چمکتی دمکتی شاہراہیں، چیختی چلاتی غربت

پاکستان کے مسلم لیگی حکمران لاہور شہر کو ترقی کا مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے پھولے نیہں سماتے۔  لاہور شہر میں امرا کی جدید بستیوں کی جانب رواں دواں عظیم الشان چمکتی دمکتی شاہراہوں، بلند و بالا تجارتی پلازوں اور ان میں بیچے جانے والے سامان تعیش، مغربی معیار کے اعلی ریستورانوں اور ملک کی نام نہاد الیٹ کی رہائشی بستیوں پر نظر دوڑایئں تو پاکستان دنیا کے امیر اور جدید ترین ممالک میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب دیکھیں تو جدید اور امیر بستیوں کے ارد گرد غریبوں کی بستیاں، امرا کے گھروں میں معمولی داموں کے عوض خدمات بیچنے والی “ ماسیوں “ بچیوں اور بچوں کی صورت میں الیٹ بیگمات کو خدمت گار فراہم کرتی ہیں۔ یہ طبقاتی تفریق اور اونچ نیچ ہزاروں سال پرانی موہنجوداڑو تہذیب میں طبقاتی اور ذات پات کے نام پر تقسیم کردہ بستیوں کی ایک صورت لگتی ہے۔

لاہور کے معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی بستیوں میں شہریوں کی واضع اکثریت آباد ہے۔ غریب اور نچلے درمیانے طبقوں کی یہ بستیاں حکمرانوں کی نگاہ کرم سے محروم رہتی ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں کی حالت زار، بازاروں اور گلیوں میں کچرے اور گندگی کے ڈھیر ایک طرف، تو دوسری جانب ان بستیوں کے باسی پینے کے صاف پانی سے محروم کر دئے گئے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ بوتل بند پانی خریدنے کی قوت نیہں رکھتے۔ مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے شہر کے لاکھوں عوام موذی امراض کا شکار ہو رہے ہیں، مگر حکمرانوں نے اس طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

تعلیم اور صحت کے شعبے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ غیر منصفانہ اور طبقاتی نظام تعلیم عوامی طبقوں کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے۔ عالمی اداروں کے سروے کے مطابق پاکستان کے لاکھوں بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر دئے گئے ہیں۔ معیاری طبی سہولتوں کا حصول بھی غریب اور درمیانہ طبقوں کے لئے ناممکن ہو چکی ہیں۔

غریب اور امیر طبقوں میں تفریق روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کروڑوں عوام خط غربت سے نیچے کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔
روز افزوں بڑھتی غربت کے خاتمے، تعلیم، روزگار اور طبی سہولیات اور بڑھتی طبقاتی خلیج کے خلاف سیاسی جدوجہد تقریباً نا پید ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ملک کی بڑی سیاسی یا مذہبی جماعتوں بشمول مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جے یو آئی یا جماعت اسلامی، کو عوام کے حقیقی مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں۔

ان جماعتوں کی سیاست محض غیر اہم سیاسی و جماعتی مفادات، سرمایہ دار اور جاگیردار طبقوں کے مفادات اور بیرونی سرپرستوں کی خوشنودی حاصل کر کے اقتدار تک پہنچنے کے اردگرد گھومتی ہے۔