وطن میں رہ کر پیارے۔۔۔
شاید کچھ لوگوں کو حیرت ہو گی کہ ضلع باغ اور مظفرآباد کو میں نے برطانیہ میں22 سال قید کاٹ کر وطن واپسی پر پہلی بار دیکھا تھا۔ لیکن اس سے زیادہ قارئین کو حیرت اس بات پر ہو گی کہ صدر سردار یعقوب خان کی صاحبزادی فرزانہ یعقوب نے کوٹلی کو وزارت کے چوتھے سال تک نہیں دیکھا تھا اب کا پتہ نہیں۔
میں مئی دو ہزار پانچ میں بری ہو کر وطن واپس آیا دوست احباب تیاری کر رہے تھے کہ اتنی طویل جدائی کے بعد ہم سب مل جل کر پہلی عید اکھٹے منائیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے باغ اور مظفرآباد میں قیامت خیز زلزلہ نے ہمارے تمام پروگراموں پر پانی پھیر دیا۔ پہلی عید میں نے زلزلہ زدگان کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔ میرے ساتھ راولاکوٹ کے تحریکی ساتھی ناصر سرور، سردار ابرائیم ایڈووکیٹ اور دیگر چند ساتھی تھے۔ ناصر سرور کا اپنا گھر بھی زلزلے کی نذر ہو گیا تھا۔ باغ شہر اور گرد و نواح میں تباہی ناقابل بیان تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے اس شہر کی زندگی بحال ہونے میں صدیاں لگ جائیں گی۔
دوسری بار میں باغ اپنے ایک دیرینہ دوست پروفیسر عبدالحسن عاصم کی دعوت پر گیا۔ پروفیسر عاصم کا تعلق باغ سے نہیں ہے۔ وہ برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں گزشتہ چالیس سالوں سے آباد ہیں۔ ان کے بیوی بچے بھی وہاں ہی ہیں۔ زلزلہ سے ہونے والی تباہی کا سن کر وہ ایک ٹیم لے کر باغ آئے۔ ابتدائی مدد کے بعد انہوں نے ایک کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس میں شیفیلڈ کے مقامی انگریزوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ کالج کی عمارت ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میں نے پروفیسر عاصم کے ساتھ ایک رات اس عمارت میں گزاری۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ پروفیسر عاصم کی زندگی میری قید تنہائی سے کوئی زیادہ مختلف نہ تھی۔ میری ملاقاتوں پر تو پابندی تھی اور جیل کے آہنی گیٹ پر بڑے بڑے تالے تھے لیکن پروفیسر عاصم کھلی فضا میں ہونے کے باوجود تنہا ئی کا شکار تھے اور مقامی لوگ اور خاص کر حکومت آزاد کشمیر ان کے کام میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہی تھی۔ البتہ کوٹلی میں کچھ عرصہ ڈپٹی کمشنر رہنے والے راجہ ارشاد خان جو اب ضلع باغ میں ایک ڈویلمنٹ ادارہ کے انچاج تھے وہ پروفیسر عاصم کی اخلاقی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔
اس بار میں لبریشن فرنٹ گلف زون کے صدر راجہ حنیف خان اور ادیب ظفرکے ساتھ باغ گیا ۔ مدینہ منورہ میں ہمارے ایک تحریکی ساتھی محمد شفیق دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے وفات پا گئے تھے۔ راجہ حنیف کے پاس محمد شفیق کی فیملی کے لیے کچھ امانتیں تھیں جو ہم دینے گے۔ پروفیسر عاصم کے ساتھ میرا رابطہ بھی کافی عرصہ سے معطل تھا لیکن اب وہ باغ میں کافی معروف ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کا فون آسانی سے مل گیا۔ اس بار جب ہم شیفیلڈ کالج میں پہنچے تو لنک روڈ کے علاوہ کالج کی عمارت، اس کا صحن، سیکورٹی انتظامات اور ایڈمنسٹریشن تسلی بخش نظر آ رہی تھی۔ پروفیسر عاصم ہمیں اچانک دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ میں نے راجہ حنیف کو بتایا کہ پروفیسر عاصم اتنے حساس ادمی ہیں کہ جب وہ پہلی بارہمراہ اپنی اہلیہ مجھے جیل میں ملنے آئے تو ان کی اہلیہ میرے ساتھ باتیں کرتی رہیں اور پروفیسر عاصم نصف گھنٹہ ملاقاتی کرسی پر روتے رہے۔ پروفیسر عاصم نے راجہ حنیف کوبتایا کہ کس طرح کچھ عناصر انہیں میرے ساتھ ملاقات کے حوالے سے خوف زدہ کیا کرتے تھے۔ برحال وقت تھا گزر گیا۔
کالج کی پراگرس تو اس وقت بہت اچھی ہے لیکن کچھ خدشات بھی ہیں کیونکہ انگریزوں کا کہنا ہے کہ ان کا کام تھا کالج بنانا اب چلانا مقامی لوگوں کا کام ہے۔ ہم بھی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت زندہ رہنے کا گر سیکھنا چائیے۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ صرف ترجیحات غلط ہیں۔ نبی کریم کا فرمان ہے کہ لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر۔ دنیا میں بھی لینے اور دینے والے کا مقام ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ باغ میں البتہ جو چیز باعث مسرت تھی وہ باغ کی پختہ سڑکیں تھیں۔ زلزلے کے بعد تعمیر ہونے والی یہ سڑکیں اسلام آباد شہرکی سڑکوں سے کم نہیں۔ آزاد کشمیر میں اکثر سڑکیں غیر معیاری ہوتی ہیں لیکن باغ کی سڑکیں بہت بہتر ہیں۔ کوٹلی کے وزیروں نے کئی بار باغ کا دورہ کیا ہو گا۔ وہ بتائیں کہ وہ بھی باغ جیسی سڑکیں کیوں نہیں تعمیر کروا سکتے۔
باغ میں لبریشن فرنٹ کے رہنما جہانگیر مرز ا اور ساتھیوں نے ہماری کافی رہنمائی کی۔ باغ سے مظفرآباد جاتے ہوئے ہم نے دھیر کوٹ میں تعمیر ہونے والا وہ ہسپتا ل دیکھا جس کی تعمیر کے لیے لبریشن فرنٹ کے طلباء ونگ ایس ایل ایف کے سابق چئیرمین راجہ مجتبی خان، زیشان کاشر، بابر شکور، طفیل عجائب، خلیل الرحمن اور دیگر ساتھیوں کی قیادت میں پچیس دن لگا تار دھرنا دیا گیا ۔ اب اس ہسپتا ل میں چوبیس گھنٹے ڈاکٹر دستیاب ہے۔ اس سے قبل معمولی سی تکلیف ہو جانے پر بھی مریضوں کو پنڈی جانا پڑتا تھا۔
ایس ایل ایف کے نوجوانوں کے اس کارنامے کی وجہ سے مقامی لوگ انہیں بہت عزت و احترام سے دیکھتے ہیں۔ اس دوران ہم نے غازی آباد میں جناب سردار محمد عبدالقیوم خان کی قبر پر فاتح پڑھی۔ سردار صاحب کی قبر سعودی عرب میں قبروں کی طرح سطع زمین سے اوپر نہیں ہے۔ اس کے ارد گرد ایک بہت بڑا جنگلہ ہے جہاں ہر وقت ایک سیکورٹی مین موجود ہوتا ہے۔ مظفرآباد میں اس دفعہ کم وقت میں زیادہ ملاقاتیں کرنی پڑیں جن میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے مقبول بٹ کے کزن خورشید بٹ، لبریشن فرنٹ کے رہنماء سیف الدین، کالم نگار بشیر لون اور دیگر رہنماء شامل تھے۔ لبریشن لیگ کے رہنماء میر لطیف اور نامور خاتون کالم نگار اور وکیل راحت فاروق سے بھی مختصر ملاقات ہوئی۔ راحت فاروق خواتین کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ وہ ایک ماں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فل ٹائم وکالت کر نے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں تین چار کالم لکھتی ہیں اور شام کو یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیتی ہیں۔ اگر ہمارے سیاسی معاشرے میں ایسے سیلف میڈ افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے تو یقیناً ادارے، ملک و ریاست ترقی کر سکتے ہیں۔
مظفرآباد سے واپسی پر لبریشن فرنٹ اور دیگر قدردانوں نے دھیر کوٹ، راولاکوٹ، ہجیرہ اور تتہ پانی کے مقام پر گھروں اور ہوٹلوں پر ضیافتوں کا اہتمام کیا۔ باغ، بن جوسہ اور تائی منڈہول کے ہرے بھرے اور خوبصورت مقامات پر لوگوں کی الفت دیکھ کر جیل میں لکھی جانے والی یہ نظم گن گنانے کو جی چاہا رہا تھا:
دیس میں واپس لوٹ کے اپنے سب کو گلے لگائیں گے
اپنوں کی کچھ سنیں کچھ ان کو اپنی سنائیں گے
ہواؤں کی آغوش میں اور وادیوں کی گود میں ،
دل کو بہلائیں گے اور روح کو گرمائیں گے
پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور ندی کے کناروں پر ،
وطن میں رہ کر پیارے وطن کے گیت گائیں گے
انا کو دفنائیں گے اور جھوٹی شان مٹائیں گے،
روکھی سوکھی کھائیں گے اور چین کی نیند سوجائیں گے
یہ نظم میں نے ان لوگوں کے مشوروں کے رد عمل پر لکھی تھی جو جیل سے رہائی کے بعد ہمیشہ کے لیے برطانیہ چھوڑنے کا میرا فیصلہ یہ کہہ کر غلط قرار دے رہے تھے کہ وہاں کے خود غرض حکمران مجھے زلیل و خوار کر دیں گے۔ آج بھی میرا موقف ہے کہ جن حکمرانوں کی اپنی کوئی عزت نہیں مجھے ان سے کچھ نہیں چائیے۔ ہمیں اپنے عام لوگوں سے سرو کار ہے جو ہمیں ہر جگہ عزت و احترام دیتے ہیں۔ اس ملک سے بھاگنے کے بجائے اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔