یوم مئی پر ڈنمارک سے ایک تحریر
دنیا بھر کے ملکوں کی طرح ڈنمارک میں بھی یکم مئی کے موقع پر اتحاد و یکجہتی کے اظہار کے لیے کارکنوں کے جلسے جلوس ہوئے اور تقریبات منعقد کی گئی ہیں ۔ ڈنمارک میں دائیں بازو کی حکومت بلدیات اور ریجنز کی امداد میں کمی حکومت ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی ترقیاتی امداد میں کٹوتی کرتے ہوئے فوجی اخراجات کو بڑھا رہی ہے اور ان کو پورا کرنے کے لیے قومی خزانے سے ابے دریغ رقوم مہیا کر رہی ہے ۔
بائیں بازو کی اشتراکی جدوجہد ڈنمارک میں ایک نئی پیش رفت ہے اور یہی وہ عمل ہے جو سماج میں مساوات کی ضمانت ہو سکتی ہے ۔ سماجی فلاح میں پیش رفت اور تخفیف اسلحہ کے لیے جدوجہد کی خاطر باہمی اتحاد، عصر حاضر کے سیاسی ایجنڈے پر سر فہرست ہونا چاہیے ۔ خوش قسمتی سے ڈنمارک میں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی تین پارٹیاں شام کی جنگ میں ڈنمارک کی شمولیت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اپنے اجتماعات میں پمفلٹوں، بینروں اور تقریروں کے ذریعے کھل کر اور ٹھوس و دوٹوک الفاظ میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’ سماجی رفاہی پیش رفت کو بڑھایا جائے اور فوجی اسلحہ میں تخفیف کی جائے۔ ا شام اور عراق سے ڈینش فوجیوں کو دور رکھا جائے‘‘
ڈنمارک گزشتہ ایک عشرہ سے افغانستان، عراق، لیبیا اور اب شام کی جنگ میں ملوث ہے ۔ بد قسمتی سے جنگوں میں ڈنمارک کی شمولیت پر عوامی مباحثوں کا وہ زور نہیں دیکھا جا رہا جو ہونا چاہیے ۔ میڈیا وہی کچھ لکھ رہا اور سامنے لا رہا ہے جو اقتدار پر براجمان طبقہ چاہتا ہے ۔ اور یہ طبقہ وہی کچھ کہنا چاہتا ہے جو نیٹو اس کے منہ میں ڈال دے۔ ڈنمارک بین الاقوامی قوانین اور عالمی جنگی اصول و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہی جنگ میں کود رہا ہے اور اِس سلسلے اسے شام کی حکومت نے بھی کوئی اجازت نہیں دی ۔ اِن امور سے صاف عیاں ہے کہ ڈنمارک شام کے خلاف ایک غیر قانونی جنگ میں شمولیت کے لیے عالمی قانون کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ ڈینش پارلیمنٹ اور میڈیا دونوں اُن وجوہات کو سامنے لانے پر خاموش ہیں جن کی بنا پر نیٹو کی جنگی کارروائیاں، دور حاضر میں مہاجرین کے سیلابوں کا سبب بن رہی ہیں ۔
جنگی پناہ گزینوں کے بارے میں پارلیمنٹ میں سیاسی بحث اور میڈیا میں اسی کے متعلق مباحث میں بھی مہاجرین کو یہاں آنے کا الزام دیتے ہوئے انہیں سرحدوں ہی پر مسترد کر دیے جانے کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے لیکن اُن کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے ملکوں و علاقوں میں امن و سلامتی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا جاتا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمی سطح پر اب ڈنمارک کو ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جہاں سیاسی بحث مباحثوں میں یہاں آنے والے مہاجرین اور پچھلی نصف صدی سے مقیم مسلمانوں کے خلاف نفرت و حقارت کا زہر گھلا ہوتا ہے۔ شدید نفرت انگیز لہجہ اختیار کرنے والے سیاستدان اسے اپنے لیے اور اپنی اپنی پارٹی کے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ڈینش پارلیمنٹ میں اعلانیہ کہا جاتا ہے کہ ڈنمارک کو مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشنوں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ڈنمارک کی جانب سے ان کنونشنوں، قواعد و ضوابط کو توڑنا ہی وقت کی ضرورت ہے ۔
ڈینش رائے دہندگان دسمبر میں ریفرنڈم کے دوارن یورپی یونین کے ’’ قانونی تحفظات ‘‘ کو مسترد کردیا تھا لیکن اِس کے باوجود دائیں بازو کی حکومت اور اس کی حامی دیگر پارلیمانی پارٹیاں ڈنمارک کے قومی حق خودارادیت کو بیچنے پرتلی ہوئی ہیں ۔ بائیں بازو کی ایک دو سیاسی پارٹیوں نے بالعموم اور کمیونسٹوں اور اشتراکیوں نے بالخصوص یوپی یونین کے مخالفین کو مضبوط بنانے اور اس کے لیے عوامی تحریک کو متحرک و جاری رکھنے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے اور یہ اب بھی جاری ہے۔ کیونکہ یورپی یونین سے ڈنمارک کا باہر نکلنا ہی یہاں کی جمہوریت کے لیے فائدہ مند اور انفرادی لحاظ سے ڈنمارک میں رہنے والے ہر ایک فرد کے شخصی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس سے دیگر یورپی لوگ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ پھر اقتدار پر براجمان سیاستدان سب لوگوں کے لئےڈینش سرحدوں کو بند نہیں کر سکیں گے۔ وہی طاقتیں جو فی الوقت مہاجرین کو یورپی یونین سے دور رکھنے کے لیے فوج، پولیس اور خاردار تاروں کی باڑیں استعال کر رہی ہیں، وہی قوتیں خوار ہوتے ہوئے مہاجرین میں سے ایسے کارکنوں کے چننے کے لئے بے چین ہیں جو ان کے اپنے ملکوں، صنعتوں اور خاندانوں کے لیے کام کر سکیں اور اُن کی بقا کو یقینی بنا سکیں ۔
یورپی یونین میں’’ سوشل ڈمپنگ‘‘ دراصل بڑی سرمایہ کاری و کاروبار، سرمایے کی آزادانہ نقل و حرکت، محنت کش طبقے کی اجتماعی سودے بازی اور ان کی پیشہ وارانہ آرگنائزنگ پر کنٹرول کا نتیجہ ہے ۔ جسے یورپی یونین کے کنونشن تحفظ مہیا کرتے ہیں ۔ بائیں بازو کے اشتراکی اور خاص کرکمیونسٹ ان سبھی حلقوں میں تبدیلیوں یا ان کے مکمل خاتمے کے لیے متحرک ہیں ۔ ڈنمارک میں اشتراکی اور کمیونسٹ پارٹی عام ڈینش بازار روزگار میں غیر ملکی کارکنوں اور مہاجرین کو بلا تفریق خوش آمدید کہتی ہے۔ ان کے لیے وہی اجرتیں، مواقع، سہولتیں و مراعات چاہتی ہے جو ڈینش النسل کارکنوں کو حاصل ہیں ۔ اس پارٹی کے منشور میں یہ بھی شامل ہے کہ ان غیر ملکیوں کو ٹریڈ یونینوں کی باقاعدہ رکنیت حاصل کرنے اور انہیں سماج میں انٹگریٹ کرنے کے لیے باقاعدہ کورس کرائے جائیں۔ اس کے لیے انہیں مالی معاونت مہیا کی جائے ۔
ڈینش پارلیمنٹ میں اس پر اتفاق رائے ہے کہ اقتصادی بحران کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا بل عام شہریوں کی جیبوں سے پوارا کیا جائے یعنی وہ بل ٹیکس دہندگان ادا کریں ۔ اور ڈنمارک کو یورپی یونین کے پیش کردہ اقتصادی میثاق کی پیروی کرنی چاہیے اور یونین کی اقتصادی و سیاسی سفارشات پر عمل کرنا چاہیے۔ حالانکہ ان سفارشات ہی کی وجہ سے پبلک سیکٹر میں اجتماعی برطرفیوں اور سماجی بہبود کی تباہی کے مناظر ہمارے سامنے ہیں ۔ ہسپتالوں میں کٹوتیاں، بوڑھوں اور بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کے اداروں اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کئی گئی کٹوتیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خراب صورت حال ہمارے سامنے ہے ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج وسائل غریبوں سے چھین کر امیروں کو دئے جا رہے ہیں ۔ ڈنمارک میں عدم مساوات دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ محنت کش غریب طبقے کو غریب رکھنا ایک بڑی کاروباری پالیسی بن چکی ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محنت کش طبقے کا سب بڑا مؤثر ہتھیار اُن کا ’’ باہمی اتحاد ‘‘ ہی رہا ہے۔ مشترکہ مطالبات کی منظوری کے لیے اُن کی جد و جہد ہی کامیابیوں کا زینہ بنی رہی ہے ۔ یہ بات آج بھی جوں کی توں ہے البتہ اسے ایک نئے سرمایہ دارانہ چیلنج کا بھی سامنا ہے، یہ سرمایہ دار ہی ہیں جو آج ’’ سیاسی ایجنڈوں ‘‘ کا تعین کرتے ہیں اور مزدور و محنت کش طبقے میں بد نظمی پھیلانے اور نااتفاقی پیدا کرنے کے لیے منظم طریقوں سے کوشش کرتے ہیں ۔ سرمایہ دار اور ان کا نظام، اُس طبقاتی جدوجہد اور اس سے حاصل شدہ نتائج کو واپس وہیں دھکیل دینا چاہتا ہے جیاں سے یہ کم و بیش ایک سو سال پہلے شروع ہو ئی تھی ۔ ڈنمارک میں بھی صاحبان اقتدار یہی چاہتے ہیں کہ لوگ اسی روش کی پیروی کریں ۔ حکمران چاہتے ہیں کہ ہم جنگ ، عدم مساوات اور جمہوریت کو لاحق خطرات اور اس پر حملوں سے آنکھیں بند کر لیں ۔ لیکن سیاست اور سیاسی جدو جہد پارلیمنٹ میں سیاستدانوں کو اُن کی جگہ پر رکھنے کے لیے لازمی ہے ۔ جدوجہد کرنا اور آگے بڑھنا ضروری ہے اور یہ سبھی کچھ محنت کش طبقے میں وحدت اور اجتماعی جد و جہد سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت اصطلاحی فتوحات حاصل نہیں ہو سکتیں ۔
اس تحریک کے لیے محنت کش طبقے کی نمائندگی کرنے والی آربائیڈا پارٹی اور بکھرے ہوئے کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی مقامی و علاقائی پارٹیوں کے مابین اتحاد لازمی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس کے لیے بنیادیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور مشترکہ سیاسی اجلاس اور سرگرمیوں کا انعقاد بھی شروع کر دیا گیا ہے اور اگلے برس ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے اشتراکی قوتوں کو متحد و یکجا کرنے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ یہ اہم اقدامات ہیں کیونکہ ان سے سماج میں مثبت تبدیلیوں اور ایک مساوی متبادل سیاسی نظام کی نوید سنائی دیتی ہے۔ لیکن محنت کش طبقے کی اس جدوجہد کوآگےبڑھانے اور کامیابیوں تک پہنچنے کے لیے اِن اقدامات کو جاری رکھنا بہت ضروری ہے ۔
اس مقصد کے لئے کمیونسٹوں اور دیگر اشتراکی گروپوں کو مقامی و علاقائی سطح سے بلند ہو کر قومی سطح پر ایک ہی سرخ پرچم تلے اکٹھا ہو جانا چاہیے ۔ اور ایک جمہوری و پائیدار سوشلسٹ فلاحی ریاست کے قیام و تحفظ کے لیے موجودہ اقتصادی بحران پر قابو پانے اور سرمایہ دارانہ نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جانا چاہیے ۔
یوم مئی کا پیغام یہی ہے: دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ! ڈنمارک کے محنت کشو ایک ہو جاؤ! یہی اتحاد و یگانگت ’’ خلق خدا کے راج‘‘ کے قیام کی بنیاد ہے ۔