عبدل سوال تو پوچھے گا !

  • تحریر
  • جمعرات 12 / مئ / 2016
  • 4895

“ صاحب اگر برا نہ منائیں تو آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں “ ۔ میاں مرغوب نے گالف کی گیند پر نظر یں جمائے بے دھیانی سے جواب دیا۔۔۔“ ہاں پوچھو “ ۔ گالف کارٹ کھنچتے ہوئے کیڈی عبدل نے ججھکتے ہوئے ان سے پوچھا  “ صاحب آپ نے کبھی ایک کروڑ اکٹھا دیکھا ہے؟ کتنا ہوتا ہے یہ؟  ۔ یہ انوکھا سوال سن کر میاں مرغوب ایک لمحے کے لیے گڑ بڑا سے گئے۔ انھیں سمجھ نہ آئی کہ اس معصوم سوال کے لیے عبدل پر ہنسیں یا اسے واقعی بتائیں کہ ایک کروڑ کیا ، انہوں نے سینکڑوں کروڑ دیکھ رکھے ہیں۔ پھر انہیں اچانک خیال آیا کہ ان کے خدمتگار کی ماہانہ آمدن بمشکل بارہ ہزار روپے ہے۔ یہ خیال آتے ہی انہوں نے ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔“ ہاں دیکھا ہے، کوئی خاص زیادہ نہیں ہوتا لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟  ۔ عبدل کی اس جواب سے تسلی نہ ہوئی۔ اس نے اپنی بے اعتباری چھپاتے ہوئے ایک اور سوال پوچھا۔۔۔“ سر سنا ہے، آپ کی Audi کار میں گھر سے یہاں گالف کورس تک دو ہزار روپے کا پٹرول لگ جاتا ہے! “   میاں مرغوب نے ذہن پر زور دیا تو انہیں یاد نہ آیا کہ ان کی گاڑی کا ٹینک بھروانے پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں، چہ جائیکہ یہ معلوم ہو کہ ان کے گھر سے گالف کورس تک کتنے کا پٹرول لگ جاتا ہے۔ انہوں نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔۔۔“ وہ رہی بال، بڑی مشکل جگہ جا گری ہے۔ چلو جلدی قدم اٹھاؤ۔ اس رفتار سے تو گیم دو گھنٹے میں بھی مکمل نہیں ہو گی “۔

اتوار کی صبح گالف کی گیم ختم کرنے کے بعد گالف کیفے میں بیٹھے دوستوں سے خوش گپیاں کرتے ہوئے میاں مرغوب نے اپنے دوستوں کو تازہ ترین لطیفہ سنایا۔۔۔“ یا رکمال ہے، بھلا ایک کیڈی کو کیا فکر ہے کہ ایک کروڑ دیکھنے میں کتنا ہوتا ہے۔ وہ تو ایک کروڑ بار بھی زور لگا لے تو ایک کروڑ روپے نہیں بنا سکتا۔ دیکھ بھی لے گا تو کیا کرے گا۔ دیکھنے اور ایک کروڑ اپنے پاس ہونے میں بڑا فرق ہے “۔ دوستوں نے کیڈی کی معصومیت پر قہقہہ لگایا ور آج کی اپنی اپنی شاٹس پر گفتگو میں مصروف ہو گئے۔

ہمارے ایک قریبی دوست کی بیٹی کی شادی حال ہی میں ہوئی۔ تفصیلات سنیں تو چٹکی کاٹ کر اپنے آپ کو یقین دلایا کہ یہ بھی پاکستان ہے! شادی کے انتظامات کی چوائسز کچھ اس طرح تھیں۔ کھانے کا جنرل ریٹ سترہ سو روپے فی کس سے لے کر دو ہزار روپے تک کا تھا۔ ہال کا کرایہ الگ۔ پھولوں کی آرائش اپنے اپنے ذوق کے مطا بق۔ بہت عامیانہ درکار ہو تو چالیس پچاس ہزار روپے۔ اگر کچھ الگ اور منفرد کرنے کا شوق ہو تو دو سے چار لاکھ تک کا خرچہ ہے۔ بارات سمیت مہندی وغیرہ کے فنکشنز میں فوٹوگرافی کے ریٹس بھی اپنے اپنے ذوق اور خواہش کے مطابق تھے۔ ڈرون کے استعمال سمیت آوٹ ڈور فوٹوگرافی ملا کر ایک فنکشن کے لیے تین سے چار لاکھ روپے تک کا ریٹ ہے۔ شادی کے فنکشنز کی تعداد بھی اپنے اپنے “ رواج “ کے مطابق ہے۔ کم از کم تین ورنہ پانچ چھہ فنکشنز تو معمول ہیں۔ سونے کے زیورات اب آؤٹ آف فیشن ہو چکے۔آج کل تو ڈائیمنڈز کا رواج ہے۔ ہائی فائی ڈانسرز یا گلوکاروں کا گروپ انڈیا سے منگوانا ہو تو کم از کم تیس چالیس لاکھ الگ۔ یوں مل ملا کر ایک امیر گھرانے کی شادی میں ایک آدھ کروڑ تو خواہ مخواہ لگ جاتے ہیں ، ذرا کھل کھلا کر شوق پورا کریں تو دو تین کروڑ تو کہیں نہیں گئے۔ “ ڈرنکس “ کا بندو بست اگر کرنا ہو تو اس کا حساب الگ۔

اس ایک پاکستان میں بیک وقت نہ جانے کتنے پاکستان بس رہے ہیں۔ ایک ہی ملک کے شہری ہونے کے باوجود اسی ملک میں جہاں کھاتے پیتے اشرافیہ کے خاندان میں بیٹے بیٹی کی شادی پر ایک دو کروڑ روپے کے اخراجات معمول کی بات ہے، وہاں روزانہ کئی لوگ غربت کے آگے بے بس ہو کر زندگی ہار دیتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک ماں نے اپنی تین بیٹیوں کو پانی کی ٹینکی میں ڈبو کر خودکشی کر لی۔ خدا جانے اسے خوش قسمتی کہیں یا بد قسمتی، اُسے بچا لیا گیا۔ اُس کی خاوند سے علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ خرچہ دینے سے انکاری تھا۔ اس بے چاری سے معصوم بیٹیوں کی روز روز کی بھوک دیکھی نہ گئی۔ جس روز یہ خبر چھپی، اسی طرح کی دو مزید خبریں بھی چھپیں۔ اخبار اور میڈیا کی خبریں نیوز سائیکل کی غلام ہوتی ہیں۔ اگلے لمحے یا اگلے روز اس سے زیادہ پُر زور خبر آ گئی تو گذشتہ روز کی خبر رات گئی بات گئی کے مصداق مر کھپ جاتی ہے۔ اس المیے کو کون دیکھتا ہے جس کا بیان صاحب طرز مجید امجد نے کچھ یوں کیا تھا:
میں روز اِدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب اِدھر سے نہیں گزروں گا کون دیکھے گا

ایک پاکستان میاں مرغوب کا ہے اور ایک پاکستان اُس بے بس ماں جیسوں کا ہے۔۔۔ عبدلوں کا ۔ میاں مرغوب جیسوں کا پاکستان ملک تو کیا ، بیرون ملک بھی کسی نہ کسی پانامہ کی صورت ان کے ساتھ رہتا ہے۔ دوبئی ہو یا برطانیہ، امریکہ ہو یا سپین، ان کا پاکستان ان کے ہم رکاب رہتا ہے۔ پانامہ لیکس میں دو سو افراد کا نام آیا تو سیاست دانوں سمیت میڈیا اور تجزیہ کاروں نے یوں ظاہر کیا جیسے ان کو پہلی بار معلوم ہوا کہ پاکستان کا سرمایہ  پاکستان سے باہر گیا ہے۔ میر تقی میر کی سادگی کے تو ہم قائل تھے لیکن یہاں سب میر تقی میربننے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب خیر سے پانامہ لیکس کی دوسری قسط کی تفصیلات جاری ہوئیں تو چار سو مزید پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں، جن کے آف شور اکاؤنٹس ہیں۔ جو سیاست میں نہیں، انہیں وضاحت کی ضرورت نہیں البتہ جنہیں سیاست میں ہونے کی مجبوری کی وجہ سے میڈیا کو جواب دینا پڑ رہا ہے، وہ اپنی بے گناہی اور معصومیت کے اظہار کے لیے کاغذ لہرا لہرا کر یقین دلا رہے ہیں۔۔۔ عزیز میاں یاد آئے۔۔۔ توبہ توبہ شراب سے توبہ۔۔۔ توبہ توبہ، شراب سے توبہ! یقین کریں تو کیا؟ اور کریں تو کیوں؟

ایک پاکستان اشرافیہ کی کارٹ کھینچنے پر مامور عبدل کا ہے جس کی کم از کم اجرت اس وقت تیرہ ہزار روپے ماہانہ ہے ۔ ہر سال اس میں ایک آدھ ہزار بڑھا کر حکومت پارلیمنٹ سے داد وصول کرتی ہے۔ دکھی دل کے ساتھ آنے پائی جوڑ کر بتاتی ہے کہ خزانے پر اس اضافے سے کس قدر بوجھ پڑ گیا ہے۔ جو خوش قسمت آرگنائزڈ سیکٹر میں ہوتے ہیں، انہیں کم از کم اجرت میں اضافہ طوہاٌ کرہاٌ مل جاتا ہے ورنہ غیر روایتی شعبوں میں کیسا اضافہ، کہاں کا اضافہ۔

یہ عبدل دو ہزار فی کس کھانے کی میزوں کے لیے چمچ پلیٹیں لگا نے کے بعد جاتے ہوئے سیکورٹی ناکے پر اپنا شناختی کارڈ دکھا کر گزرتے ہیں کہ وہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں، مہنگی آرائیشیں لگا نے پر مامور ہیں، آؤٹ ڈور فوٹوگرافی کے دوران دلہن کے دس لاکھ کے لہنگے کی شکنیں درست کر کے لائیٹیں پکڑنے کی مزدوری پر شکر ادا کرتے ہیں۔ کوئی تہوار آئے تو “ پاکستان پاکستان۔۔۔ ہم سب کا پاکستان “ گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتے ہیں، ہم زندہ قوم ہیں ، جھوم جھوم جاتے ہیں۔

میاں مرغوب کا پاکستان تو ترقی کر رہا ہے۔عبدل کا پاکستان البتہ وہیں کا وہیں پھنسا ہوا ہے ۔ 2002 کے بعد حکومت نے سالانہ غربت شماری کا باقاعدہ سلسلہ موقوف کر دیا تھا۔ گذشتہ مہینے حکومت نے غربت شماری کا نیا پیمانہ اور اعداد و شمار جاری کیے تو پتہ چلا کہ اس وقت ملک کی تیس فی صد أبادی عبدلوں کی ہے یعنی شدید غربت کے شکار لوگ۔ پانامہ لیکس میں اربوں کھربوں کا سن کر، مشتاق رئیسانی کے گھر سے 73 کروڑ کی برآمدگی کا سن کر، ا ڈاکٹر عاصم پر 462 ارب روپے کے خرد برد کی فردِ جرم کا سن کر، اگر عبدل پوچھ ہی بیٹھا کہ ایک کروڑ کتنا ہوتا ہے تو یہ سوال ہی لطیفہ ہو گیا۔

عبدل کی حالتِ زار پر پنجابی کے طرحدار شاعر افضل احسن رندھاوا یاد آئے:
میں دریاں دا ہانی ساں
ٹپنے پئے گئے کھال نی مائے
ہن تے کجھ وی نظر نئیں آؤندا
ہور اک دیوا بال نی مائے
اونے پھٹٌ میرے جثے تے
جِنے تیرے وال نی مائے