ذوالفقار علی بھٹو، تاریخ کے کٹہرے میں

پاکستان میں جس قدر کردار کشی ذوالفقار علی بھٹو کی ہوئی، شاید ہی کوئی سیاسی، مذہبی، قومی رہنما یا کوئی اور شخص اس قدر نشانہ بنا ہو۔ ان کی ذات سے لے کر کردار اور سیاست کے حوالے سے کئی الزامات کو ان پر ایسے جڑ دیا کہ اُن سے بڑا آمر کوئی نہیں۔ ان الزامات کی فہرست میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کے حوالے سے کہا کہ’’ اُدھر تم اِدھر ہم‘‘۔ حالاںکہ اس جملے کی حیثیت ایک صحافی کی سرخی بازی سے زیادہ نہیں۔

یہ الفاظ اُن کی زبان سے نکلے ہی نہیں تھے اور ان الفاظ پر مبنی دوسرے دن کے اخبار کی سرخی ان سے منسوب کی گئی۔ ان پر الزامات کی فہرست کو تاریخ قرار دے دیا گیا۔ درحقیقت اشرافیہ تاریخ کے یہ فیصلے بالاتر طبقات کے تاریخ مسخ کرنے کا حصہ تھے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے خلاف قتل کے مقدمے کے دوران ایک دن کہا کہ ’’تاریخ دو دھاری تلوار ہے جو وقت آنے پر واقعات کی حقیقت کو ازخود بے نقاب کر دیتی ہے۔‘‘ ان پر یہ الزام کہ انہوں نے بلوچستان میں فوج کشی کی، ان پر یہ الزام کہ انہوں نے مخالفوں کو کچلا اور نیپ پر پابندی لگا دی، ان پر عدالت کے ذریعے یہ بھی قرار دیا گیا کہ وہ نام کے مسلمان ہیں (لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ) جو کہ سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کے دوران عدالتی فیصلے کے اوراق سے مٹا دیا گیا۔ ان پر الزام کہ انہوں نے مخالفوں کو کچلنے کے لیے فیڈرل سکیورٹی فورس بنائی۔ انہی الزامات کی فہرست میں ایک یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ انہوں نے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ شائع نہیں کی۔ بھٹو مخالف تمام سیاسی جماعتیں اس الزام کو بھی سیاسی حقیقت قرار دینے میں کامیاب رہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ خود ملٹری بیوروکریسی نے رکوائی اور اسی طرح بلوچستان میں ملٹری آپریشن فوج کے دباؤ پر ہوا۔  جب ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخالف سیاسی اتحاد (PNA) کے ساتھ 1977ء میں مذاکرات کر رہے تھے تو چیف آف آرمی جنرل ضیاالحق غیر متوقع طور پر مذاکرات کے کمرے میں داخل ہوا اور اس نے نقشوں کی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن ناگزیر ہے، اسے ختم نہ کیا جائے اور نیپ غدار ہے، اس پر عائد پابندی نہ ہٹائی جائے۔

ان تمام الزامات میں ایک الزام اور بھی ان کی شخصیت کو ایک شیطان، خائن اور قاتل ثابت کرنے کے لیے لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین ہی نہیں، بلکہ ساتھیوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہ کرتے تھے، جس میں صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) کے پی پی پی کے سربراہ اور سینئر وزیر حیات محمد خاں شیر پاؤ کا قتل بھی شامل ہے۔ اس قتل کے حوالے سے بڑی کہانیاں گھڑی اور پھیلائی گئیں اور ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کا شیطان قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اُن کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے محکوم طبقات کی بات کی۔  پاکستان کے 98% کا پرچم بلند کیا تھا۔  تاریخ واقعی بڑی بے رحم ہوتی ہے، دیکھئے آج قبر میں ابدی نیند سوئے ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ تاریخ کے ہاتھوں کیسے لڑا اور جیتا جارہا ہے اور باری باری  تاریخ کا دھارا ان پر عائد الزامات کی تردید کررہا ہے۔

نیشنل عوامی پارٹی (NAP)جس کی قیادت ولی خان کرتے تھے، اس میں پختون قوم پرست اور زیرزمین کیمونسٹ لوگ شامل تھے۔ نیپ کے ایک اہم سیاسی کارکن جمعہ خان صوفی جو نیپ میں سرفہرست قرار دیئے جاتے تھے، متعدد فیصلوں میں شامل اور گواہ رہے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک سیاسی سوانح عمری لکھی ہے جس نے اس دَور کی سیاست کے لاتعداد نقاب تاریخ کے مسخ شدہ چہرے سے نوچ دیئے ہیں۔ ’’فریبِ ناتمام‘‘ نامی کتاب میں جمعہ خان صوفی نے شیرپاؤ کے قتل کے حوالے سے قاتلوں، قتل کی سازش اور واقعات سے جو پردہ چاک کیا ہے، اُس نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بار پھر تاریخ کے ہاتھوں بے گناہ ثابت کردیا ہے۔ جمعہ خاں صوفی اپنی کتاب ’’فریبِ ناتمام‘‘ کے صفحہ 128-130میں رقم طراز ہیں:
’’8فروری 1975ء کی شام کو دنیا بھر کے ریڈیو سٹیشنز سے یہ خبر نشر ہوئی کہ پشاور یونیورسٹی کے ہسٹری ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں بم دھماکہ ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر اور صوبہ سرحد کے سینئر وزیر اور وزیر داخلہ حیات محمد خان شیر پاؤ جاں بحق ہو گئے۔ یہ ایک اہم واقعہ تھا اور جب یہ خبر نشر ہوئی تو صدر سردار داؤد نے فوری طور پر اجمل خٹک سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ یہ کام آپ لوگوں نے کیا ہے؟ اجمل خٹک نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بالکل مکر گئے۔ مگر یہ ایک بڑا اور اہم واقعہ تھا اور شیر پاؤ کی موت کا یہ سانحہ نیپ جیسی سیکولر اور ترقی پسند پارٹی، افغانستان اور پاکستان کے باہم تعلقات اورپشتون و بلوچ اتحاد پر انتہائی اثر انداز ہوا۔

اجمل خٹک کے انکار اور مکرنے کے باوجود اس واقعے کے دوسرے ہی دن اس تخریبی کارروائی کے دونوں کردار (جنہیں میں غمازان کہتا تھا) بُلا خان (حبیب اللہ خان) اور اس کے بھائی معزاللہ خان کے ساتھ افغانستان چلے آئے۔ اس سارے واقعے اور سانحے کی روداد یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے مطابق انور اور امجد نے ایک ٹیپ ریکارڈ میں بم نصب کیا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ سات فروری کو ٹیکنیکل کالج پشاور میں طلبا کی ایک تقریب جس میں حیات محمد خان شیر پاؤ شرکت کر رہے تھے، بم دھماکہ کرنا تھا۔ لیکن اس دن ہوا یہ کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر افراسیاب خٹک بھی سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے، چنانچہ منصوبے پر عمل نہ ہو سکا۔ اس تقریب کے دوسرے دن شیر پاؤ ہسٹری ڈیپارٹمنٹ کی نومنتخب سٹوڈنٹس یونین کی تقریب حلف برداری میں مدعو تھے۔ انور اور امجد نے اپنا ٹیپ ریکارڈر روسٹرم پر مائیک کے ساتھ بظاہر اس غرض سے رکھا تھا کہ شیرپاؤ کی تقریر ریکارڈ ہو۔ جب شیر پاؤ تقریر اور سوالات و جوابات کے لیے روسٹرم پر آئے تو ایک زور دار دھماکہ ہوا، حیات محمد خان شیرپاؤدھماکے کی نذر ہو گئے اور کئی دیگر افراد شدید زخمی ہوئے اور مرے بھی۔ اس دن بارش ہو رہی تھی، امجد اور انور چارسدہ روانہ ہوگئے۔ راستوں پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات تھی اور لوگوں کی تلاشی ہو رہی تھی، جب یہ دونوں چارسدہ سے کچھ فاصلے پر چارسدہ جانے والی سڑک پر آئے تو پولیس شک کی بنیاد پر انہیں گرفتار کرکے تھانے لے گئی۔ پولیس اور بھی چند لوگوں کو گرفتار کرکے لائی تھی۔ وہاں تھانے میں انہیں علم ہوا کہ شیرپاؤ مر چکا ہے۔ ان لوگوں نے وہاں بلاخان کے ایک نوکر کو دیکھا اور اسے اشارے سے اپنے قریب بلا لیا اور ان سے بلا خان کو خبر دینے کو کہا۔ بلا خان ایک نڈر اور ہوشیار آدمی تھے، وہ آئے، پولیس کو ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ تم لوگوں نے میرے معزز مہمانوں کو کیوں گرفتارکیا ہے؟ یوں انور اور امجد رِہا ہو گئے اور بلا خان نے انہیں اپنے اور اپنے بھائی معزاللہ خان کے ہمراہ براستہ مہمند ایجنسی افغان روانہ کیا۔ انور اور امجد نے شروع کے چند دن شمالی افغانستان میں قندوز وغیرہ کے علاقوں میں چھپتے چھپاتے، خاموشی کے ساتھ گزارے۔ لیکن  افغانستان ایک پسماندہ اورتنگ وترش ملک تھا، فقط کابل ایسا شہر تھا جو زندگی گزارنے کے قابل تھا، اس لیے افغانستان کے کسی دیگر علاقے میں پشاور سے آنے والے مشکل ہی سے دن گزار سکتے تھے۔ اس لیے یہ دونوں چند دن کے بعد کابل چلے آئے اور ہمارے پاس آگئے۔ ان کے آنے سے تو گویا بات بالکل واضح ہوگئی۔ دوسری طرف پاکستان میں پولیس کو رستے میں پڑی ہوئی دوشیروانیاں مل گئیں اور ان شیروانیوں کی توسط سے اس درزی کے پاس پہنچ گئی جس نے ان کی سلائی کی تھی اورتفتیش درزی سے ہوتے ہوئے ان کے مالکوں کی پہچان تک پہنچ گئی۔ یعنی انور باچا اور امجد باچا کے نام منظر عام پر آگئے۔ اس قتل کا الزام بیگم نسیم ولی خان، اسفند یار ولی خان اور نثار محمد خان آف گل آباد پر لگا۔ نثار محمد خان خود پیپلزپارٹی میں شامل تھے اورشاید سیاسی اور خاندانی رقابت کی وجہ سے حیات محمد خان سے شاکی تھے۔ نثار محمد خان اور اسفند یار گرفتار کیے گئے اور سختی کے نتیجے میں اعتراف بھی کر گئے۔ نسیم بی بی کا نام بلاوجہ نہ تھا۔ کمانڈر ہدایت اللہ کے کہنے کے مطابق 1973ء میں ولی خان نے انہیں تاکید کی کہ پختون زلمے کی کارروائیوں سے دو افراد کوکسی طرح کوئی خبر نہ ہو، یعنی ایک اسفند یار اور دوسرے افراسیاب خٹک۔

یہاں میں اپنی ڈائری، مرقومہ پانچ جنوری 1975ء سے ہوبہو نقل کررہا ہوں۔ ’’فیض محمد خان (شیوہ، صوابی) پانچ دن پہلے آئے تھے۔ آج واپس رخصت ہو گئے۔ ان کو خاص کام حوالے کیا گیا ہے۔ فیض محمد خان کے مطابق اس نے سب سے پہلے تخریب کاری شروع کی تھی، کہیں بجلی اور ٹیلیفون کے تار کاٹتا، پی ٹی سی (پاکستان ٹوبیکوکمپنی) کے دفاتر و گوداموں میں آگ لگاتا، بم دھماکے کرتا اور اپنے پیسے سے درّہ (درّہ آدم خیل) سے گرنیڈ خرید کر لاتا۔ سب سے پہلے یعنی 24اگست 1973ء کو میری گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے۔ لیکن افسوس کہ بعد میں کسی نے بھی میری خیرخبر نہ لی۔ یہ سب کام میں ولی خان کے مشورے اور حکم سے کر رہا تھا، جب کہ نیپ کی مقامی یعنی ضلعی قیادت نے ہمیشہ میری راہ میں روڑے اٹکائے۔ شیرپاؤ اور عبدالقیوم خان کی ہلاکت کے منصوبے میں نے ولی خان کے کہنے سے بنائے تھے۔ میں نے بعض مفرورلوگوں کو جو اجرتی قاتل تھے، سے رابطہ کرکے بلا لیا تھا، کیوں کہ پختون زلمے نے اس سلسلے میں انکار کر دیا تھا کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ اصلاً یہ ڈرے ہوئے تھے، دوسری طرف پارٹی (نیپ) کے بعض رہنماؤں نے بھی میرے کاموں میں رکاوٹیں ڈالیں۔ بقول فیض محمد وہ ہر کام کے لیے تیار ہے اور بڑے جوش سے کہا کہ اللہ کرے کہ اسے اپنے کیے پر کوئی ندامت اور ملامت نہ ہو۔ میرے لیے پچھتاوے سے بہتر ہے کہ مر جاؤں۔ پانچ پانچ افراد پر مشتمل تین نئے گروپ بنا کر ان کے حوالے کر دیئے گئے تاکہ یہ خود ان کی تنظیم کر سکے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پختون زلمے کے کام میں تبدیلی لائی جائے، نئے اقدامات کریں یعنی ان تمام لوگوں کو موت کی نیند سلائیں جو ہمارے مخالف ہیں۔

اس سے پہلے حیات محمد خان شیر پاؤ پر ’’ڈبنگے‘‘ نامی بدمعاش کے گروپ کے ذریعے ایک سے زائد مرتبہ حملے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ ایک مرتبہ سوات میں حیات محمد خان کا جلسہ شجاعت علی خان اور فتح محمد خان، یعنی خوانین آف جورے کے ہاں ہو رہا تھا۔ شیر شاہ کو اس کے کمانڈر نے بم سے بھرا بریف کیس دیا تھا جو انہوں نے سٹیج کے ساتھ رکھ دیا تھا۔ تاہم بم سے ملحق فیوز کے تار الگ ہونے کی وجہ سے پھٹ نہ سکا۔ شجاعت علی خان کے ایک نوکر کی اس بریف کیس پر نظر پڑ گئی اور وہ اسے اپنے گھر لے گیا کہ اس میں رقم ہو گی۔ لیکن کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس میں توبم نصب ہے۔اس نوکر نے اس کی اطلاع شجاعت علی خان کو دی جس کے حکم سے بریف کیس کہیں پھینک دیا گیا اورضائع کیا گیا۔

شیر پاؤ کی شہادت کے فوری بعد نیپ پر پابندی لگا دی گئی اور اس پابندی کو سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا۔ نیپ کے لیڈر جیلوں میں ڈال دیئے گئے۔ ان پرحیدر آباد ٹربیونل میں غداری کا مقدمہ بنایا گیا۔ تمام منصوبہ بندی گویا شکست وریخت کا شکار ہوئی۔ گھٹن بڑھ گئی، استبداد کی زیادتی کے ساتھ ساتھ ہمارے جوانوں کی کارروائیاں ماند پڑنے لگیں، جبکہ اس کے برعکس افغانستان میں پاکستان کے تربیت یافتہ اخوان اور تخریبی عناصر کی کارروائیاں زورپکڑنے لگیں۔ نتیجتاً افغانستان سخت داخلی اور خارجی دباؤ میں آگیا۔‘‘