غیرت یا بربریت
- تحریر منور علی شاہد
- منگل 03 / مئ / 2016
- 6520
مذہب کے نام پر تو پاکستان میں اقلیتوں کا قتل عام ہو ہی رہا تھا اب غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل عام میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں متعدد لڑکیوں اور عورتوں کے غیرت کے نام پر قتل کی خبریں سوشل میڈیا اور قومی اخبارات کی زینت بنی ہیں۔
تازہ ترین قتل چکوال کے نواحی گاؤں خانپور میں ہوا ہے۔ خبروں کے مطابق ایک لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی اور اپنے سسرال کے ساتھ رہتی تھی۔ لیکن اس کی فیملی کو اس بات کا بہت رنج تھا۔ وقوعہ کے دن عورت کھیت میں اپنے شوہر اور اپنی ساس کے ہمراہ فصل کاٹنے میں مصروف تھی کہ عورت کا مشتعل بھائی وہاں پہنچا اور اس نے اندھا دھند چاقوں کے وار کر کے اپنی بہن کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ پھر وہ موقع سے فرار ہوگیا۔ اس خاتون کا سات ماہ کا ایک بیٹا بھی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں ایک بھائی نے اپنی سترہ سالہ بہن کو ذبح کر ڈالا۔ اس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ بھائی بہن کو ایک لاکھ روپے میں فروخت کر چکا تھا اور بہن جانے سے انکار کر رہی تھی۔ اسی طرح سندھ میں ایک نو بیاہتہ دلہن کو سہاگ رات کو اس کے شوہر نے اس بنا پر قتل کردیا کہ اس کو اس کا کنوارا پن مشکوک لگا تھا۔ دلہن کی سہاگ کے جوڑے میں نعش کئی دن تک سوشل میڈیا پر لوگوں کی نظروں کا مرکز رہی تھی۔
ایک کے بعد دوسری عورت خود ساختہ غیرت کے نام پر قتل ہو رہی ہے لیکن پاکستان میں قانون اور انصاف گہری نیند سو رہا ہے ۔ قتل ہوتی عورتوں اور لڑکیوں کی چیخین بھی اس کو نہیں جگا سکیں۔ غیرت کے نام پر جس قدر بے غیرتی دکھائی جا رہی ہے وہ باعث شرم اور قابل مذمت ہے۔ ایک مسلمان ملک میں عورتوں کا قتل عام قانون و انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سچ یہی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو چکا ہے۔ بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا کے مصداق ماضی میں پاکستان کو غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سے شہرت مل چکی ہے۔ اکثر کو یاد ہو گا کہ اپریل1999 میں معروف قانون دان و انسانی حقوق کی علمبردارعاصمہ جہانگیر کے دفتر میں ثمینہ ظفر نامی لڑکی کو اس کی فیملی نے دن دیہاڑے قتل کردیا تھا۔ یہ بھی غیرت کے نام پر قتل تھا۔ یہ قتل عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا چونکہ لڑکی کا خاندان سیاسی طور پر بہت اثرو رسوخ رکھتا تھا، لہذا قانون اور ریاستی ادارے سب اس طاقتور خاندان کے آگے بھیگی بلی بن کے رہ گئے تھے۔
اس قتل پر بی بی سی نے ایک ڈاکومنٹری Licence to kill بھی بنائی جس کو اگلے سال بہترین ڈاکومنٹری کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔ 2008 میں تین بہنوں کو زندہ زمین میں گاڑدیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے ارینج شادی سے انکار کر دیا تھا۔ اسی سال مارچ میں خیر پور میں ہونے والے ایک غیرت کے نام پر قتل کا کیس بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس کیس میں 17سالہ لڑکی کو گاؤں والوں نے تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ لڑکی قبیلہ کی بدنامی کا موجب بنی ہے ۔ قتل کے وقت لڑکی آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ لڑکی کے والد کی درخواست پر یہ کیس منظر عام پر آیا تھا۔ اس میں لڑکی کا سسر پیش پیش تھا۔ اسی طرح ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپریل2010 میں پشتون خاتون گلوکار کے غیرت کے نام پر قتل کو اپنی ایک رپورٹ کا حصہ بنایا تھا، جس کو دنیا بھر میں پڑھا گیا۔ اس کیس میں لڑکی کے دو بھائیوں نے بہن کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، کیونکہ وہ زبردستی کی شادی سے طلاق لے کر اپنی مرضی کی شادی کرنا چاہتی تھی۔
ایک اور المناک اور شرمناک قتل لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے فرزانہ اقبال نامی خاتون کا ہوا۔ اس کی فیملی نے اس کو پتھروں سے سنگسار کر دیا تھا اور یہ قتل پولیس والوں کی موجودگی میں ہوا تھا۔ اس لڑکی نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور عدالت میں اپنے شوہر کے حق میں بیان دینے آ ئی تھی کہ اپنوں کے ہاتھوں ہی سنگسار ہو گئی۔ قتل کے بعد لڑکی کے والد نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ میں نے اپنی بیٹی کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کرکے پورے خاندان کی عزت خراب کی۔ مجھے بیٹی کے قتل پر کوئی افسوس نہیں۔
غیرت کے نام پر قتل ہونے والے ان کیسوں میں لڑکی کی جان بھی جاتی ہے عزت کا بھی جنازہ اٹھتا ہے اور پھر قانون سے انصاف بھی نہیں ملتا اور دوسرا فریق بیگناہ بھی ٹھرتا ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں60 خواتین اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کل23 خواتین ممبرز موجود ہیں۔ پی پی پی کے دور میں قومی اسمبلی کی سپیکر ایک خاتون تھیں اور اب ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی صوبائی اسمبلی کی خاتون سپیکر منتخب ہوئی اور یہ اعزاز بلوچستان کو ملا۔ لیکن افسوس یہ سب خواتین مل کر ایک عورت کو عزت و احترام دلانے اور اس کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ورلڈ بنک کی2014کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا48.63 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے لیکن بد قسمتی سے مذہب کی غلط تشریحات، خود ساختہ رسوم اور تنگ نظری کے باعث آبادی کا اتنا بڑا حصہ خود ساختہ غیرت اور جاہلانہ رویوں کے رحم و کرم پر ہے ۔ کام کرنے والی ہوں، یا پڑھنے والی لڑکیاں یا پھر خاتون خانہ، سبھی کو گھر کے باہر اور اندر تحفظ حاصل نہیں ہے۔ عزت کے نام پر قتل، جنسی تشدد، گینگ ریپ، تیزاب کا پھینکنا اور جہیز کم لانے پر دلہن کو جلا دینا جیسے خطرات جرائم کا سامنا ہے۔ اب زندہ جلا دینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ میں کاروکاری کے نام پر عورت کا قتل اور استحصال ہورہا ہے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور کی ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب میں گزشتہ سال غیرت کے نام پر340 خواتین کو قتل کیا گیا تھا۔
چند ماہ قبل بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب محمد نور مشکزئی نے کہا تھا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کریں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور عدلیہ اس کی مانیٹرنگ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین اپنے بنیادی تمام حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے غیرت کے نام پر قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بری بات ہے غیرت کے نام پر قتل کرنے کے مسئلے پر معاشرہ سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ پہلے غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے اور پھر سودی بازی کے بعد قاتلوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عدلیہ مستقبل میں ایسی نا انصافیوں کی اجازت نہیں دے گی۔ ایک خاتون کو قتل کرنا شرمناک اور بزدلانہ فعل ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کی باتیں اور عزم قابل ستائش ہے اورانہوں نے بالکل صحیح نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے جو تجاویز دی ہیں، وہ بھی نہ صرف قابل عمل ہیں بلکہ ان پر عمل کرنا آئینی ذمہ داری بھی ہے۔ جنہیں ملکی عدالتیں اب تک نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔