اب التفات نگار سحر کی بات سنو

دوستان عزیز، مسافر کو تاجکستان کا چلہ کاٹ کر لوٹے ہفتے بھر سے زیادہ ہو گیا ہے، مگر حال احوال کا اختتامیہ تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا۔ باعث تاخیر وہی مسافت کی غیر منطقی طوالت ۔ دوشنبہ سے پرواز کی روانگی علی الصبح ساڑھے چار بجے تھی، اور ہوائی اڈے پر اس سے دو گھنٹے پہلے پہنچنے کا حکم۔ چنانچہ وہ رات گھڑی کی سوئیوں کو گھڑی گھڑی تکتے، آنکھوں آنکھوں میں کاٹنا پڑی۔

مقررہ وقت پر ہمارے دفتر کے ڈرائیور آقائے ظفر ہمیں فرود گاہ پہنچانے کے لئے آن موجود ہوئے اور ہم اس خوب صورت شہر کے گلی کوچوں پر الوداعی نگاہ ڈالتے روانہ ہوگئے۔ ہوائی اڈے پر آقائے ظفر نے تاجکستان میں مروج خوبصورت رخصتی فقرہ ”راہ سفید“ کہہ کر الوداع کیا۔ آگے دبئی تک ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز اور وہ بھی ارزاں ترین "فلائی دبئی" نامی کمپنی کے جہاز میں تھی، جس میں پینے کا پانی تک قیمتاً ملتا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق ہم کوئی سات بجے پہنچے اور نکل کر ہوٹل آتے آتے ساڑھے آٹھ بج گئے۔ اگلی پرواز رات نو بجے تھی۔ دن کو دبئی میں مارے مارے پھرتے رہے اور اگلی رات پھر سفر کے رت جگے کی نذر۔ کچھ بد انتظامی کے سبب تاجکستان میں فرائض منصبی تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ واپسی پر اس کا بوجھ بھی ذہن پر رہا، بلکہ اب تک ہے۔ خیر، اختتامیے کے طور پر کچھ چیدہ چیدہ چٹکلے حاضر ہیں.

خادم دنیا بھر میں جہاں جاتا ہے، پاکستانی سفارتی اہل کاروں کی راہ میں مخل ہونا پسند نہیں کرتا۔ اس کی نیو کئی برس قبل برطانیہ میں پڑی جب ایک مہمان اعلی افسر دوست زبردستی ایک سفارت کار کے ہاں کھانے پر لے گئے۔ سفارت کار نے چھوٹتے ہی ہم سے اب تک ان کے در دولت پر حاضری نہ دینے اور اپنا اندراج نہ کروانے کے قانونی عواقب کی دھمکی سے نوازا۔ ایک مرتبہ قیام بنگلا دیش کے دوران ہمیں پاکستانی ہائی کمیشن جانا پڑا اور غرفہ مہمانداری کی گرد آلود حالت اور بے ترتیبی دیکھ کر بہت شرمسار ہوئے۔ تاجکستان میں البتہ خوش گوار حیرت کا سامنا ہوا۔ ہمارے امریکی ہم کار کسی پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں پاکستانی سفارت خانے جا رہے تھے۔ بطور بدرقہ ہمیں بھی ساتھ لے گئے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے نائب سفیر شاہد علی سیہڑ نے نہایت تپاک سے دروازے پر آ کر ہمارا استقبال کیا اور پر تکلف چائے سے ہماری تواضع کی ۔ مزید خوشی اس امر پر ہوئی کہ وہ موضوع زیر بحث پر گفتگو کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ سفیر پاکستان جناب سومرو صاحب موجود نہ تھے، مگر عمارت کی صفائی اور سجاوٹ ان کی خوش ذوقی کی گواہ تھی.

ہم بھارت میں بی جے پی کی حکومت بننے سے پہلے سے ہی بڑے گوشت سے پرہیز پر کاربند ہیں۔ اس کی وجہ ہر گز نظریاتی یا مذہبی نہیں، بلکہ طبی ہے کہ ہم نے اس سے الرجی والدہ محترمہ سے ورثے میں پائی ہے۔ چھوٹے گوشت کا تاجکستان میں رواج کم کم ہے۔ کبھی مرغ خوری سے جی اوب جاتا تو ہم دال سبزی کی تلاش میں قریب واقع "طرب خانہ دہلی دربار" چلے جاتے۔ یہ ریستوران ایک بدخشانی شغنی خاتون کی ملکیت ہے جو کسی وقت ایک بھارتی طالب علم کی زوجیت میں تھیں۔ رشتہ تو گرہیں پڑنے کے سبب ٹوٹ گیا مگر یادگار کے طور پر بر صغیر کے کھانوں کی تیاری اور فروخت کا فن مع ایک عدد جنوبی ہند کے باورچی کے، خاتون کے حصے میں آیا۔ دیکھئے ، ایک شعر یاد آیا اور شعر تو وہی ہے جو واردات بیان کر دے:
گو پیڑ کٹ گیا تھا، تعلق کی بات تھی
بیٹھے رہے پرندے زمیں پہ تمام رات

اس طرب خانے میں تاجک ذوق کے حساب سے تبدیل شدہ ذائقے کے ہندوستانی کھانے کے علاوہ کچھ دیگر ہندوستانی مصنوعات مثلا ہلدی رام کا چنا چور، ڈابر کا لال تیل اور ہمانی کا ابٹن وغیرہ بھی دستیاب ہوتے تھے۔ کھانا بس یوں سمجھ لیجئے کہ خاتون ذی قدر کے تعلق گزشتہ کی وضع داری میں نوش کر لیا۔ ”گندم اگر بہم نرسد، بھس غنیمت است“۔ دنیا کے اس بھنگڑ خانے میں محبت کا بھس بھی غنیمت ہے۔ ایک روز ساتھ کی میز سے پنجابی لہجے میں، انگریزی الفاظ کی ملاوٹ کے ساتھ ایک مخصوص لہجے کی اردو سنائی دی جو بولنے والوں کے کاکول میں قیام و تربیت کی غمازی کر رہی تھی۔ ہم کھانے سے فارغ ہو کر اس میز پر گئے اور مخل ہونے کی معذرت کے بعد تعارف کے طالب ہوئے ۔ اندازہ درست نکلا۔ یہ پاکستانی فوجی افسران تھے جو ایک کثیر القومی جنگی مشق میں شرکت کی غرض سے آے ہوئے تھے۔ ان کی اعلی ظرفی دیکھئے کہ ہمارے وطن مالوف کا سن کر حالات پر تاسف کا اظہار تو کیا مگر بیرونی ہاتھ وغیرہ کے افسانے کی جانب ہر گز گریز نہ فرمایا ۔ ہماری کم ہمتی کہ ہم نے بھی "مسنگ پرسنز" کا رونا نہ رویا۔ یوں بھی ” پوچھو کھیل بنانے والے، پوچھو کھیلنے والے سے.... ہم کیا جانیں تاش کی بازی ہم جو پتے باون ہیں“۔

جن دوستوں کو خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے شہری کلچر سے کچھ مس رہا ہے، وہ”کیری اوکی“ نام کے شوق سے واقف ہوں گے۔ ہوتا یوں ہے کہ مشہور گانوں کی ریکارڈنگ میں گلوکار کی آواز ٹیکنالوجی کے استعمال سے دبا دی جاتی ہے جب کہ ساز ویسے ہی بلند بانگ رکھے جاتے ہیں اور ایک سکرین پر گانوں کے بولوں کی پٹی چلتی رہتی ہے۔ شوقین لوگ مائکروفون میں اپنی (اکثر بزعم خود) خوش گلوئی کا مظاہرہ سازوں کی ریکارڈنگ کی سنگت میں کر کے (کم از کم اپنا) دل پشاوری کرتے ہیں۔ ہماری گلی کے متوازی کوچہ بخارا میں بھی ایک ”کیری اوکی“ بار ہے۔ ہم ایک روز شام کو کھانا کھا کر لوٹ رہے تھے کہ بار کی کھڑکیوں سے کسی کی، کسی مانوس دھن پر طبع آزمائی کا شائبہ ہوا۔ ہم سڑک پار کر کے ذرا قریب ہوئے تو صاف سنائی دینے لگا۔ مقامی نوجوان عارف لوہار کی، کوک سٹوڈیو والی ”جگنی“ کے ساز میں اپنی آواز ملا رہے تھے.

وطن میں تو شاید ہم اپنی یبوست طبع کے سبب اس گانے پر زیادہ دھیان نہ دیتے، مگر پردیس میں یہ چنے بھی بادام معلوم ہوئے۔ تاجکستان کی اپنی موسیقی کچھ افغان موسیقی کی روایت سے ملتی جلتی ہے جو ہندوستانی راگوں، خصوصا بھیرویں اور وسط ایشیائی لوک آہنگ کا امتزاج ہے۔ اس پر مزید تڑکا سوویت دور سے جاری مغربی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم نے لگایا ہے جو ہمیں تو بہت خوش آتا ہے۔ ایک نسبتاً نئی بدعت البتہ بالی وڈ کی طرزوں پر فارسی بول لکھ کر گانے کی ہے۔ ہمیں بھی ٹیکسی میں سفر کے دوران مقامی ایف ایم ریڈیو پر ان میں سے دو گانے سننے کا بارہا اتفاق ہوا۔ نجانے یہ ہماری جانبدارانہ رائے ہے یا حقیقت، کہ صدیوں کے نازک خیالانہ کلاسیکی شعری سرمائے کے سبب، فارسی میں کم از کم لسانی چھچھورے پن کی گنجائش کم ہے۔ اسی لئے بالی ووڈ کے نہایت مبتذل گانے مثلا "یوں تو پریمی پچھتر ہمارے" اور "پیار کی پنگی بجا کر" فارسی ترجمے میں بلا وجہ یک گونہ معززانہ روپ اختیار کر لیتے ہیں.

ہمارے سوچنے کے ڈھنگ میں اس دورے کے نتیجے میں ایک تبدیلی آئی ہے جسے دوستوں کی خدمت میں پیش کرنا ضروری ہے۔ تاجکستان، خصوصاً بدخشاں کی زیارت سے پہلے ہمارے ذہن میں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کچھ شبہات تھے جو وہاں کی حالت دیکھ کر سب ہوا ہو گئے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ میدانی اور خشک علاقوں میں جہاں کا مشاہدہ ہمارا زیادہ ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات نسبتا سست رفتاری سے رونما ہوتے ہیں۔ تاجکستان میں، معلومہ تاریخ میں ان پہاڑوں میں اس قدر گرمی کبھی نہیں پڑی جس کے نتیجے میں ڈرامائی انداز میں، صدیوں سے جمے ہوئے مہیب "پیر یخ" آن کی آن میں کیچڑ کے سیلاب کی شکل میں آبادیوں اور زمینوں پر آ گرے ۔ ایسا ہی عمل ہمارے ملک کے شمالی علاقوں میں بھی جاری ہے مگر ارباب اختیار کی ترجیحات کا رخ اس سمت نہیں اور سول سوسائیٹی کا ان تبدیلیوں کا مشاہدہ محدود ہے۔ تاجکستان میں یہ اثرات کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ بڑے قصبوں کے آس پاس پیش آ رہے ہیں چنانچہ ارباب اقتدار چاہیں بھی تو ان سے صرف نظر نہیں کر سکتے.

ویسے یہ "دور دراز علاقے" کا تصور بھی عجیب ہے. یادش بخیر، چند برس قبل خادم گلگت میں ایک تربیتی نشست میں بطور سہولت کار شریک تھا. وہاں موجود سرکاری و غیر سرکاری شرکا کا خیال تھا کہ ان علاقوں کے پسماندہ اور خطر پذیر ہونے کا بنیادی سبب ان کا "دور دراز" اور دشوار گزار ہونا ہے۔ خادم نے سوال اٹھایا کہ ”دور دراز“ کا تعین تو کسی دوسرے مقام کی نسبت سے ہوتا ہے۔ سو وہ جگہ کون سی ہے جس سے مثلاً گلگت اور سکردو ”دور دراز“ ٹھہرائے گئے ہیں۔ دوسرے کیا گلگت اور سکردو سوئٹزر لینڈ سے زیادہ دشوار گزار ہیں؟ قصہ مختصر، اتفاق اس پر ہوا کہ ”دور دراز“ اور ”دشوار گزار“ جغرافیائی نہیں بلکہ سیاسی اصطلاحات ہیں۔ دور دراز وہ جگہیں ہیں جو قوت و اقتدار کے ڈھانچے میں خاطر خواہ مقام نہیں رکھتیں اور دشوار گزاری بھی اسی مظہر کا عکس ہے۔

اس لحاظ سے اسلام آباد کی کچی آبادی ”آئی-11“، بنی گالہ کی نسبت زیادہ دور دراز اور دشوار گزار ہے۔ چاہے بنی گالہ کی سڑک کچی ہو جب کہ ”آئی 11“ دورویہ شاہراہ پر واقع ہو۔ سو، آمدم بر سر مطلب، ہمارے ہاں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ملک کے ہر حصے کو متاثر ضرور کریں گے اور کر رہے ہیں۔ مگر ہم ان تبدیلیوں کے ڈرامائی انداز میں شکار بننے والے علاقوں کو ”دور دراز“ ٹھہرا کر، اور چنانچہ ان کی جانب مطلوبہ توجہ نہ دے کر آفت سے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ ہمیں مژگاں کو کھولنا ہی ہوگا، ورنہ سیلاب ہمیں بے خبری میں آن لے گا۔