ایک اوریجنل پاکستانی کی تلاش
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 09 / مئ / 2016
- 6139
پاکستانی کون ہوتا ہے ؟
مُسلمان ؟ نہیں اگر پاکستانی ہونے کی شرط مسلمان ہونا ہے تو دوسری مذہبی اقلیتیں پاکستانی ہو ہی نہیں سکتیں ، لہٰذا آزادی کا مفہوم یہ تھا کہ ہر اُس شخص کو جو پاکستان کی سرزمین کو اپنا وطن تسلیم کرتا ہے ، آزادی کے حصول کے بعد ، سب سے پہلے ہر پاکستانی کو مذہبی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مسجدوں ، اپنے گرجوں ، آتش کدوں ، مندروں اور گوردواروں میں مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ جائے۔ لیکن پاکستان بن جانے کے بعد یہ تصور معدوم پڑتا گیا ، اسلام کے اصل چہرے کو مسخ کردیا گیا ، اور ایک نیا نعرہ ایجاد ہوا کہ :
پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا اِلہ الاللہ
پھر اس نعرے کی کئی پیروڈیاں ہوئیں اور کسی جمہوریت نواز دل جلے نے کہا:
پاکستان کا مطلب کیا
لاٹھی ، گولی ، مارشل لا
اور اسی پر بس نہیں ، ضیاء الحق کے دس سالہ اسلامی دورِ عسکریت میں یہ پھپھولہ بھی پھوڑا گیا کہ :
لا الہ مارشل لا ، ضیاء الحق عذاب اللہ
دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی سیاسی جماعتوں نے پاکستانیت کے اپنے اپنے ماسک ایجاد کر لیے اور تقسیم سے قبل جو جماعتیں پاکستان کی تشکیل کے خلاف تھیں ، قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہتی تھیں ، پاکستان کی مالک اور پاکستانیت کی شارح بن بیٹھیں اور اُنہوں نے اپنے اپنے ایجاد کردہ پاکستانیت کے ماسک پہن کر ملک کو سیاسی تھیٹر میں تبدیل کردیا جس میں جُگت بازی سیاست ٹھہری اور کرپشن ، بھتہ خوری اور بد عنوانی طرزِ معیشت بن گئیں ۔ لا حول ولا قوۃ ۔
ان سیاسی جماعتوں نے پاکستان کو جو کچھ دیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ان سب نے مل کر فوجی طالع آزماؤں کی چھتر چھایا میں دہشت گردی کو پروان چڑھایا اور ملک کا تیا پائچہ کر کے رکھ دیا ۔
لیکن ایک سچے پاکستانی کا چہرا بے ماسک ہوتا ہے ، اوریجنل ہوتا ہے ۔ اُس کے ایک ہاتھ میں ایمان کا پرچم اور دوسرے میں نظم و ضبط کا آئین ہوتا ہے اور اُس کا کردار ملی اور قومی اتحاد کی شاندار مثال ہوتا ہے ۔
لیکن اب خیر سے ہم نے پاکستانیت کا حصول بہت آسان کردیا ہے ، جس کے تحت پاکستانیت کرپشن کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ خیر ہو " نادرا " کے ادارے کی ، جس میں پاکستانیت کے ماسک تیار کر کے قیمتاً بیچے جاتے ہیں اور رشوتاً فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی را کا ایجنٹ ، افغان ، چیچیئن ، ازبک یا کسی بھی نسل کا پاکستان دشمن زرِ نقد کے عوض پاکستانیت کا ماسک خرید سکے اور دہشت گردوں کے لیے خصوصی رعائت ہے کہ وہ میز کے نیچے سے یہ ماسک حاصل کر سکتے ہیں ۔ سبحان اللہ ، مکرر سبحان اللہ کہ اب کتنی سستی اور بے قدر و قیمت ہے اس شریف عہد کی پاکستانیت !
ہر روز سیاسی ماسک اور چہرے بدلنا بہروپیوں کا پیشہ ہے جو ہمارے سیاسی ، مذہبی اور عسکری رہنمائوں نے اختیار کر رکھا ہے ۔ ہر روز ایک نیا ماسک ، ہر نئی صورتِ حال میں ایک نیا بہروپ اور ہر نئے نظریاتی شعبدے کے لیے ایک نئی آئی ڈی ۔ یہ سیاسی آدمی ہے یا گرگٹ ۔ گرگٹ ہے یا بیہودگی کا کوڑا کرکٹ ؟ یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ عوام بھی کرپٹوں ، ٹیکس چوروں ، بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کی سرپرست مافیا کو پاکستانیت کا رکھوالا اور رہبر تسلیم کر لیں ۔
اور اب خیر سے لڑکیوں کی ہیرو پوجا نے سیاسی جلسوں میں اپنی الگ قنات بلکہ کائنات لگا رکھی ہے ۔ عمران خان سے بھی یہ چوک ہوگئی کہ اُنہوں نے سیاسی دھرنے میں شادی کی فال نکلوا ڈالی اور پھر دس ماہ ریحام خان کے ساتھ گزار کر طلاق کا دریائے شور عبور کیا تو بہت سی نوعمر خواتین کو بھی اس قسم کے ایڈونچر کی سوجھنے لگی ۔ شو بزنس کی دنیا کی بہت سی میک اپ پوش لیلائیں عمران خان کو سیاستدان سے مجنوں بنانے کی منصوبہ سازی میں لگ گئیں ۔ اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں قندیل بلوچ نامی ایک ماڈل گرل نے لاہور کے زمان پارک میں عمران خان کے گھر کے چکر چلانے شروع کر دئے اور میڈیا کو کرتب دکھانے کا موقع مل گیا ۔ ٹی وی کیمروں کے پیٹ بھرے جانے لگے اور اینکروں اور مبصروں کے لیے تولمبی لمبی چھوڑنے اور بے پر کی اُڑانے کی گویا لاٹری نکل آئی۔ لاہور کے پی ٹی آئی کے جلسے میں گذشتہ روز خواتین کو بد تمیزی کا نشانہ بنایا گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ نئی نسل کی خواتین کو سیاسی جلسوں میں شرکت سے روکا جا رہا ہے ۔ مگر کون تھا اس سازش کے پیچھے ؟ کیا پاکستان کی نئی نسل واقعی اتنی بد تمیز ہے کہ اس مملکتِ خُداد اد میں عورت کو سرِ راہ آزادی سے چلنے اور کسی سیاسی تقریب میں شرکت کرنے کی آزادی اور سہولت حاصل نہیں دیتی ؟ کیا پاکستان کی نئی نسل سچ مُچ اتنی ہی غیر مہذب ہے جیسی ظاہر کی جا رہی ہے؟
اور آج پشاور میں پھر بد تمیزی کی تاریخ دوہرائی گئی ہے اور وہ یوں کہ عینی خان نامی ایک غینی نے جو خیر سے ماڈل گرل ہے ، پشاور کے جلسے میں ساڑی پہن کر اور سولہ سنگھار کر کر نزول اجلال فرمایا اور جلسے کو تھیٹر میں تبدیل کر دیا ۔ موصوفہ نے ایسی ایسی بجلیاں گرائیں کہ جلسہ ، نگار خانہ ء معشوقاں کا منظر پیش کرنے لگا ۔ ایک ذرا سی لڑکی نے تھوڑی سی پئے بغیر لمبے چوڑے میک اپ کے ساتھ ہنگامہ برپا کردیا ۔ پی ٹی آئی کے ترجمانوں کا غالب گمان یہ تھا کہ عینی خان کا جلسہ اکھاڑنا ایک سازش ہے اور طلال خان ، جو عینی خان کے خان بھائی ہیں ، کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے لونڈے بد تمیز ہیں اور میڈیا کے مُرغانِ زاغ صدا سوال اُٹھا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تربیت کون کرے گا ؟
ارے نہیں ، اصل سوال تو یہ ہے کہ اس قوم کی تربیت کون کرے گا ۔ بظاہر بالغ نظر ، دکھائی دینے والوں کو فکری بلوغت کی سند کون دے گا ؟ گلو بٹوں کو شرافت کی پٹی کون پڑھائے گا ؟ اسمبلیوں میں کائیں کائیں کرنے والے کووں کو کوئل کی کوک کون سکھائے گا؟ ٹاک شوز میں ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والے اور ایک دوسرے کی وگیں اُچھالنے والے جانوروں کو کون سدھائے گا ؟ ممتاز قادری کے چہلم میں غلیظ دشنام طرازی کرنے والی داڑھیوں کو شرافت کا خضاب کون لگائے گا ؟
جہاں سیاست ، مذہب ، دفاع ، میڈیا، علما کونسلیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں مل کر پاکستانیت کو ڈی ریل کرنے کی سازش کر رہی ہوں وہاں کوئی اورجنل پاکستانی کہاں دکھائی دے گا ؟ اوریجنل پاکستانی یقیناً موجود ہے لیکن ان سیاسی غنڈوں نے اُس کا جینا حرام کر رکھا ہے اور وہ زیرِ زمین چلا گیا ہے ۔ ایسے میں بھائی خلیل نفیسی کی آواز میرے کانوں میں سرگوشی کر رہی ہے اور وہ کیا کہہ رہی ہے ؟ سُنیے گا:
دیکھتا کیا ہے میرے مونہہ کی طرف
قائدِ اعظم کا پاکستان دیکھ
آج پھر یہی ہوا ہے کہ عینی خان نامی ۔۔۔۔