ہندوستان میں مسلم وقف کے مسائل

ایک زمانہ تھا جب ساٹھ کی دہائی میں نام نہاد قوم پرست مسلمانوں کی ایک جماعت ہندوستانی مسلمانوں کو تقسیم وطن کے لیے کوستی اور اعلان کرتی کہ وہ اپنی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے لیے خود ذمہ دار ہیں۔غور فرمایئے ایک ہراسان ملت کو مزید پریشان کرنے کا اس سے بہتر نسخہ اور کیا ہوسکتا تھا۔ لیکن بات چونکہ اوقاف کی ہورہی ہے تو یہاں بھی تقریباً وہی صورتحال ہے۔یعنی یہاں بھی عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ سارے متولی چور ہیں،وقف بورڈ بے ایمانی کا گڑھ ہے،اس کا سارے کا سارا عملہ نکما ہے،اورکیونکہ مسلمان اوقافی جائدادوں کی فکر نہیں کرتے،اس کی بازیابی اور باز آبادکاری میں شامل نہیں ہیں،لہذا مسلمان خود ہی اوقاف کی تباہی کے ذمہ دار بھی ہیں۔

اس گہماگہمی اور شورشرابہ میں اسٹیٹ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتی ہے،اور عموماً عوام بھی توجہ نہیں دیتے۔جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت جس نے وقف بورڈ قائم کیا، وقف ایکٹ بنایا اور اس میں وقتاً فوقتاً ترمیمات کیں،اس پورے نظام میں جو کوتاہیاں اور خرابیاں ہیں،اس کی ذمہ داری لیتی،جوابدہ ہوتی،اور بہتری کی جانب سنجیدگی سے عمل پیرا ہوتی۔لیکن جب مسجد کا متولی ہی چور ٹھہرا اور قربستان کے نگراں لینڈ مافیا والے ہوجائیں، تو پھر کیوں حکومت وقت جوابدہ ہو؟لیکن بات اتنی غلط بھی نہیں ہے کہ اوقاف کی جائدادوں کے ذمہ داران و نگراں یا اوقافی جائدادوں کے فیصلہ ساز،سب صاف ستھرے ہیں۔اس صورت میں اگر حکومت کی ذمہ داری ہے تو مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ الرٹ رہیں،متوجہ رہیں،کوتاہیوں پر نظریں اور خامیوں کی نشاندہی کریں،قانونی چارہ جوئی کریں اور اس کے لیے تحریک برپا کریں،تاکہ حکومت وقت متوجہ ہو۔لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم حکومت یا حکومت کے کارندوں کی مدد نہ کریں،بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہمیں تعاون کی فضا ہموار کرنی ہوگی اور اپنے مسائل کے لیے وقت اور صلاحیتیں صرف کرنا ہوں گی۔ اس کے برعکس اپنے مسائل سے اگر ہم خود ہی نظریں چرائیں گے اور بے توجہی کا اظہار کریں گے،تو یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ مسائل خود بہ خود ختم ہو جائیں۔

عام طور سے ہندوستان کے بے شمارمسلمان مسائل سے دوچار ہیں۔ان کے بنیادی مسائل ہی انہیں ہمہ وقت مصروف رکھتے ہیں،ان حالات میں اوقاف اور اوقافی جائدادوں کے غیر قانونی قبضوں کو واگزارکرانے میں ، وہ کیا کردار ادا کریں گے۔ آزاد ہندوستان کے پالیسی ساز اداروں نے بھی مسلمانوں کے حوالے سے یہی منصوبہ بندی کی ہے کہ انہیں جان و مال،عزت و آبروکے مسائل میں اس قدر الجھا کر رکھا جائے کہ مزید مسائل سے نہ ان کی دلچسپی ہو اورنہ انہیں یہ موقع ہی حاصل ہو کہ وہ اس طرف توجہ دے سکیں۔نیز معاشی وتعلیمی میدان میں بھی وہ اس قدر پست رہیں کہ انہیں ابھرنے کا موقع نہ حاصل ہو۔وقتاً فوقتاً براہ راست یا بالواسطہ،منظم طریقے سے ایسی کوششیں کی جائیں،جس کے نتیجہ میں ان کی کمر ہی ٹوٹ جائے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں اسلام و مسلمانوں سے نفرت کی فضا عام کرنے کے لیے مختلف تنظیموں، تحریکوں، جماعتوں اورگروہوں کو یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ انہیں الجھائے رکھیں۔ کو ئی ایک دوربھی ایسا نہیں گزرا جب مسلمان سکون کی حالت میں رہتے ہوئے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں سرگرم عمل ہوئے ہوں۔

اس کے باوجود حالات ساز گار ہیں،مسلمان تعلیمی،فکری و نظریاتی،ہر سطح پر ترقی کر رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مسلکی و گروہی بنیادوں سے اوپر اٹھ کرملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔ یہ ہر اس فرد کے لیے ممکن ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخ روئی چاہتا ہے۔ اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی اسے حاصل ہو اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر وہ عمل پیرا رہتے ہوئے اس دارفانی سے جانے کے بعد ایسی جگہ پہنچے جہاں فرشتہ اس کے استقبال کے لیے موجود ہوں۔ اوقاف کی جائدادیں شرعی حیثیت رکھتی ہیں،لہذا ان کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی ،جنت سے قریب تو جہنم سے دور کرنے کا راستہ ہی ہیں۔

ہندوستان میں اوقاف کا نظم مسلمانوں کا خود کا قائم کردہ ہے۔مسلم بادشاہوں ،مسلم ریاستوں کے سرکردہ حضرات اور مختلف مسلم زمینداروں نے ملت کی ضروریات کے پیش نظر جائیدادیں اور زمینیں وقف کیں،اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ان وقف شدہ زمینوں کے ذریعہ مساجد،قبرستان،تعلیمی ادارے،مقبرے و مسلمانوں کی دیگر ضروریات پوری ہوتی رہی ہیں۔ تاہم آزادی سے قبل ہی انگریز حکومت نے 1913ء میں مسلمان وقف ایکٹ تیار کیا،جس میں وقف شدہ زمینوں کے لیے علیحدہ قانون سازی کی ابتدائی کوششیں منظر عام پر آئیں۔اسی نظام میں بہتری لاتے ہوئے 1931میں پہلی بار اوقاف کی آمدنی و خرچ کے آڈٹ کا التزام کیا گیا۔لیکن یہ آڈٹ،آمد و خرچ کے حسابات اور سروے و انکوائیری کا نظام مستحکم کرنے کے لیے جس عملہ کی ناواقفیت کی رپورٹ 1972میں سامنے آئی تھی تقریباً وہی صورتحال اور مسائل آج بھی برقرار ہیں۔ ریاستی حکومتوں نے عام طور سے یہ ذمہ داری لوکل فنڈ کو سونپ رکھی ہے جو ہر سال آڈٹ کرنے کی بجائے کئی کئی سال کے وقفہ سے یہ کام انجام دیتے ہیں ۔ وقف ایکٹ1954اور اس کے بعد بننے والے تمام قوانین نے ریاستی حکومت کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ اپنی ریاست کے وقف بورڈ کی سالانہ آڈٹ رپورٹ کا مطالعہ کرے اور اس پر ضروری احکامات جاری کرے تاکہ خامیوں کو دور کیا جاسکے۔لیکن یہ کام بروقت نہیں ہوتا۔ اسی لئے لہذا کوتاہیاں اور خرابیاں برقرار رہتی ہیں۔

یہ بات بھی ہمارے علم میں رہنی چاہیے کہ وقف ایکٹ1995کی دفعہ 4کے تحت ہر ریاست میں اوقافی جائدادوں کا از سرنو سروے کرایا جانا طے ہؤا تھا۔ تاکہ جائدادوں کی موجودہ حیثیت سامنے آئے نیز بہت سی کھوئی ہوئی یا ناجائزقبضہ شدہ جائدادوں کا سراغ ملے۔وقف (ترمیمی)ایکٹ2013میں اسے مزید موثر بنایا گیا ہے۔اس کے باوجود ریاستی حکومتیں متوجہ نہیں ہیں۔گزشتہ 20سالوں میں بیشتر ریاستوں میں یا تو سروے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے یا دفعہ5کے تحت اسے شائع نہیں کیا گیا۔سچر کمیٹی کی رپورٹ میں صفحہ2019پر کہا گیا کہ ملک میں دولاکھ نوے ہزار اوقاف رجسٹرڈ ہیں،مگر اگلے ہی صفحہ 2020پر فٹ نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک وقف میں متعدد جائدادیں ہوتی ہیں۔اور ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ نائب وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ ملک میں ایک لاکھ پینتس ہزار اوقاف ہیں۔اعداد وشمار کا یہ تضاد صرف اس وجہ سے ہے کہ آج تک سروے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔یہ مسئلہ سب سے زیادہ وقف بورڈ کے کمپیوٹرائزیشن میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔اس صورت میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایسے اعداد و شمار کی بنیاد پر اوقاف کی بازیابی اور ترقی کے منصوبے مکمل نہیں ہو سکتے ۔ وہ ہمیشہ نامکمل اور غیر مستحکم رہیں گے۔

وقف کے معاملات میں چند مسائل اور بھی ہیں جنہیں مختصراً بیان کیا جا رہا ہے۔i)وقف ایکٹ1995کی دفعہ109کے تحت وقف رول اور دفعہ110کے تحت،وقف ریگولیشن شائع کیا جانا تھا،یہ کام نامکمل ہے۔ii)وقف ٹریبونل جو وقف جائدادوں کی قانونی چارہ جوئی کا ادارہ ہے،وقف(ترمیمی)ایکٹ کی دفعہ83کی روشنی میں نئے سرے سے تشکیل ہونے تھے،لیکن وہ بھی نا مکمل ہیں۔iii)کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل وقتی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کی تقرری ہونی ہے،اور اس کا تقرر نہیں ہوا ہے۔یہ اور ان جیسے دیگر کئی مسائل ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ البتہ دہلی وقف بورڈ کے عزائم سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئے چیئرمین اور ان کی عام آدمی پارٹی اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دیں گے اورجلد ہی مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔اس کے باوجود عوام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ حکومت اپنے ہی فیصلوں سے روگردانی کرے ،تو انہیں توجہ دلائیں ،اوراگر پھر بھی متوجہ نہ ہو ں،تو مسئلہ کے حل کے لیے عوامی سطح پر مہم چلائیں یا قانونی چارہ جوئی کی جائے!