مزدور ڈے پر مزدور کا کالم!
- تحریر ساجد حبیب میمن
- اتوار 01 / مئ / 2016
- 15157
صنعت وحرفت، زراعت اور تجارت کا پہیہ مزدور کی قربانی کے بغیر چلنا ممکن نہیں ہے۔ میں خود بھی ایک مزدور پیشہ انسان ہوں۔ جب دھوپ اور سخت سردی میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دووقت کی روٹی کے لیے تگ ودو کرتا ہوں تب مجھے اسی مزدور کی افادیت اور اس کی حرمت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس کی محنت وعظمت کو سلام پیش کرنے کو دل کرتا ہے ۔
مزدور ملک کے اقتصادی عمل میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اسی مزدور کی محنت ہے کہ ہمیں زندگی کی سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں اور انہیں کے دم سے آج یہ ملک اقتصادی راستے پر گامزن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مزدور کی فلاح وبہبود پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ایک خوشحال اور صحت مند مزدور ہی اپنی کارکردگی کو بہتر کرسکتاہے جو ملکی پیداوار میں اضافہ کرتاہے۔ لیکن افسوس ہمارے ہاں مزدور کی ضروریات ہمیشہ سے ہی حکومتی کی عدم توجہ کا شکار رہی ہیں۔ ان کے لیے تنخواہوں کا تعین اور ضروری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ مزدور اور ان کے خاندان نجی زندگی میں صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ حکومت کی جانب سے لاپرواہی ایک روایتی مسئلہ ہے مگر ان کی جیب میں اس قدر رقم نہیں ہوتی کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا علاج بہتر طریقے سے کرواسکیں ۔
موجودہ نواز حکومت نے ایک ہیلتھ انشورنس پالیسی بھی چلائی تھی ، جس کا بنیادی مقصدغربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد خصوصاً مزدور طبقے کے لیے صحت کی مفت سہولیات دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت کے ماتحت اس پروگرام پر عملدرآمد صوبوں نے کرنا تھاکہ وہ غریبوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ کے ذریعے علاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم کرنے میں اپنا کردار اداکریں ۔ جب یہ کمیٹیاں بنائی گئی تھیں، ان میں صوبوں اور وفاق کے نمائندگان شریک تھے۔ یہ اتفاق بھی کرلیا گیا تھا۔ مگر جہاں تک عملددرآمد کا معاملہ تھا اس میں وہی" ڈھاک کے تین پات" ۔ یعنی اس پر آج تک ایک بھی مزدور یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس ہیلتھ اشورنس اسکیم کے تحت اس کا یا اس کے خاندان کے کسی ایک فرد کا علاج ممکن ہوا ہو۔ یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ مزدور کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا۔
اس مضمون میں حکومت پر تنقید کرنے کی بجائے مزدور کی صورت حال کی جانب توجہ مبذول کروانا مقصود ہے۔ یکم مئی کے روز مزدور ڈے کو اخبارات میں خبریں لگوانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کیونکہ اب حکومت مزدور طبقے کی صحت کو چھو ڑ کر اپنی صحت بنانے کے چکر میں لگ گئی ہے۔ اس ملک میں جب ہم مہنگائی کا زکر کرتے ہیں اس میں بھی سب سے زیادہ یہ ہی مزدود طبقہ متاثر ہوتا ہے ورنہ حکومت کے پالیسی سازوں کی نظرمیں آلو پانچ روپے کلو سے زیادہ میں نہیں بک سکتے مگر افسوس حقیقت میں ایک مزدور آدمی دوقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوتا ہے۔ حال ہی میں دال کی قیمت میں جو ہوشربا اضافہ ہوا ہے وہ بھی حکومت کی منشا کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
جہاں تک یوم مئی کا تعلق ہے اس کا آغاز 1886 شکاگو میں مزدور یونین کے ایک جلسے سے ہوا ۔ جن کا مطالبہ ان کی مزدوری کا دورانیہ 8گھنٹے کرنے کا تھا۔ اس جلسے میں حکومت نے پولیس کو اس مظاہرے کوروکنے کا حکم دیا۔ تشدد کی لہر چلی تواس میں کئی مزدور اپنی جانوں سے چلے گئے جس کی وجہ سے یہ دن پوری دنیا میں یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔ تاہم ترقی پذہر ملکوں مٰں اسے سیاسی نعرے سے ذیادہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔
کچھ عرصہ میں رمضان المبارک شروع ہوجائے گاجس میں مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا لگنے والا ہے ۔ ایک بات اور جب ہم مزدور اور اس کے اہلخانہ کی بیماریوں کا زکر کرتے ہیں تو اس میں ایک بڑی وجہ ان کے استعمال کے لیے گندہ پانی اور وہ ماحول ہے جس میں انہیں تنگ دستی کی وجہ سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ شفاف پانی اور صاف آب و ہوا نہ ہونے کی وجہ سے معدے سمیت دیگر بیماریاں پھیلتی ہیں۔ جہاں مزدور کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے تو متعلقہ انڈسٹری کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح پاکستان کے اقتصادی عمل میں منفی اثرات جنم لیتے ہیں ۔
حکومت وقت اور ملک میں سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ مزدور طبقے کی ضروریات کی طرف زیادہ توجہ دیں ۔ اس کے لیے ہر سیاسی جماعت کو چاہیے کہ وہ ایک لیبر کمیٹی بنائے جس میں پارٹی کے مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے لیڈران شامل ہوں جو ایک ایک تفصیلی رپورٹ تیارکریں کہ ان کے درمیان کام کرنے والے مزدروں کی حالت زار کیا ہے ۔ اور حالات کو کس طرح بہتر کیا جاسکتاہے۔ اس رپورٹ میں مزدور کی بہتر ی کی باتیں کرنے کے علاوہ مزدوروں کے حقوق کے لیے بنائی گئی نئی اسکیموں کے اخراجات کا اندازہ بھی لگایا جانا چاہیے تاکہ حکومت کو جب یہ رپورٹ پیش کی جائے تو اس کے لیے ان اسکیموں کو قبول کرنا آسان ہو۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ رضاکار فلاحی تنظیموں کو بھی یہ کام کرنا چاہئے۔ تاکہ اس شعبے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھے اور معاشرے میں مزدور کے احترام میں اضافہ ہو۔ا
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہونے کے لیے بنایا گیا اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ مزدود کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردیا کرو۔ لہ اس کے علاوہ بھی آپ کی زندگی میں مزدور کے شعبے پر بہت زیادہ توجہ دی گئی یہ سب کچھ احادیث مبارکہ اور عملی زندگی کے پہلو ؤں سے نظر آسکتا ہے ۔ جس میں آپ کی جانب سے مزدوروں کے ساتھ ایک مدبرانہ اور شفیق رویہ اختیار کیا گیا۔ ہماری حکومت اس وقت تک مزدورکی پروا نہیں کرتی جب تک اسے خود مزدور کی ضرورت نہ پڑجائے، یعنی اس کی حمایت درکار نہ ہو۔ یہ بات انتخابات سے لیکر دیگر معاملات تک چلی جاتی ہے ۔ افسوس اس ملک میں 75فیصد ٹیکس کا پیسہ قومی خزانے کو اس ملک کا مزدور طبقہ دیتا ہے۔ پھر کس بے دردی سے اس خزانے کو لوٹا جاتا ہے۔ لیکن مزدور کی حالت زار تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔