تباہی کی طرف بڑھتی دنیا
عالمی سطح پر وبا کی طرح پھیلے ہوئے مسلح تنازعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، مستقبل میں امریکہ، یورپ ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ و ایشیا میں ایک لامتناہی سول بد امنی و شورش پیدا ہونے کے ٹھوس امکان کوجود ہیں۔ بنصیبی سے انہیں اسلحہ ساز صنعتوں کے لیے کھربوں ڈالر کے کاروبار اور منافع کے سنہرے مواقع قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہ بات اُس خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں کہی گئی ہے جو ’ گلوبل بزنس انٹیلیجنس فرم‘ نے شائع کی ہے ۔
رپورٹ میں ثابت کیا گیا ہے کہ اگلے پانچ سال میں ’ فسادات پر کنٹرول کے لیے سسٹم ‘ کی عالمی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گا اور اس کی قیمت پانچ بلین ڈالر تک جا پہنچے گی، جس میں ہر سال پانچ فیصد اضافہ ہوتا رہے گا اور اسلحہ ساز صنعتیں اربوں، کھربوں ڈالر کمائیں گی ۔ رپورٹ میں پشین گوئی کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں بد امنی و فسادات ڈرامائی انداز میں بڑھیں گے۔ یہ شمالی امریکہ اور یورپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ انتہا پسند حملوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک، شمالی افریقہ، ایشیا اور بحرالکاہل کے خطّے میں بھی تنازعات میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج، دنگے فسادات اور باہمی تصادم، وہ بڑے معاملات ہیں جن کا دنیا بھر کے ہر ملک کو سامنا ہوگا۔ اس کے علاوہ شام، عراق، لبنان ، مصر ، لیبیا اور مراکش میں مسلح تصادم اور خانہ جنگی کے جو بیج بوئے گئے ہیں ان کی وجہ سے بھی عالمی دفاعی بجٹ میں اضافہ نا گزیر ہے۔ اپنے مفادات کے حصول و تحفظ کے لئے تنازعات والے علاقوں اور ملکوں میں ایسی فضا پیدا کی ہوچکی ہے کہ ’ کنٹرول سسٹم ‘ کی مانگ میں ابھی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگلے پانچ سال کے اندر جرمنی، روس، فرانس، پولینڈ ، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، ایران اور جنوب افریقی ممالک ’ بد امنی کے خلاف کنٹرول سسٹم ‘ کے سب سے بڑے خریدار ہوں گے۔ امریکہ میں اِس کنٹرول سسٹم کی لاگت 2020 تک دو بلین ڈالر سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔
Global Riot Control System Market, 2016–2020 نامی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایشیا پیسیفک ریجن میں بد امنی کے خلاف سسٹم کی خریداری قدرے کم رہے گی اور یہ ایک بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے ۔ بھارت، چین، تھائی لینڈ، ویت نام اور جنوبی کوریا میں ’’ شہری بد امنی اور سیاسی تشدد ‘‘ میں چھ فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ان ملکوں میں بد امنی کے خلاف کنٹرول سسٹم پر بھاری رقوم خرچ کی جائیں گے ۔
مختلف ملکوں میں مقبول عام تحریکوں احتجاجی مظاہروں کو بھی ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی حکومتوں کے خلاف عوامی احتجاج و مظاہرے بھی اثر رکھتے ہیں ۔ ان سب پر کنٹرول کے لیے جس سسٹم کی ضرورت ہے، اس کی فراہمی کے لیے عالمی اسلحہ ساز صنعتیں مکمل تیاری کر چکی ہیں ۔ رپورٹ میں جس بات پر بطور خاص زور دیتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے وہ مسلح بغاوتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسی بغاوت یا شورش کا تعلق عام طور سے مارکسزم اور اسلام سے جوڑا گیا ہے ۔ مختلف یورپی ملکوں اور امریکہ کی جانب سے عسکری قوت کو بڑھانے کے ساتھ مشترکہ فوج کی تیاری بھی، امن کی خواہش رکھنے اور انسانیت کے پنپنے کے لیے جدو جہد کرنے والوں کو مشتعل کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دیکھا گیا ہے کہ اپنے اپنے ہاں بدامنی کے معاملات میں کئی مغربی حکومتی براہ راست ملوث رہی ہیں ۔
پچھلے ماہ جرمنی کے معتبر جریدے Deutsche Wirtschafts Nachrichten نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یورپی یونین کی پولیس اور فوجی یونٹوں نے جرمنی میں ایسی خفیہ فوجی مشقیں کی تھیں جیسے کہ جرمنی میں ’’ خانہ جنگی ‘‘ ہو رہی ہو اور اس پر قابو پانے کا فرض پولیس اور فوجی یونٹوں کو سونپا گیا ہے ۔ جرمن پارلیمنٹ کے رکنAdnrej Humko نے ان فوجی مشقوں میں بطور مبصر شامل ہونے کے لیے رسائی چاہی تھی لیکن اُن کو انکار کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کی مشترکہ ’’ پولیس و فوجی ‘‘ تربیتی مشقیں اس امر کا اشارہ ہیں کہ یورپ کسی نادیدہ خطرے کو شدت سے محسوس کر رہا ہے۔ یورپ کے اعلیٰ حکام کے درمیان بھی یہ نظریہ پھیلتا اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ’’بد امنی کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔‘‘ دسمبر 2015 میں سوٹزر لینڈ کی مسلح افواج کے سربراہ نے ملک کے معتبر اخبار Schweiz am Sonntag کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ جنوری میں سویڈن کے میجر جنرل Anders Brännström نے مسلح افواج کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک کانفرنس میں اپنا ایک تحریری تجزیہ پیش کیا تھا جس میں انہوں نے عالمی بد امنی و جنگی صورت حال کو اجاگر کرتے ہوئےیہ پشین گوئی کی تھی کہ ’’ ایک عالمی جنگ کا آغاز بس چند برسوں کی بات ہے۔‘‘ برطانوی مسلح افواج کے وزیرPenny Mordant نے امسال اپریل میں اسی طرح کا بیان دہتے ہوئے کہا تھا کہ اقتصادی دباؤ اور مہاجرین کے شدید بحران نے یورپ بھر میں شہری بد امنی کے امکانات کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔
یورپی یونین کی جنرل کونسل کے چیئرمینJean Asselborn نے بھی خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مہاجرین اور تارکین وطن کا بحران یورپی یونین کے حصے بخرے کردینے سے کچھ زیادہ دور نہیں اور یہ ’’ صرف کچھ مہینوں کی بات ہے۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’ جھوٹی قوم پرستی ایک حقیقی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘