مسلمان پسماندہ کیوں ہیں

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے کیسے نجات حاصل کی جائے، سب ہی جانتے ہیں کہ اصل سائنس اور ٹیکنالوجی نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی نقل کی جا سکتی ہے۔ اگر نقل کر بھی لی جائے تو زیادہ مؤثر نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی صرف اوزاروں، ہتھیاروں، اسپیئر پارٹس، مشینوں اور تجربہ گاہوں کا نام نہیں بلکہ اس کی بنیاد ذہنی افق کی کشادگی اور علوم پر قدرت ہوتی ہے۔ اس کیلئے بنیادی شرط ذہنی غلامی سے آزادی اور حصول علم کیلئے نفس کشی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں مسلمان یہ قوّت حاصل نہیں کر سکتے؟

ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کیا تیر مارا ہے؟ ہندوستان میں بھی مغل بادشاہوں نے صرف عمارات کی تعمیر پر وسائل برباد کئے۔ کیا کسی ایک اسکول، یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ یا ادارے کی بنیاد ڈالی گئی؟ کیا کوئی معمولی سی ایجاد بھی ان کے حصّے میں آئی؟ وہ تو محض محل، مساجد، حرم، قلعے اور مقبرے ہی تعمیر کرواتے رہے۔ ان کا ترقی سے عشق تو بس اینٹ، پتھروں کی حد تک ہی محدود رہا۔ یہ بات طے ہے کہ ہم پچھڑ چکے ہیں اور جدید دور نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جو ایک بار پچھڑا وہ بعد میں چاہے کتنی ہی محنت کر لے، پیچھے ہی رہے گا۔ آج مغرب نے علم ہی کی وجہ سے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی، اسرار کائنات کو سمجھا، مسلسل محنت، تحقیق اور تجربات کی روشنی میں وہ قوّت حاصل کی جو زندہ قوم کی علامت ہوتی ہے۔

یہ حقیقت ہم مسلمانوں پر واضح کیوں نہیں ہوتی کہ عملاً پوری دنیا پر عیسائیوں اور یہودیوں کا قبضہ ہے اور دنیا کے تمام سرچ انجن ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات، انٹرنیٹ، سافٹ ویئر، جتنے ذرائع ابلاغ ہیں، عالمی سطح پر سب کے سب یہودیوں کی دسترس میں ہیں۔ اس وقت دنیا کے میڈیا پر صد فیصد یہودیوں کا قبضہ ہے۔ یہ جو فیصلہ کرتے ہیں اسے ہی دنیا کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ کس قسم کے میڈیا پر کونسی خبریں یا مناظر دکھانے ہیں اور کس پر پابندی عائد کرنی ہے۔  اگر ہم بحیثیت مسلمان اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم علم کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی ’’ترقی‘‘ پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ کتنے فیصد لوگ جدید عصری تعلیم سے آراستہ ہیں اور کتنے لوگ ان پڑھ ہیں؟ جب تک مسلمان تعلیم کو اپنا مقصد جاں اور مقصد حیات نہیں بنائیں گے اس وقت تک وہ اپنے سے کسی برتر قوم کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ تعلیم بہ ذات خود ہتھیار نہیں ہے، حصول ہتھیار کا ذریعہ ہے۔

جدید اور عصری تعلیم مسلمانوں کو باشعور اور نیا ذہن دے گی، علم کی روشنی پھیلے گی تو معاشی حالات سدھریں گے، انداز فکر میں تبدیلی آئے گی، جینے کا ڈھنگ بدلے گا اور وہ بھی طاقت کے اعداد سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت چوں کہ اسلامی ممالک میں چند ایک کو چھوڑ کر ہر جگہ غربت و افلاس ہے، معاشی وسائل محدود ہیں، وہ بیرونی قرضوں میں پھنسے ہوئے ہیں بلکہ جکڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ مغربی ممالک اور امریکہ کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ اس پر یہ پچھڑی ہوئی قوم قدامت پرستی کے سبب فرسودہ رسم و رواج کو اپنائے ہوئےہے۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ تعلیم بہ ذات خود ہتھیار نہیں ہے بلکہ ذریعہ ہے۔ کیا ہم اس ذریعہ کو استعمال کرنے کے قابل ہیں؟ یقیناً نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے مقدر میں سوائے شکست کے کچھ اور نہ لکھا ہو گا۔ اینٹ کا جواب ہم جس انداز سے دیتے ہیں اس کو میں صرف ’’خودکشی‘‘ کہہ سکتا ہوں اور کہتے ہیں کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے۔

کون کہتا ہے رستہ مشکل ہے
دیکھئے میں بھی تو گزر آیا