شریف خاندان کی جہدِ سرمایہ داری

پانامہ لیکس عالمی سرمایہ داری نظام کے باہمی تضادات اور تصادم کی کہانی ہے۔ ہمارے ہاں جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ لوٹا ہوا مال واپس لائیں گے اور ایک ملک سے دوسرے ملک سرمائے کی ترسیل پر اعتراض کرتے ہیں، ان کو علم ہونا چاہیے کہ کیپٹل ازم کی تعریف ہی Movement of Capital ہے۔ بس اب یہ ہوا کہ عالمی سرمایہ داری نظام کے اپنے تضادات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب امریکی سرمایہ داری نظام نے یورپی اور دوسرے مخالف سرمایہ داری کے مراکز کو نشانہ بنانا چاہا کہ امریکی سرمایہ داری نظام نے وکی لیکس کا بھرپور بدلہ لیا۔

پانامہ لیکس اس عالمی سرمایہ داری نظام کے تصادم کا ایک واقعہ ہے۔ لیکن اس عالمی کھیل میں وہ کھلاڑی بھی بے نقاب ہوئے جن کا تعلق نواز حکومت سے ہے، بلکہ وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے۔ نہ جانے اُن کو اپنی ’’داستانِ جہد سرمایہ داری‘‘ کا مقدمہ بیان کرنے کے لیے کس نے مشورہ دیا کہ وہ دوبارہ قوم سے خطاب کرنے پر مجبور ہوئے۔ ’’داستان جہد سرمایہ داری‘‘ بیان کرتے ہوئے انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے تفصیل بتائی کہ کیسے ان کی ملوں کو قومیا لیا گیا۔ حالاںکہ بھٹو حکومت کی قومیانے کی پالیسی ان کا وہ پارٹی منشور تھا جس کی بنیاد پر وہ پاکستان کے مقبول رہنما ٹھہرے تھے۔ قومیانے کے عمل کی ذمہ داری ان کے وزیر خزانہ  ڈاکٹر مبشر حسن کی سربراہی میں ہوئی اور اس کا مقصد کسی مخصوص صنعت کار خاندان کو انتقام کا نشانہ بنانا Victimize  نہیں تھا، بلکہ یہ ایک اصولی پالیسی تھی۔ اس عمل میں شریف خاندان سے کہیں بڑے سرمایہ دار نشانہ بنے۔ لیکن وزیراعظم نوازشریف  نے غیر قومیائے (De-Nationalization)جانے کی ’’داستانِ محبت‘‘ سے مکمل گریز کیا، جس کا بیڑا فوجی آمر جنرل ضیا نے اٹھایا اور شریف خاندان کو سرمائے سے مالا مال ہی نہیں کیا، بلکہ سیاست میں شریف خاندان کا کلہ گاڑ دیا۔ یاد رہے کہ جب جنرل ضیا کی اپنے ہی وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اقتدار کی تقسیم پر لڑائی ہوئی تو انہوں نے اسی بنیاد پر پنجاب کے حوالے سے کہا تھا کہ میرا کلہ بڑا مضبوط ہے۔ جنرل ضیا الحق نے پاکستان کا آئین نہ صرف معطل کیا، وزیراعظم کو برخاست کیا، بلکہ منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکایا اوراُس کی جدوجہد کے ہزاروں ساتھیوں کو ٹکٹکیوں پر باندھ کر سربازار درّے لگائے۔ اس طرح پاکستان میں آمریت کی تاریخ کا ایک سنگ میل عبور کیا۔ افغانستان اور پاکستان کو جنگ اور دہشت گردی اور امریکی سامراج کا اکھاڑہ بنایا۔

ان تمام تفصیلات کے ساتھ ساتھ جنرل ضیاالحق نے پاکستان کی سیاست پر چند اہم سیاسی بیانات داغے جو اپنی مثال آپ  ہیں۔ پہلا بیان پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے تھا۔  جب نظامِ مصطفی کے علمبردار پاکستان قومی اتحاد (بھٹو مخالف نوجماعتوں کا سیاسی و انتخابی اتحاد) مارشل لاء کے بعد جنرل ضیاالحق کی حکومت کا حصہ بنا تو جنرل ضیاالحق نے کہا کہ سیاسی رہنما اقتدار کی خاطر کتے کی طرح دُم ہلاتے آتے ہیں۔ اس کے بعد افغان پالیسی تھی۔ جس پر ہمارے خاموش مجاہد جرنیل جنہوں نے کبھی کسی جنگ میں عملی حصہ ہی نہیں لیا اور یہ گمان کربیٹھے کہ سوویت یونین ان کے رعب و دبدبے سے ٹوٹ گیا ۔ یہ خاموش مجاہد ہر وقت  اپنے آپ کو مجاہد اسلام اور فاتح قرار دیتے اور افغان پالیسی پر نازاں نظر آتے رہے ہیں جن میں مرحوم جنرل حمید گل بھی شامل تھے۔ ان کی افغان پالیسی کی حقیقت اس وقت کھل گئی جب سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے افغانستان میں جنگ بندی کے حوالے سے جنیوا معاہدہ کیا۔ تو جنرل ضیاالحق نے اپنی ہی افغان پالیسی اور نام نہاد جہادِ افغانستان کا جو تجزیہ کیا ، وہ ہر طرح کے اُن تجزیوں میں سرفہرست ہے جو افغانستان کے اس امریکی جہاد اور افغان پالیسی پر کیے گئے۔ جنرل ضیاالحق نے امریکہ اور سوویت یونین کے مابین افغانستان پر معاہدے کے بعد اپنے ہی عمل اور پالیسی کا افغانستان کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم نے افغانستان میں کوئلوں کی دلالی کی اور اس سے اپنا ہی منہ کالا کر لیا۔‘‘ یہ اس شخص  کا اعتراف Confession ہے جو افغانستان میں اس ساری اکھاڑ پچھاڑ اتھل پتھل، جنگ و جدل، مداخلت اور فتوحات کا ذمہ دار ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی پر اس سے زیادہ عمیق "In depth" تجزیہ کیا ہو گا۔

اسی طرح جنرل ضیا نے تیس سال پہلے میاں نوازشریف کے حوالے سے جس کلے کا ذکر کیا تھا، وہ بھی درست ثابت ہوا۔ جنرل مشرف نے بڑی کوشش کی کہ یہ کلہ ٹوٹ جائے یا ہل جائے، لیکن وقت نے ثابت کیا جنرل ضیا کا یہ کلہ واقعی بڑا مضبوط ہے۔ ذرا اخبارات کی فائلیں کھولیں تو یہ راز بھی آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگا کہ وہ دانشور جو آج میاں نواز کی حکومت کو جمہوریت قرار دیتے ہیں اور پاکستان میں فوج کی سیاسی مداخلت پر بڑھ چڑھ کر ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں، وہی دانشور تیس برس قبل ضیاالحق اور اس کے کلے کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ جنرل ضیاالحق کا کلہ نہ جانے کس چیز سے بنا ہے کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ کوئی تو راز ہے اس کی ہئیت میں۔

میاں نوازشریف اور ان کا خاندان ان تیس سالوں میں ’’جہد سرمایہ داری‘‘ میں اتنا پھلا پھولا کہ سرمایہ ملک کی سرحدوں کے باہر چلا گیا۔ اقتدار، طاقت اور سرمائے کی یہ کہانی پاکستانی سیاست کا اہم ترین باب ہے۔ نہ اس خاندان کا سرمایہ کم ہوا اور نہ ہی اقتدار، دونوں میں ہر روز ’’برکت‘‘ پڑتی گئی۔  سیاست کی حصے داری جو میاں نوازشریف نے تحریک استقلال میں خاندان کے فردِ واحد کی حیثیت سے شروع کی تھی،  اب اس خاندان کے 65 سے زیادہ لوگ اقتدار کی سیاست میں جھول رہے ہیں۔ کبھی سنا اور دیکھا تھا کہ کوئی خاندانی رئیس اپنی زمینیں بیچ کر سیاست پر لگا دیتا تھا اور جب زندگی کے آخری ایام میں قدم رکھتا تھا تو معلوم ہوتا کہ دولت لٹ گئی، سیاست کر لی۔ لیکن شریف خاندان کی ’’جہدِمسلسل‘‘ میں دولت بھی بڑھی، سیاست بھی، اقتدار بھی اور خاندان کے افراد میں دولت و سیاست پھیل گئی۔ مغل دربار کی تاریخ لکھنے والا ہمارے مورخ کا قلم بھی خاموش ہے اس ’’دربار‘‘ کی ہم عصر تاریخ لکھنے پر۔