پگڑی سنبھال جٹا!
ہم اپنے بچپن میں ایک گیت سُنا کرتے تھے اور شاید آپ نے بھی سن رکھا ہو، بول تھے ’’ پگڑی سنبھال جٹا، پگڑی سنبھال اوے!‘‘ آج یہ گیت ہمیں ایک خبر کوپڑھتے ہوئے یاد آ گیا۔ لیجئے پہلے آپ بھی وہ خبر پڑھ لیجئے پھر بات کرتے ہیں۔ خبر ہے کہ: ’’ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نےسکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی درخواست پر چھ مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا ہے۔ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی کی پولیس کے مطابق مہندر پال سنگھ نے درخواست میں کہا ہے کہ فیصل آباد سے ملتان کے سفر کے دوران جس بس پر وہ سفر کر رہے تھے اس کی مالک ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین نے ان سے بدسلوکی کی اور اس دوران ان کی پگڑی بھی زمین پر گرا دی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق پگڑی ان کے مذہب میں بہت اہمیت ہے اور یہ ان کے گرو کی توہین کے مترادف ہے۔ پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مہندر سنگھ کی درخواست پر نجی ٹرانسپورٹ کمپنی سے منسلک چھ افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 295 اور 506 کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مہندر پال سنگھ کے مطابق اب وہ کوشش کریں گے کہ مقدمے کو ملتان منتقل کروایا جا سکے کیونکہ چیچہ وطنی میں سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘
صاحبو! یہ تھی وہ خبر جس پر ہمیں متذکرہ گیت یاد آگیا ۔ دستار مسلمانوں کے ہاں جو مقام رکھتی ہےپگڑی سکھوں کے لیے اُس سے بھی کہیں زیادہ مقام رکھتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے پانچ بنیادی اصولوں یعنی کلمہ، نماز۔ روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح سکھوں کے چھ بنیادی دھرمی اصولوں یعنی، کیس ( بال)، کنگھی، پگ (پگڑی) کڑا، کرپان اور کچھا ( انڈر ویئر) میں سے اہم ترین دھرمی علامت ہے۔ پگڑی پنجابی ثقافت و عزت و احترام، سماجی رتبے اور فرد کی شخصی شان و شوکت کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔ مسلمانوں و سکھوں کے ہاں ہی نہیں بلکہ پاکستانی ہندوؤں کے ہاں بھی عزت و تکریم کا درجہ رکھتی ہے ۔ پنجابی جاٹ کے لیے تو یہ ’’غیرت ‘‘ کی علامت بھی ہے ۔ پگڑی کے حوالے سے پنجابی زبان میں جو محاورے مستعمل ہیں ، یہاں ان کا ذکر کرکے ہم اس تحریر کو بیجا طول نہیں دینا چاہتے اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ پنجاب میں کہا جاتا ہے ، ’’ سر جائے تو جائے، پگڑی نا جائے!‘‘
اب چیچہ وطنی میں ہمارے ہم وطن شری مہندر پال سنگھ کے ساتھ جو ہوا، اسے پڑھنے کے بعد ہمارے ذہن میں ہمارے بچپن کا گیت گونج اٹھا، ’’ پگڑی سنبھال، جٹا، پگڑی سنبھال اوے!‘‘ یہ گیت دراصل پہلی بار 23 مارچ سنہ 1907ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے ’’بھارت ماتا سبھا ‘‘ کے اجلاس میں ایک اخبار ’’ جھنگ سیال ‘‘ کے ایڈیٹر شری بانکے دیال نے سنایا تھا ۔ اس میں پنجاب کے کسانوں، ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، سب سے دردمندانہ اپیل کی گئی تھی کہ فرنگی راج ان کی زندگیوں اور عزت و ناموس کو جس طرح پامال کر رہا ہے وہ اُس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی پگڑی یعنی دستار سنبھالنے کے لیے فعال اور متحرک ہو جائیں۔ تاریخ آشنا صاحبان جانتے ہیں کہ اس گیت نے پنجاب کے کونے کونے میں کیا اثر دکھایا اور فرنگی حکومت کو کتنی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ گیت فرنگی راج کے خلاف پنجاب میں ایک نعرہ بن گیا ۔ پگڑی ہندوستان و پاکستان کے بیشتر حصوں میں عزت اور وقار کا نشان رہی ہے۔ پٹھانوں کے ہاں بھی اسے ایک عظیم مرتبہ حاصل ہے اور وہ اسے پشتون ثقافت کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
’’ پگڑی سنبھال، جٹا، پگڑی سنبھال اوے!‘‘ آج بھی پنجاب میں اسی طرح گایا اور سنا جاتا ہے جیسے تقسیم سے قبل گایا و سنا جاتا تھا ۔ یہ وہی گیت تھا جو فرنگی قوت کے خلاف ایک مرکزی حیثیت اختیار کرگیا تھا اور ہفت روزہ ’’ زمیندار ‘‘ نے اسے اپنے صفحہ اول پر جلی حروف میں شائع کیا تھا جس سے پنجاب کے لوگوں میں ایک نیا جذبہ حب الوطنی پیدا ہوا۔
چیچہ وطنی میں ایک سکھ ہم وطن شری مہندر پال سنگھ کے ساتھ پیش آنے والے واقع میں چند شر پسند مسلمانوں نے جس طرح اُن کی پگڑی کی توہین کی ہے اس سے ہمیں وہ ایام یاد آگئے جب فرنگی دور میں کسی کو گرفتار کیا جاتا اور تھانے لے جایا جاتا تھا تو سب سے پہلے اسے اپنی پگڑی یا دستار اتار دینے کا حکم سنایا جاتا۔ مدعا اس کی تذلیل کرنا ہوتا تھا ۔ شری مہندرپال سنگھ کی پگڑی کو جس طرح اچھالاگیا ہے وہ صرف پگڑی یا دستار کا اچھالنا ہی نہیں پوری پنجابی ثفاقت اور اس خاص معاملے میں سکھ دھرم کی توہین کرنے کے مترادف ہے ۔ مہندر پال سنگھ نے تو اس واقع کے خلاف رپٹ درج کرادی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس و عدالت کیا کرتی ہے اور خود پنجابی تہذیب و ثقافت کے علمبردار اور اہل پنجاب اس معاملے پر مہندر پال سنگھ کا کہاں تک ساتھ دیتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے لیے یہ معاملہ صرف ثقافتی نہیں بلکہ ’’ دھرمی ‘‘ ہے ۔
پاکستان میں ہر دین و دھرم اور مسلک کی آزادی و احترام کے لیے آئینی ضمانت دی گئی ہے ۔ آج تو سردار مہندر سنگھ کی پگڑی اہل وطن نے چیچہ وطنی کے بس اڈے پر اچھالی ہے، ہمیں ڈر ہے کہ کل کلاں کہیں دوسروں کی بھی پگڑیاں بھی نہ اچھالی جائیں۔ خاص کر اُن کی جو آئمہ و مفتی، شیخ السلام، امیر شریعت وغیرہ کے القابات سے پہچانے جاتے ہیں اور پگڑی باندھتے ہیں ۔ اپنے دین و دھرم کی وجہ سے یا پھر اپنی ثقافت کے زندہ ہونے کی علامت کے طور پر، ان سب کے لیے ہم میؔر کی زبان میں ایک ہی مشورہ دے سکتے ہیں:
’’میؔر صاحب زمانہ نازک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے تھام لو دستار‘‘
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)