یورپ میں مسلمان اور یہود مخالف تحریکیں

پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں مذہبی آزادی بد ترین دباؤ کا شکار ہے اور مختلف ممالک اور دہشتگرد و قوم پرست تنظیمیں اپنے اپنے ہاں مذہبی اقلیتیوں کا پیچھا کرتی رہی ہیں۔  انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور ان پر  حملے ہوتے ہیں۔ اسی لئے مذہبی اقلیتوں کے لوگ اپنے گھربار چھوڑ کر اپنی جان کی حفاظت کے لیے فرار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔

فی الوقت کم سے کم ساٹھ ملین لوگ، مشرق وسطیٰ، افریقہ ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں مذہبی جبر اور ظلم و ستم کی وجہ سے بے گھر ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ مغربی یورپ میں صورت حال کم خراب نہیں اور حالیہ برسوں میں یہاں بھی یہودیوں اور خاص کر مسلمان مخالف نفرت و تعصب کی لہریں اُٹھ اُٹھی ہیں۔ یہ عناصر ان اقلیتوں پر  حملے بھی کرتے  ہیں ۔

عالمی مذہبی آزادی کے حوالے سےامریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں ان باتوں کا ذکر کرتے ہوئے مذہبی اقلیتیوں کو لاحق مذہبی انتہا پسندی کے شر انگیز رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں ایشیا و افریقہ کے 31 ممالک میں مذہبی آزادی کا جائزہ لیتے ہوئے مذہبی اقلیتوں سے روا رکھے گئے سلوک کو سامنے لایا گیا ہے ۔ رپورٹ کے نتائج میں دیگر ممالک کے علاوہ ایریٹیریا، برما اور چین میں مذہبی آزادیوں کے خلاف صورت حال کی بطور خاص وضاحت کی گئی ہے ۔ چین میں مسلمانوں اور تبت میں بدھ مت کی پیروکاروں کے خلاف چینی حکام کے تادیبی اقدامات کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ برما میں سرکاری سرپرستی میں مسلمان اقلیتی برادری کے خلاف بدھ مت کے ماننے والے مسلح دہشتگردوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے ۔ برما میں مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے بھی محروم کیا جا چکا ہے ۔ اور ہزاروں کی تعداد میں برمی مسلمان ملک سے باہر جا چکے ہیں ۔ رپورٹ میں ایران اور پاکستان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وہاں مذہب کے نام پر جاری جبر کی مذمت کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہا ایران میں  2013ء میں صدر حسن روحانی کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے نوے عیسائیوں، اسی بہائیوں اور کم سے کم ایک سو پچاس سنی مسلمانوں کو ان کے دینی عقائد کی وجہ سےجیلوں میں ڈالا گیا ہے ۔ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف جبر و ستم کی مذمت کرتے ہوئے ، حکومت پاکستان کی خاموشی پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔  ایڑیٹیریا میں سینکڑوں عیسائی جیلوں میں پڑے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ملک سے بھاگ کر یورپ کا رخ کر رہے ہیں ۔

مغربی یورپ میں مذہبی اقلیتیوں یعنی یہودیوں اور مسلمانوں کی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں عقیدہ  کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔  اسے افسوسناک اور قابل مذمت روّیہ قرار دیا گیا ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کی ایک سالانہ رپورٹ میں ڈنمارک کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف عمومی اور خاص کر سیاستدانوں کے متعصبانہ روّیے کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسے ایک بے حد افسوسناک پیش رفت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ڈنمارک سمیت یورپی یونین کے کئی  ملکوں میں مسلمانوں اوریہودیوں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق جانوروں کو بیہوش کیے بغیر، ذبح کرنے کی اجازت نہ دیے جانے کو ان کے عقائد پر سرکاری قدغن کے مترادف قرار دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈنمارک میں بطور خاص اور یورپی یونین کے کئی ایک دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے رجحانات اور یہودیوں پر کئے جانے والے حملے ان برادریوں کے دینی عقائد کے لیے کسی اچھے مستقبل کی نشاندہی نہیں کرتے ۔  ان ملکوں میں نئے مہاجرین کی آمد سے مسلمانوں کےخلاف مقامی لوگوں کو مزید متنفر کرنے کے لے سیاستدانوں نے بھی حصہ ڈالا ہے اور اسے بڑھاوا دیا ہے ۔

ڈنمارک میں مذہبی آزادی  کی  آئینی ضمانت تو موجود ہے لیکن موجودہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مذہبی آزادی بھی کوئی خارجی شے دکھائی دیتی ہے۔  اس کے باوجود ڈنمارک میں اِس کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہ اُن ملکوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہے جہاں لوگوں کے اپنے مذہبی و دینی عقائد پر کھلم کھلا عمل کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر پابندی ہے ۔

متذکرہ امریکی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ شام و عراق میں اسلامی اسٹیٹ یا داعش اور نائیجریا میں بوکو حرام جیسی دہشت گرد مذہبی تنظیمیں اپنے نظریات لوگوں پر تھوپنے کے لیے  مخالفین کو قتل کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس وجہ سے ان ملکوں اور شام و عراق سے بطور خاص ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہجرت کر چکے ہیں اور یہ عمل تا حال جاری ہے ۔ امریکی وزرات خارجہ کی یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک میں حکومت کے ایما پر سفیر پیٹر ینسن نے حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کی ہے ۔ اس رپورٹ میں اگلے دس پندرہ برس میں ڈینش خارجہ پالیسی کیسی ہو، کے لیے تجاویز و سفارشات پیش کی گئی ہیں ۔

ہم اِس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ امریکی وزارت خارجہ ہر سال دنیا میں مذہبی اقلیتیوں پر روا رکھے جانے والے ظلم و ستم کے متعلق رپورٹیں پیش کرتی ہے۔ انہیں جواز بنا کر ہم اُن ملکوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جن کا اِن رپورٹوں میں ذکر ہوتا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کے مذہبی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ خود ڈنمارک جہاں مذہبی آزادی اور اظہار خیال کے آزادی، دونوں کے تحفظ کے لیے آئین مملکت میں ضمانت دی گئی ہے، وہاں مذہبی اقلیتوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں کس طرح تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض حکومتی حلقے اور کئی ایک پارلیمانی سیاسی پارٹی بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف مختلف پابندیاں لگانے اور انہیں ایک حد تک محصور کرنے کے لیے قانون سازی کا سہارا لے رہی ہیں ۔ اس سارے عمل میں مسلمانوں کو بطور خاص  نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

سفیر پیٹر ینسن  نے حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے اپنی سفارشات پر مبنی جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں بھی حکومت سے کہا گیا ہے کہ ملک میں  ڈینش اقدار کا تحفظ اور عیسائیت بطور ریاستی دین  برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ اس نکتے پر حکومت پہلے ہی متفق ہے اور حکومت سے باہر سبھی پارلیمانی سیاسی پارٹیاں بھی یہی چاہتی ہیں ۔ ڈنمارک میں مسلمانوں کی مساجد اور ان کی دینی و ثقاتی تنظیموں کی نگرانی کیے جانے اور نوجوان مسلمانوں میں بنیاد پرست دینی رجحانات کی بیخ کنی اور متنفرانہ نظریات و خیالات کی تبلیغ و پرچار کرنے والے آئمہ کو ملک سے دور رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات  کا مطالبہ بھی  تحریک بن چکا ہے جس میں ہر سیاسی پارٹی شامل ہے ۔

فی الوقت وینسٹرا پارٹی کی اقلیتی حکومت نے (دنیا بھرمیں)  مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم  کی روک تھام کو سیاسی منشور کا حصہ بنایا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس پر دبے لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اِس سے مسلمان ملکوں کے لیے ڈینش برآمدات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ اور  نئی ڈینش خارجہ پالیسی  بھی خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈنمارک اپنے ہاں مسلمانوں کو عیسائیوں کے برابر مذہبی آزادی کا حق دیے بغیر دنیا بھر میں عیسائیوں کی مذہبی آزادی اور ان کے تحفظ میں کامیاب ہو جائے گا۔ کیا ڈنمارک کا یہ اقدام خود اپنے ہی شہریوں میں تفریق کرنے کا سبب نہیں بنے گا؟

ہماری رائے میں ڈنمارک کو پہلے اپنے ہاں اسلام کو بطور دین سرکاری سطح پر تسلیم کرنے اور مسلمان برادری کو ملک کی عیسائی اکثریتی برادری کے برابر مذہبی حقوق و آزادی ہونے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر اس کی دینی آزادی سے متعلق  نیک نیتی کو  مشکوک سمجھا جائے گا ۔