موزوں تر ہے. اور ہمیں دونوں جانب کے لوگوں کی جفا کشی میں کسی فرق کا بھی ہر گز شک نہیں ہے۔ فرق بس وہی ہے جو کسی مخلص اور با وسیلہ حکومت اور مفلس و بے پرواہ حکومت کے علاقوں میں ہوتا ہے۔ افغان جانب اب جا کر ایک کچی سڑک امریکی امداد سے بنائی جا رہی ہے جو اکثر مقامات پر غائب ہو جاتی ہے چونکہ راہ میں سنگین اور دشوار گزار جگہیں آ جاتی ہیں۔ سرحد کی دوسری طرف بستیاں جگمگا رہی ہیں۔
گورنو بدخشان کے اصل میں دو حصے ہیں۔ ایک تو یہی پنج دریا کی وادی، جس میں کل آب، درواز، ونج، روشان، سوچان، شغنان اور خاروغ نامی زرخیز اضلاع واقع ہیں اور دوسرا پامیر کی سطح مرتفع پر واقع سرد صحرا ’’مرغاب‘‘۔ وادی پنج کا راستہ پہلے ’دیو درہ‘ کہلاتا تھا مگر حال ہی میں اس کا نام بدل کر ’گل درہ‘ رکھ دیا گیا ہے۔ ممکن ہے سوویت دور میں سڑک بننے سے پہلے واقعی یہ جگہ دیووں کا مسکن لگتی ہو مگر اب اکثر جگہ پر انسان کی کاریگری کے طفیل گل درہ اسم با مسمیٰ لگتا ہے۔ مولانا رومی (جنہیں وسط ایشیائی ممالک میں کمال اپنائیت سے مولوی جلال الدین محمد بلخی کہا جاتا ہے) نے ’دیوان شمس‘ میں لکھا ۔ از دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست۔۔۔ ’دیو اور درندوں سے ناخوش و بیزار ہوں اور انسان بننا چاہتا ہوں‘۔ کیا عجب غالب نے اسی خواہش کے جواب میں لکھا ہو ’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔۔۔‘‘۔ غالب آج کے عہد میں یہاں آتے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے کہ دیو کیسے انسان میں بدلتے ہیں۔
وادی پنج کی آبادی کا دار و مدار گلیشیر کے پگھلنے سے آنے والے پانی کے چشموں اور نالوں پر ہے۔ ارے ہاں یاد آیا، گلیشیر کے لئے تاجکستان میں کیسا پیارا لفظ مستعمل ہے، "پیر یخ".. کچھ برس سے البتہ، عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سبب یہ "پیران یخ" ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور آہستگی سے پگھل کر بہنے کے بجائے اچانک سیلاب آب و گل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور تباہی پھیلاتے ہیں۔ اس پر مستزاد بے موسم اور شدید بارش۔
یہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں جو "پامیری" گروہ سے منسلک ہیں. لسانیات کے ماہرین کے نزدیک پامیری گروہ "مغربی ایرانی السنہ" کے زمرے میں آتا ہے اور ہماری پشتو بھی اسی بڑے گروہ کی ایک شاخ ہے. ایسا ہی ہوگا مگر بہت دقت کے بعد ہم صرف ایک مشترک لفظ پامیری کے "شغنی" لہجے اور پشتو میں مشترک شناخت کر پائے اور وہ ہے، ’سہ رنگ‘ ویسے تعلیم کی فراوانی کے سبب بچہ بچہ فارسی اور روسی روانی سے بولتا ہے اور بعض بچوں نے تو اپنی فصیح انگریزی سے ہمیں حیران کر دیا.
ہمارا قیام بطور ’’پے انگ گیسٹ‘‘ ہماری ہم کار اور رفیق و رہنما خورشیدہ کی ایک خالہ کے ہاں تھا، جبکہ خورشیدہ اپنے آبائی گھر میں قیام پزیر ہوئی. ازراہ مہمان نوازی خورشیدہ کی والدہ نے ہمیں رات کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔ یہ معلوم کرکے کہ اگلے روز ہمارا جنم دن ہے، جو اتفاق سے یہاں عید کا بھی دن تھا، وہ ہماری بے وطنی کا خیال کر کے کچھ نم دیدہ سی ہو گئیں اور ہماری تالیف قلب کے لئے ایک عدد صورت بدخشانی ٹوپی ہماری نذر کی۔ اس حال میں ہماری تصویر بھی کھینچی گئی، مگر وہ صرف خاص خاص دوستوں کے ملاحظے کے لئے ہے۔
اگلا روز عید قربان کا تھا مگر ہمیں یہاں کوئی خاص نشانی اس کی نظر نہ آئی. نہ کہیں سڑکوں پر بہتا خون، نہ آنت اوجھڑی، نہ کھالوں کے لئے چھینا جھپٹی.. ایک وجہ تو یہ پتا چلی کہ یہاں غالب اکثریت اسماعیلی فقہ سے تعلق رکھتی ہے جو شرعی حکم کے عین مطابق، قربانی کو صرف حاجیوں پر فرض سمجھتے ہیں۔ کچھ صاحب استطاعت لوگ، بطور سماجی فریضہ قربانی کی رسم انجام دیتے ہیں، مگر ایک مخصوص مذبح خانے میں۔ پرایا دیس تھا، ہم عید ملتے تو کس سے؟ چنانچہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی جانچ پر نکل گئے۔ دور دراز دیہات کا دورہ کیا اور ہر جگہ کم از کم کچی سڑک، بجلی اور خوب صورت ہائی سکول کو موجود پایا۔
اگلے روز مقامی حکام سے ملاقات کے بعد، چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ’’مرغاب‘‘ کا قصد کیا گیا۔ جوں جوں ہم پامیر کی چڑھائی چڑھتے گئے، منظر ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوتا گیا۔ پہلے درخت غائب ہوئے، پھر جھاڑیاں، پھر گھاس۔۔۔ اسی طرح گائے کے گلوں کی جگہ پہلے بھیڑ بکریوں نے لی اور پھر یاک نے۔ رفتہ رفتہ چٹیل صحرائی وادیوں اور "پیر یخ" کی کلاہ سے سرفراز پہاڑیوں کی چوٹیوں کے سوا سب کچھ غائب ہو گیا۔ شام ہو چکی تھی اور ایک برف پوش چوٹی کے پیچھے سے نکلتے دسویں کے چاند نے ایک ناقابل بیان اور سحر انگیز منظر حد نگاہ تک بچھا دیا تھا۔ گاڑی میں سوار تینوں ہم سفر گنگ ہو چکے تھے اور سی ڈی پلئیر بھی خاموش کر دیا گیا تھا۔ اسی خاموشی کے عالم میں ’’قرہ قل‘‘ نامی جھیل پاس سے گزری اور علی چور نام کا قصبہ بھی۔
یکایک پہاڑیوں کے درمیان ایک فراخ وادی میں واقع مرغاب کا خوابیدہ قصبہ نمودار ہوا، جس کے مکانوں کی ٹمٹماتی روشنیاں صحرا میں زندگی کا سراغ دے رہی تھیں۔ اس قصبے کی سطح سمندر سے بلندی کوئی گیارہ ہزار فٹ کے قریب ہے۔ ہوا بے حد لطیف تھی اور ذرا سی مشقت سے سانس پھول جاتا تھا۔ ایک مہمان خانے میں فرو کش ہوئے جس کا انتظام انتہائی سادہ مگر صاف ستھرا تھا۔ مرغاب قرغزستان کے راستے چین اور تاجکستان کو ملانے والی تجارتی شاہراہ پر واقع ہے اور آبادی کی اکثریت قرغز نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اگلے روز سیاہ روٹی اور یاک کے دودھ سے بنی نمکین چاے کے ناشتے کے بعد ہم اپنے کام پر روانہ ہوئے اور چند دیہات کا دورہ کیا۔ اندازہ ہوا کہ یہاں سال کے دس ماہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے اور ’’شمال‘‘ نامی باد سموم چلتی رہتی ہے۔ بس گرمیوں کے دو ماہ نسبتاً آرام سے گزرتے ہیں۔ لوگ ملازمت کرتے ہیں یا مال مویشی پالتے ہیں، جہاں چارہ مل جائے۔
دوستوں نے ’لعل بدخشاں‘ کے متعلق استفسارات کیے ہیں۔ ہم نے قیمتی پتھروں کی ایک کان کا دور سے مشاہدہ کیا مگر پتا چلا کہ یہ کام خاصا سخت اور گرد و غبار سے اٹے ماحول میں ہوتا ہے۔ جو چمکتے دمکتے پتھر ہمیں دکانوں میں سجے نظر آتے ہیں، ان کی ابتدا ایک نہایت کثیف ماحول میں ہوتی ہے۔ ’’سو بار جب عقیق کٹا، تب نگیں ہوا‘‘ والا معاملہ ہے۔ سو ہم اس طرف نہیں گئے۔ یوں بھی بدخشاں کے اصل لعل تو وہ اہل حسن و خوبی ہیں جن سے ہر ہر قدم پر ملاقات ہوتی رہی. اور اس پہ مستزاد ’جادو ہیں ترے نین‘‘۔۔۔ ایسے سچے جواہر کے ہوتے ہوئے بے روح پتھر کم سے کم ہمارے دل کو ہر گز اپنی جانب نہیں کھینچتے۔
ولی دکنی نے جو کسی کے ’لب کی صفت‘ لعل بدخشاں سے کہنے کا ارادہ باندھا تھا ، وہ غلط نہیں تھا۔ کہاں زندہ پائندہ، حرارت زا لب یار اور کہاں سرد و سخت سنگ۔۔۔’ رودکی‘ کے قدموں تلے نفیس اور نقش دار بانات بچھی تھی اور اس نے ایک خاص پندار سے اس کا ذکر بھی کر دیا ’’زیر پایم پرنیاں آید ہمے ۔۔۔‘۔ ہمیں اس کا اتفاق نہیں ہوا۔ ہاں، واپسی پر غروب آفتاب کا ایک منظر دیکھا تو ’لعل بدخشاں کے ڈھیر‘ دکھائی دیے جو حاصل سفر رہے۔ اقبال نے کہا تھا، ’لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب‘۔ ہم نے دیکھ لئے۔ (جاری ہے)