میرے کشمیر تیری آزادی کے مطلب ہزار
دنیا کی کوئی بھی ڈکشنری اٹھا لیں، آزادی کا ایک ہی مطلب ملتا ہے : اپنے وطن پر اپنا راج۔ یہ راج اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک کوئی ملک سیاسی، اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے مکمل آزاد و خود مختار نہ ہو۔ یہ آزادیاں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسکی قیادت مخلص، دیانتدار، محب وطن، دلیر اور عوام با شعور نہ ہوں۔
ان سب خصوصیات کے باوجود مختلف ادوار میں مختلف قوموں کو حالات و تقاضوں کے مطابق پالیسیاں بنانی پڑتی ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں عالمی جنگوں سے پہلے یورپی ممالک اکثر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہتے تھے کیونکہ انہوں نے جن ممالک کو اپنی کالونیاں بنایا ہوا تھا ان کو ایک دوسرے سے چھیننے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اس دوڑ میں انہوں نے کروڑوں انسانوں کو تباہ و برباد کیا لیکن جب کالونیاں آزاد ہونے لگیں ، روس، سوویت یونین میں تبدیل ہو کر مضبوط ہونے لگا، چین آزاد ہو کر خاموشی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگا، دوسری جنگ عظیم میں تباہ کیا جانے والا جاپان اقتصادی منڈی میں برتری حاصل کرنے لگا ، تو مغربی یورپ نے پہلے ای ای سی ( یورپی ایکونومک کمیونٹی) اور بعد میں یورپی یونین کی بنیاد رکھی۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد یورپی یونین کے ممبر ممالک میں اضافہ ہوتا ہوگیا ۔ مشرقی یورپ کے تقریباً وہ تمام ممالک جو سابقہ سوویت یونین میں شامل تھے، وہ اب یورپی یونین کے ممبر بن چکے ہیں۔ لیکن برابری کی بنیاد پر۔ رنگ مذہب و معاشرت کی مماثلت کے باوجود کسی نے اپنے تشخص کا سودا نہیں کیا۔ تشخص کی قربانی کا مقصد دوسروں کی برتری اور عوامی حقوق قربان کرنا ہوتا ہے۔ شینگن ایک ملین آبادی والے ملک لگسمبرگ کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ جہاں ایک کانفرنس میں مشترکہ کرنسی اور ویزا پر اتفاق کیا گیا۔ جس کی وجہ سے اب یورپ کے اندر شینگن ممالک پر مشتمل ایک اتحاد بھی قائم ہے۔ دن بدن اس کے اراکین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ ابھی تک اپنا ویزا اور کرنسی قائم رکھے ہوئے ہے جس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ برطانیہ یورپ کا واحد ملک ہے جو خود کو یورپ کی نسبت امریکہ کے زیادہ قریب تصور کرتا ہے۔ دوسرا برطانیہ کامن ویلتھ کا سربراہ ہے جس کے رکن ممالک اس کی سابقہ کالونیاں تھیں۔ ان ممالک کے ساتھ برطانیہ وسیع پیمانے پر تجارت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ان ممالک کے ساتھ اپنا تعلق ختم نہیں کرناچاہتا ۔
اسی طرح جموں کشمیر کی وحدت بحال کر کے اگر اسے برابری کی بنیاد پر کسی علاقائی یا سیاسی یونین کا رکن بنایا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ لیکن انتہائی قابل افسوس امر یہ ہے کہ دونوں طرف کے اقتدار پسند لیڈروں کی طرح بعض خود ساختہ آزادی پسند بھی حق خود ارادیت کا اپنا اپنا مفہوم پیش کرتے ہیں۔ ایک طر ف وہ وحدت کی بات کرتے ہیں دوسری طرف الحاق کا نعرہ لگاتے ہیں، جبکہ یہ دو مختلف راستے ہیں۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اﷲ خان کے جنازے میں بھی اقتدار پسندوں کی طرح زر پرستوں نے بھی ایک طرف اما ن اﷲ خان کی جد وجہد کو خراج تحسین پیش کیا دوسری طرف کہا کہ نظریہ اپنا اپنا ہے۔ اب سوال ہے کہ یہ نظریہ ہے کیا اور اسکا مطلب کیا ہے؟ آر پار کے اقتدار پسندوں کا نظریہ تو واضح ہے۔ ہندوستان کے پھٹو کشمیری لیڈرز اقتدار کی خاطر نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مقبوضہ کہتے ہیں جبکہ پاکستان نواز بے اختیار ہونے کے باوجود خود کو آزاد اور بھارتی کشمیر کو مقبوضہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن جو خود ساختہ آزادی پسند کشمیری ایک طرف خود مختار کشمیر سے اختلاف کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کے لیے جد و جہد کرنے والوں کے ساتھ نظریاتی اختلاف کا بھی اظہار کرتے ہیں، وہ دنیا کو کیا بتانا چاہتے ہیں؟
کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا اتنی بے وقوف ہے کہ ان کی متضاد باتوں کو سمجھ نہیں سکتی۔ شاید وہ اپنے خول میں اس قدر بند ہیں کہ انہیں علم ہی نہیں کہ ان کی مضحکہ خیز ی پر سامعین ہنس رہے ہوتے ہیں ۔ موقع پرستوں میں سے کچھ اپنی تقاریر میں یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ قابل عمل نظریہ تو لبریشن فرنٹ کا ہی ہے لیکن ان کے لیے وقتی طور پر کچھ مشکلات ہیں۔ وہ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ ہم اپنی جد و جہد جاری رکھیں۔ وقت آنے پر وہ بھی ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے نماز کی دعوت دینے والے کو یہ کہا جائے کہ بھائی میں اس وقت ذرا مشکل میں ہوں آپ نماز جاری رکھیں جب آپ کو جنت مل گئی تو میں بھی ساتھ مل جاؤں گا۔
لبریشن فرنٹ کی فراخدلی کہا جائے کہ یہ غلط پالیسی اختیار کی جاتی ہے کہ اس کے اپنے پروگراموں میں ہر ابن الوقت کو بھانت بھانت کی کھل کر بولیاں بولنے کا موقع دیتی ہے۔ حالانکہ اقتدار پرست ٹولہ پہلے تو وحدت پسندوں کو دعوت ہی نہیں دیتا اور اگر دے دیے تو تقریر مکمل کرنے کا موقع نہیں دیتے تاکہ ان کے اعمال کا کوئی ذکر نہ کر دے۔ دو سال قبل جدہ سعودی عرب کے ایک مقامی ہوٹل پر مجھے صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان کے ساتھ سٹیج شئیرکرنے کا موقع ملا۔ صدر صاحب کے ایک میزبان نے کہا کہ صدر صاحب نے میری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ راجہ قیوم ایک سلجھا ہوا قوم پرست ہے۔ کیونکہ بعض قوم پرست تو ہمارا پاجامہ اتار دیتے ہیں۔ میں نے کہا جناب پاجامے تو بڑی مدت سے اترے ہوئے ہیں یہ کام مجھے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
انہی صدر صاحب نے امان اﷲ خان کو کشمیری تشخص کے لیے جد وجہد کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور دوسری طرف کشمیر کی تاریخ پر لکھی جانے والی کتابوں پر پابندی لگانے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔ ان کتابوں کے الزام میں پبلشر خواجہ رفیق گرفتار بھی ہوئے ور مؤلف و مصنف سعید اسعد کچھ عرصہ ملازمت سے معطل رہے۔ ان کتابوں میں اگر کوئی قابل اعتراض بات ہے تو عدالتی کارروائی کے ذریعے حکومت سامنے لائے تاکہ قوم کو بھی حقائق کا پتہ چلے۔ برطانوی کشمیری محقق تنویر احمد کئی مرتبہ ایسی تحقیق کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے جو حکومت آزاد کشمیر کو کرنی چائیے۔ یعنی مسلہ کشمیر پر عوام کی رائے لینا۔ آخری بار تنویر احمد کیس کی ہٹیا ں بالا کورٹ نے سماعت کر کے فیصلہ دیا کہ پولیس نے خوا ہ مخواہ عدالت کا وقت ضائع کیا ہے۔ اس کے باوجود تنویر احمد کو چند دن بعد پھر دھیر کوٹ کے مقام پر گرفتار کیا گیا۔ اس بار مظفرآبادہائی کورٹ میں انہوں نے اپنے جائز کام میں ناجائز مداخلت کے خلاف رٹ دائر کی جس پر شیراز کیانی نے تنویر احمد کو اپناکام جاری رکھنے کی اجازت دی۔
ان چند مثالوں سے واضع ہو جاتا ہے کہ اقتدار پسند و زر پرست کشمیری قیادت کس قدر دوغلی پالیسی کا شکارہے۔ برحال اب بھی وقت ہے کہ لٹکے ہوئے پاجامے اوپر کھینچ لیے جائیں ورنہ بقول علامہ اقبال:
تیری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں!!