غربت و افلاس کے بڑھتے ہوئے سائے

میں کیا کروں، میں کہاں جاؤں ، وہ بڑبڑا رہا تھا اس کی آنکھوں میں بے بسی، شرمندگی اور بے چارگی کے آنسوؤں کی نمی نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ اور وہ ان کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کی بند مٹھی میں ایک کاغذ نظر آرہا تھا جو غیر شعوری طور پر دباؤ کی وجہ سے چڑ مڑ ہو چکا تھا۔ میرے سامنے بیٹھے اس کا جسم جذبات کے باعث ہولے ہولے کانپ بھی رہا تھا میں دم بخود اس کی کیفیت کو دیکھتے جا رہا تھا۔

وہ میرا ایک دوست تھا سفید پوش لیکن آج کی سی حالت پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ میں نے حوصلہ کرکے اس کی بند مٹھی کو کھول کر وہ کاغذ کا ٹکڑا اس سے لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ کاغذ غیر معمولی طور پر سخت مٹھی میں دبا ہوا تھا۔ تاہم میں دوسری بار کوشش میں وہ کاغذ اس کی مٹھی سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بجلی کا بل تھا جس کی تاریخ ادائیگی گزر چکی تھی اور اب سرچارج کے ساتھ ہی ادا کیا جا سکتا تھا۔ بل کو دیکھنے کے بعد میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ نیچے زمین کی طرف نظریں جھکائے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اور چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔ اس کی عمر پینتالیس برس تک کی ہو گی لیکن زمانے کی سختیوں، مصائب اور مہنگائی کے سبب اس کے چہرے کے خدوخال اس قدربگڑ چکے تھے کہ وہ اپنی عمر سے بہت بڑا دکھائی دیتا تھا۔

میری نظروں کی تپش اس نے محسوس کی اور پہلی بار نظریں اٹھائیں اور میری طرف دیکھا اور ہماری نظریں ملتے ہی اس کی آنکھوں سے دو آنسو نکلے اور کہیں گم ہو گئے۔ مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ آج وہ میرے سامنے کس حالت میں ہے۔ مجھ سے بھی کچھ نہ کہا جا رہا تھا اور نہ ہی اس سے بولا جا رہا تھا لیکن ہم دونوں ہی جان چکے تھے کہ افسانہ زندگی کیا ہے۔ میں کئی سالوں سے اس کا واقف تھا لیکن اس نے کبھی ایسا محسوس نہ ہونے دیا تھا۔ وہ بہت کم گو تھا۔ لہذا ہاتھ پھیلانے کی بات تو بہت دور کی رہی اس نے کبھی ذکر بھی نہیں کیا تھا کہ اس کی زندگی کن مسائل سے دوچار ہے ۔ وقت کی ستم ظریفی کہ آج زباں خاموش تھی لیکن آنکھیں سب کچھ بتا گئیں اور کئی سال کا چھپا بھرم ختم ہو کر رہ گیا ۔ ایک سفید کاغذ نے اس کی سفیدی پوشی اور خوداری کا خون کردیا تھا۔ میرے لئے اس کی یہ کیفیت دیکھنا بہت مشکل  تھا لہذا جس خاموشی سے وہ آیا تھا، اس سے زیادہ خاموشی کے ساتھ میں نے اس کی ضرورت پوری کر کے گلے لگا کر رخصت کردیا۔

میں گہری سوچ میں تھا کیونکہ یہ محض میرے ہی دوست کی بات نہیں تھی بلکہ حقیقت میں ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں ایک سفید پوش اور غریب رہتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے حکومتوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور ان کی ان پالیسیوں کو کسی بھی باشعور طبقے کی طرف سے حمایت نہیں مل رہی۔ ایک عام آدمی کا زندگی کا معیار ابتر سے ابتر ہو رہا ہے دوسری طرف ان کے عوامی نمائیندوں کی لوٹ مارکی داستانیں عالمی سطح پر افسانوی رنگ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کے گھر نیب کی کارروائی ہے۔ اس کی ہو شربا اور ناقابل یقین تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے کرنسی نوٹوں سے بھرے دس سے بارہ تھیلے برآمد کئے گئے، جن میں ملکی کرنسی کے علاوہ زیورات اور غیر ملکی کرنسی بھی موجود تھی۔ اس منظر سے تو گماں یہی ہوتا ہے کہ موصوف نے اپنے گھر کو منی سٹیٹ بنک بنا رکھا تھا۔  کیش اس قدر تھا کہ اس کی گنتی کے لئے وہاں سے تین مشینیں بھی نکلیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ  باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ہی کوئی ناجائز اور غیر قانونی کام ہو رہا تھا، جسے ادارے کے سربراہ کی سرپرستی حاصل تھی۔

پاکستان میں لوٹ مار کرپشن کی شرمناک داستانوں کی بازگشت اب دنیا کے ایوانوں میں بھی گونجنے لگیں ہیں جس کی ایک مثال امریکہ کی ہے جہاں پاکستان کو جنگی طیاروں کی خریداری پر اس لئے پابندی لگ گئی کہ موجودہ حکمرانوں پر بیرون حکومتوں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک امریکی سنیٹر نے تویہاں تک کہہ دیا کہ ہم امریکی عوام کے پیسے کرپٹ حکومت کو نہیں دے سکتے۔ پانامہ لیکس کے مالیاتی سکینڈلز نے سب کے کپڑے اتار دیئے ہیں۔ وہ اس قدر ننگے ہو گئے ہیں کہ لاکھ کوشش اور حربوں کے باوجود ان کی قابل نفرت عریانی چھپ نہیں رہی ہے ۔ چئیرمین نیب نے ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ اس وقت ملک میں روزانہ 15ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے جبکہ پی پی پی کے گزشتہ دور میں روزانہ آٹھ ارب روپے کی کرپشن ہوا کرتی تھی۔ عوام کو غربت و افلاس کے تندور میں جھونک کر عوامی نمائیندوں کی اولادیں زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہورہی ہیں۔ اداروں کی کرپشن اور مالیاتی غبن اور لوٹ کھسوٹ آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر چار سو باسٹھ ارب روپے کے غبن کا الزام لگایا گیا ہے۔ ملک کے دانشور انور مقصود نے صحیح کہا ہے کہ یہ جو سارے سیاستدان کہتے ہیں ہم ملک بچانے کے لئے متحد ہیں، یہ اصل میں جو کچھ بچ گیا ہے اس کو بھی لوٹنے کے لئے متحد ہیں ۔

پاکستان کی نام نہاد مالی ترقی صرف نے نئے سرچارجز اور دیگر محاصل کی شکل میں عوام سے وصولیوں کی مرہون منت ہے۔ اس وقت بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے اداروں نے حقیقی معونوں میں عوام کی زندگیوں میں زہر گھول رکھا ہے۔ ایک تو ان بلوں کی آدائیگی آخری دنوں کی ان تاریخوں میں کرنا پڑتی ہے جب کہ ایک عام شہری کا گھریلو بجٹ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ سفید پوش اور ایک سرکاری ملازم کے لئے تو ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بل مقررہ تاریخ تک ادا کرے۔ عدم آدائیگی کی صورت میں لیٹ فیس کی مد میں ہر ماہ کروڑوں  وصول کر لئے جاتے ہیں۔ اس لئے ایک تو تمام یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کو ہر ماہ کی شروع کی تاریخوں میں ہونی ضروری ہے۔ حکومت کو غیر ضروری سر چاجز بھی فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔

پاکستان میں ایک عام آدمی پر اس سے برا وقت نہیں آیا تھا ایک رپورٹ کے مطابق ہر ماہ 150 کے قریب ماہانہ خودکشیاں ہو رہی ہیں، جن کی ایک بنیادی وجہ غربت بیروزگاری اور افلاس ہے۔ اپنے بچے فروخت کرنے کی خبریں بھی اکثر اخبارات  میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔  غربت و بھوک کی وجہ سے اپنے جگرکے ٹکروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے زہر دے کر مارنے کے دلخراش سانحے بھی رونما ہو چکے ہیں۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ تمام بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے جلسوں پر کروڑوں روپے صرف کر دیتی ہیں۔ کوئی کسی غریب کی مدد نہیں کرتا۔ کسی بھوکے کے منہ میں نوالہ نہیں ڈالتا ۔

پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ کی پنجاب میں پندرہ سال سے حکمران ہیں لیکن سوائے پل، سڑکیں اور عمارتیں بنانے کے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے ایک شہری کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔ اس کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔ کوئی ایک ایسی سرکاری مربوط پالیسی نظر نہیں آتی جس کو دیکھ کر کہا جا سکے کہ مستقبل میں عام آدمی کو کوئی ریلیف مل سکے گا۔