ڈنمارک: پناہ گزینوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

(ترک اخبار ’’ جہان‘‘  نے مہاجرین کی صورت حال پر ڈینش  میگزین ’’کمیونسٹ سیاست ‘‘کے ایڈیٹرکلاؤس رز کا ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ یہ  انٹرویو یہاں سوال و جواب کی صورت میں شائع کای جا رہا ہے۔  اس انٹرویو کو اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے ایڈیٹر اور کہنہ مشق صحافی اور ادیب نصر ملک نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔)

سوال۔  مہاجرین کے حوالے سے بنائے گئے اُس قانون کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جس کے تحت  مہاجرین سے اُن کے پیسے، زیورات اور وہ نادر اشیاء ضبط  کر لی جاتی ہیں جن کی مالیت  دس ہزار کرونا سے زیادہ ہو؟
ج۔ یہ قانون ایک قومی رسوائی ہے اور ڈینش باشندوں کی ایک بڑی اکثریت اسے ایک نیا  تادیبی حربہ سمجھتی ہے ۔ اگر کمزوروں ، بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور بیروزگاروں کے ساتھ سماج کے روّیے کے معیار کو دیکھا جائے، خستہ حال مریضوں اور در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ڈنمارک پہنچنے والے مہاجروں کو دیکھا جائے تو یہ قانون ڈنمارک کو بڑی سرعت کے ساتھ بلندی سے گہری کھائی میں گرا رہا ہے ۔ دراصل یہ قانون، ہماری نظر میں مہاجرین کے خلاف ریاست کی  بورژوائی کلاس کے روّیے کا اظہار ہے اور یہ عسکریت،  جنگی جنون اور اسلامم فوبیا کی پرورش کرنے والا زہر بن گیا ہے ۔  یاد رکھیں ڈنمارک میں 2006ء میں شائع کئے گئے نبی اسلام ؐکے  خاکے بھی اسی نفرت و تعصب کے اظہار کاایک ذریعہ تھے ۔ نسل پرستی استعماری جنگی سیاست کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔  ڈنمارک میں دائیں بازو کی ایک جماعتی حکومت کے وزیر اعظم لارس لکے راسموسن کو ( قومیت پرست و غیر ملکیوں مخالف)  انتہائی دائیں بازو کی ڈینش  پیپلزپارٹی کی پارلیمانی حمایت حاصل ہے۔ وہ عالمی کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہاجرین اور اُن کے ساتھ تارکین وطن کے لیے نت نئی سخت پالیسیاں متعارف کرا رہے ہیں اور قانون سازی میں مصروف ہیں ۔ اِ ن دونوں پارٹیوں کی سیاسی نیت کو پرکھا جائے تو جو سختیاں یہ مہاجرین  اور یہاں پہلے سے رہنے والے تارکین وطن کے بارے میں متعارف کرا رہی ہیں، وہ حیران کن نہیں ہیں ۔  حیران کن بات یہ ہے کہ اِن غیر انسانی قوانین کی حمایت  میں سوشل ڈیموکریٹ پارٹی بھی پیش پیش رہی اور ہے ۔ 2015ء میں عام انتخابات میں شکست کھانے کے بعد اب سوشل ڈیموکریٹ اپنی مقبولیت کے لیے وہی پالیسیاں اپنا رہی ہے جو دائیں بازو کی مقبولیت کی وجہ ہیں ۔ سوشل ڈیموکریٹ کا یہ رویہ بہت ہی شرمناک ہے ۔

س۔  اس قانون کے نفاذ سے مہاجرین اور ڈینش آبادی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
ج۔  اثرات! حکومت یہ تاثر دینے میں بہت حد تک کامیاب رہی ہے کہ ڈنمارک میں مہاجرین کو خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا اور ان سے بُرا (سخت)سلوک کوئی بُری بات نہیں ۔ مہاجرین میں سے بیشتر کو شمال مغرب کی یخ بستہ سردی کے موسم میں فوجی خیموں میں رکھا جا رہا ہے۔ انہیں اپنا مستقبل بنانے کے لیے کوئی اقدام کرنے سے روکتے ہوئے مایوسی و نا امیدی کے کنویں میں دھکیل دیا گیا ہے ۔  انہیں اُن کے نام سے نہیں بلکہ ایک نمبر سے جانا اور پکارا جاتا ہے اور یہی نمبر ان کا نام و شناخت ہوتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی حکومت اور اس کی حمایتی پارٹیاں  پروپیگنڈے کا ڈھول پیٹتی ہیں کہ یہ مہاجرین ہی ہیں جو  سماج ی ویلفیئر گرانٹس میں کٹوتیاں کیے جانے کا سبب ہیں۔ حالانکہ اصل مجرم  نام  نہاد نئی لبرل اصلاحات اور  سرمایہ داروں کی چوریاں اور منافع پروری ہے ۔ ستم تو یہ ہے کہ یہی سرمایہ دار اِن مہاجروں کے بارے میں یہ سوچ رکھتے ہیں کہ کسی طرح اُنہیں مفت یا سستی افرادی قوت کے طور پر استعمال کر سکیں ۔ ڈنمارک میں تو یہ ایک سرکاری نعرہ بن چکا ہے کہ ’’انہیں یعنی مہاجروں کو  پہلے دن ہی سے کام کرنا ہو گا۔‘‘ ، یعنی انہیں اپنی  تکلیف دہ پناہ گاہوں اور اپنے کم ترین الاؤنس کے لیے ’’ غلامی ‘‘ کرنا ہو گی ۔ انہیں بیشتر صورتوں میں ڈینش لوگوں کے مقابلے میں کم اجرتوں پر کام کرنا پڑتا ہے ۔ اب مہاجرین کو   دور حاضر کا ’’سب سے بڑا بحران ‘‘ بنا کر پیش کیا جا رہاہے حالانکہ پچھلی صدی میں اِن سے بھی کہیں زیادہ مہاجر کوئی خاص بحران پیدا کیے بغیر یورپ آتے رہے ہیں ۔ مہاجرین کے اِس نام نہاد بحران کو بہانہ بنا کر ڈنمارک نے سویڈن اور دیگر نارڈک ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کردی ہیں تاکہ کوئی مہاجر ڈنمارک داخل نہ ہو سکے ۔ پچھلے پچاس سال میں ایسا پہلی بار کیا گیا ہے کہ  نارڈک ممالک کے شہریوں کو اپنے پڑوسی و برادر ملکوں میں آنے جانے کے لیے سرحدوں پر پاسپورٹ یا کوئی اور ایسا سرکاری شناختی کارڈ دکھانا پڑ رہا ہے جس پر حامل کی فوٹو ہو ۔ اس سے شہریوں اور سامان لانے لیجانے والی لاریوں کی آزادانہ آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور انہیں قطاروں میں لگ ک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہونے والے وقت کے ضیاع کی وجہ سے اقتصادیات کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے ۔ دائیں بازو کی موجودہ ڈینش حکومت یورپی یونین میں اپنے آپ کو ’’ قوم پرست حق‘‘ کے لیے جدو جہد کرنے والی چیمپیئن سمجھتی ہے اور یورپی یونین کی غیر مشروط حمایت کرتی ہے بلکہ ڈینش حکومت یورپی یونین میں  مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے یورپی یونین کو’’قلعہ بند‘‘ بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔مہاجرین کو یورپی یونین سے باہر رکھنے کے لیے اور اپنے ہاں اُن پر کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اور  ہوم گارڈز کے خصوصی دستے تیار کر رہی ہے تاکہ سرحدوں کی نگرانی کی جا سکے اور اس کے لیے باقاعدہ خصوصی فوجی یونٹیں تیار کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ اِس دوہرے ڈینش معیار کو سامنے رکھا جانا بہت ضروری ہے ۔ یورپ کی ترقی پسند سوشلسٹ و کمیونسٹ قوتوں کو  یورپی یونین کی رجعت پسند ریاستوں میں ان کے دوہرے معیار کے خلاف مزاحمتی تحریک کی ضرورت ہے ۔

س ۔   مہاجرین کی آمد یا تارکین وطن کے حوالے سے موجودہ  صورت حال کے بارے میں ڈینش جمہوری  برادریوں کا رد عمل کیا ہے؟
ج۔  سرکاری یعنی حکومتی مؤقف اور رجعتی قوانین و ضوابط روایتی سیاسی حلقوں میں تقسیم  پیدا کرنے کے ساتھ فاصلے بڑھا رہے ہیں ۔   لیکن پروگریسیوو اور بائیں بازو کی طاقتیں اپنی قوت بڑھا رہی ہیں۔ اس کے لیےکوشش کر رہی ہیں ۔ جب کہ فاشسٹ اور انتہائی دائیں بازو کی طاقتیں محسوس کرتی ہیں کہ سرکاری پالیسیاں اُن  کےحوصلوں کو بڑھاتی اور اُن کے اپنے نظریات کی حمایت کرتی ہیں ۔ ڈیموکریٹک اورپروگریسیو قوتوں کا رد عمل بڑا اہم اور مضبوط رہا ہے لیکن اسے عالمی میڈیا میں  وہ جگہ نہیں ملی جو ملنی چاہیئے تھی۔ ستمبر 2015ء سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اِن رجعت پسندانہ پالیسیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ انہوں نے  بے سرو سامان، دکھ درد کے مارے، در بدر ٹھوکریں کھانے والے مہاجرین کو ڈنمارک میں ’’ خوش آمدید‘‘ کہنے کے لیے ایک باقاعدہ ملک گیر مہم شروع کی اور ایک تنظیم Refugees Wellcome قائم کی اور حکومتی پالیسیوں اور پولیس کی نگرانی کی پرواہ کیے بغیر اسے  مسترد کرتے ہوئے اِن مہاجرین کی جان و دل سے مدد کی ۔ مقامی اور علاقائی سطحوں پر مہاجرین کی مدد کے لیےVenligboere یعنیFriendly People کے نام سے ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا گیا جو اب تک بڑی کامیابی کے ساتھ  کام کر رہا ہے۔ مہاجرین کی مشکلات کو آسان بنانے اور انہیں رہنمائی مہیا کرنے اور ان کے لیے رہائشی سہولتیں پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے ۔  کم و بیش ساڑھے پانچ ملین  افراد کی آبادی والے اِس ملک میں  دو فیصد سے زیادہ ڈینش اور تارکین وطن بھی اس نیٹ ورک اور اس سے ملتی جلتی  دوسری رفاہی و رضاکارانہ تنظیموں میں شامل ہیں ۔ جب سے مہاجرین  یہاں آنا شروع ہوئے تو بیشتر لوگوں نے انہیں، ان کی خواہش کے مطابق سویڈن پہنچانے  کے لیے ٹرانسپورٹ مہیا کی، بھرپور مدد کی ، انہیں ذاد راہ مہیا کیا، گرم کپڑے، ادویات اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء دیں، بچوں کے لیے کھلونے، گرم کپڑے ، کھانا اور  شیر خوار بچوں کے لیے دودھ کے ڈبے وغیرہ مہیا  کئے گئے۔  ایسے مدد  فراہم کرنے والوں  میں سے 80 لوگوں کو مقدمات کا سامنا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ  انہوں نے مہاجرین کو ڈنمارک سے گزر کر سویڈن جانے کے لیے جو مدد مہیا کی وہ ’’ انسانوں کی سمگلنگ کے زمرے میں آتی ہے اور وہ تعزیراتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں ‘‘۔  یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا مؤقف ہے ۔ عمومی لوگ اسے ’’انسانیت کی خدمت‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ اور یہی سچ ہے ۔ اگر باریکی سے دیکھا جائے تو  مہاجرین کی اقدار کے خلاف اقدامات  اور ان کے پیسے، زیورات اور  نوادرات ضبط کرنے کے ضوابط کے خلاف ملکی آبادی میں ایک  قابل ذکر اکثریت موجود ہے۔ اگرچہ سوشل ڈیموکریٹ جیسی پارٹی، پارلیمنٹ میں  ان قوانین کی منظوری میں حکومت اور دوسری رجعت پسند پارٹیوں کے ساتھ تھی۔ 

س۔  یورپ بھر میں مہاجرین کے مسئلے پر ڈنمارک میں کس طرح کی بحث کی جاتی ہے، اور یہ مسئلہ یورپ کی سماجی صورت حال کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
ج۔   یقینی بات ہے کہ مہاجرین کا معاملہ،  مقبول عام  یورپی سیاسی ایجنڈے پر سر فہرست ہے کیونکہ  یہ مسئلہ بیشتر سیاسی و سماجی معاملات میں ایک  تکون کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس نے یورپی یونین کو منقسم کر رکھا ہے اور اب تک اسے حل کرنے کے لیے کوئی مشترکہ سیاسی پالیسی نہیں بنائی جا سکی ۔  نہ ہی اسے جمہوری طریقے سے حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس و پائیدار اقدامات کئے جا سکے ہیں۔ البتہ یورپی یونین نے ترکی میں اردوگان حکومت کو 3 بلین یورو دئے ہیں تاکہ وہ مہاجرین کو یورپی یونین میں داخل ہونے سے روکے ۔ ترکی نے اس کے بدلے میں یہ بھی منوا لیا ہے کہ اس کے اپنے شہریوں کے لیے یورپی یونین کے ملکوں میں داخل ہونے کے لیے ویزے کی شرط ختم کی جائے اور  ترک حکومت ملک میں کردشہریوں کو دبانے کے لیے جو فوجی اقدامات کر رہی ہے یورپ اُن سے لا تعلق رہے ۔ مہاجرین کے مسئلے کی وجہ سے یورپی یونین کے ملکوں کے اندرونی تضادات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس بات کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے کہ  یہ ملک  ایک دوسرے سے کتنا سیاسی تعاون کرنے پر تیار ہیں۔ کوئی رکن  ملک محض اپنی صوابدید پر اپنے ہاں اس مسئلے کا کوئی یک طرفہ ‘‘ قومی حل ‘‘ تلاش کرنے میں  بھی ناکام رہا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ لوگ اب یہ حقیقت سمجھنے لگے ہیں کہ مہاجرین کے مسئلے کی اصل جڑیں سامراجی جنگوں اور  سامراجی لوٹ کھسوٹ میں  پیوست ہیں۔  اگر اِس مسئلے کو ایمانداری سے  حل کرنا ہے تو سامراجی جنگوں کا خاتمہ کرنا ہو گا، شام و عراق میں  جنگوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور وہاں لوگوں کو ان کاحق خود مختاری واپس دینا ہو گا ۔ مشرق وسطی اور افریقہ میں  حالیہ صدی کی یہ سامراجی جنگیں  تباہ کاریوں کا سبب ہیں اور سامراجی طاقتیں اپنی قوت کے نفاذ کے لیے تباہی و بربریت کو ہوا دے رہی ہیں۔ مہاجرین کو اپنے جرائم چھپانے کے لیے مہرے Scape goat کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے انہیں اپنے سماجی مسائل، اقتصادی  بحران ، بے روزگاری اور اسی طرح کے دوسرے مسائل کی جڑ قرار دیتی ہیں۔ لیکن اب  محنت کش اور نوجوان طبقہ اور  پروگریسو حلقے سامراجی قوتوں کے اِن ہتھکنڈوں کو سمجھنے لگے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پیداواری ذرائع پر قبضہ کرنے کے لیے یہ سامراجی قوتیں جہاں غیر قانونی و غیر اخلاقی جنگیں لڑ رہی ہیں۔  وہ  اپنے  ہاں پروگریسو حلقوں کی سوشل جدوجہد کو کچلنے کے لیے  مصنوعی مسائل کھڑے کر کے ان تحریکوں پر کنٹرول صاحل کرنا چاہتی ہیں ۔ ڈنمارک میں بھی درپردہ یہی صورت حال ہے ۔

س۔   ڈنمارک میں مہاجرین کے بارے میں جاری بحث  مزدور تحریکوں اور تنظیموں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے اور بحیثیت مجموعی یورپ میں  کیا صورت حال ہے؟
ج ۔   ڈنمارک میں ٹریڈ یونینوں میں سے چند ایک واضح  پروگریسو مؤقف اختیار کرتے ہوئے سامراجی قوتوں کی جنگوں پالیسیوں  اور اِن کے نتائج کے خلاف ٹھوس آواز اٹھائی ہے۔ لیکن عمومی طور پر انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشرے کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ’’ سماجی بہبود پر مشتمل سراب  ‘‘ کو فروغ دیتے ہوئے خود کو مطمئن کر لیا ہے ۔ یورپی یونین کو تبدیل کرنے  کے تصور کو  اندرونی طور پر زخم لگے ہیں لیکن اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ یونان سے سپین، اٹلی سے فرانس اور پرتگال و پولینڈ  اور یہاں تک کہ برطانیہ میں  بھی تبدیلیوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور  یہ بات سنی اور سمجھی جانے لگی ہے کہ نہ صرف ڈنمارک بلکہ یورپ بھر کے سماجی مسائل، انسانی حقوق کو لاحق خطرات کا حل ’’ یونائیڈ سٹیٹیس آف یورپ‘‘ میں نہیں ۔ یہ آگاہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ ڈنمارک میں فی الوقت  بازار روزگار میں نتخواہوں سے متعلقہ،’’ سہ  فریقی ‘‘ مذاکرات جاری ہیں اور اِن میں بھی حکومت اور سرمایہ دار مہاجرین  کو ہی  وجہ بناتے ہوئے ان پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے تنخواہوں کو کم سے کم رکھنے پر زور دے رہے ہیں ۔ آجر و صنعتکار مہاجرین کو کسی قسم کی اجرت دئے بغیر انہیں افرادی قوت کے طور پر استعمال کرنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ وہ مہاجرین کو تنخواہوں میں کسی بھی قسم کے اضافے کے لیے بوجھ سمجھتے ہیں۔  اُن کے خیال میں مہاجرین کو ملنے والی سرکاری گرانٹس کے عوض ان سے کام کرایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں مہاجرین کو اور تارکین وطن کو مزید پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ ڈنمارک میں تو حقیقی تنخواہیں کئی سالوں سے کم رکھی جا رہی ہیں ۔ یہ ایک شیطانی سازش ہے جسے وینسٹرا پارٹی کی موجودہ یک جماعتی حکومت اور اس کی حمایتی تارکین وطن مخالف ڈینش پیپلز پارٹی اور اب سوشل ڈیموکریٹس کی بھی حمایت حاصل ہے ۔  ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور  سوشل گرانٹس وصول کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ سماجی فلاح کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے قوانین کے تحت مہاجرین کے لیے مقرر کی گئی کم سے کم سوشل گرانٹس نے اُن کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ بد قسمتی سے سوشل ڈیموکریٹس کی اکثریت والی اور اس پارٹی کی نگرانی میں چلنے والی ٹریڈ یونینیں بھی  (چند ایک کو چھوڑ کر) خاموشی کے ساتھ یہ سرمایہ دارانہ شیطانی پالیسیاں قبول کر چکی ہیں  ۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ٹریڈ یونینوں کی قیادت ہی نہیں ان کے بینادی ڈھانچوں میں  انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں اور سرمایہ داری نظام کے آگے جھکنے کی ان کی کم ہمتی کو ختم کرنے کے لیے محنت کش تحریک چلائیں، جدوجہد کریں اور ان کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم  کریں ۔

س ۔  آپ نے نزدیک کیا وجہ ہے کہ خود کو  پروگریسو کہلوانے والے بیشتر ملک بھی  مہاجرین کے متعلق  اس طرح کے رجعتی اقدامات لے رہے ہیں بلکہ وہ ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں جو نازی پالیسیوں کی، کسی نا کسی حد تک عکاسی کرتی ہیں ؟
ج ۔  ڈنمارک 2001  سے بین الاقوامی سیاست میں ایک گندا کردار ادا کررہا ہے اور وہ اپنے روایتی پروگریسو روّیے اور ترقی پسند نظریات سے روگردانی کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی جھولی میں گر چکا ہے۔ ڈنمارک کئی عشروں سے، افغانستان ، عراق، لیبیا اور اب شام میں جاری استعماری جنگوں میں بڑی شدت سے ملوث ہے اور  یہ حقیقت ہے کہ ڈنمارک امریکہ کے نقش قدم پر چلنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہی اس کی خارجہ سیاسی پالیسی کی بنیاد ہے ۔ اِس ڈینش رجعت پسندانہ پالیسی کا  خطرناک آغاز وینسٹرا پارٹی کی حکومت کے دور میں وزیر اعظم آنڈرس فوگ راسموسن نے کیا تھا جو بعد میں نیٹو  کے جارحانہ اتحاد کے سیکریٹری بن گئے تھے ۔ دوسری جانب اُن کے دور اقتدار میں برسوں کی محنت و جدوجہد سے قائم کیے گئے ’’ ریاستی ویلفیئر نظام ‘‘ کو رجعتی پالیسیوں کے تابع کرنے کے لیے شیطانی  اقدامات لیے گئے ۔ جن کا اصل مقصد محنت کش طبقے کی  سماجی فلاح کے لیے جدوجہد پر ضرب لگانا اور انقابی اصلاحات کی راہ روکتے ہوئے ایک حقیقی سوشلزم جو کہ ڈینش نظام فلاح و بہبود کی بنیاد تھا،  اسے دبانا اور ڈنمارک  کو عالمی رجعت پسندانہ پالیسیوں کے تابع کرنا تھا۔  انہی اقدامات کا نتیجہ ہے کہ  عشروں کی محنت سے حاصل کیے گئے فوائد کو یورپی یونین کے ضوابط کے مطابق میں کرنے کے لیے اقدان کئے گئے۔ دیکھا جائے تو نہ صرف ڈنمارک بلکہ سبھی نارڈک ممالک  ’’ ویلفیئر ریاستوں ‘‘ کے طور پر ایک ’’ ماڈل ہونے کی حیثیت ‘‘ میں اپنا مقام و مرتبہ کھو چکے ہیں ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں رجعت پسندانہ اصلاحات کوئی ٹھوس اور پائیدار حیثیت نہیں رکھتیں ۔ اب ہمیں ایک نئے اشتراکی رفاہی نظام کے لیے  نئی طرز کے معاشرے کی ضرورت ہے۔ ڈنمارک سمیت یورپ بھر کے محنت کش ہی یہ معاشرہ اور نظام قائم کر سکتے ہیں۔