لندن کے مئیر خان اورمسلمان

ہفتہ کی دوپہر جب لندن کے مئیر الیکشن کا نتیجہ آنے لگا تو دھیرے دھیرے اس بات کی امید ہونے لگی کہ اب لندن کے نئے مئیر صادق خان ہی ہونگے۔ ویسے چند روز قبل ہی ایگزٹ پول نے صادق خان کی جیت کی پیشین گوئی کر دی تھی۔ پھر کیا تھا ایسا لگا کہ صادق خان لندن کے مئیر نہیں بلکہ برطانیہ کے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ صادق خان کی جیت سے جہاں لیبر پارٹی کو خوشی ہوئی تو اس سے کہیں زیادہ پاکستانی لوگ ان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔ ایسا فطری بھی ہے کہ صادق خان کے والدین کا تعلق پاکستان سے رہا ہے اور اس کے علاوہ صادق خان مسلمان بھی ہیں ۔بس اب آپ سمجھ جائیے کہ ہمارے لوگوں کو تو ایسا لگ رہا ہے کہ صادق خان مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل نکال دینگے ؟حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ صادق خان کسی مسلم پارٹی سے مئیر نہیں چنے گئے ہیں ۔ البتہ صادق خان نام سے اور لندن کے پہلے مسلم مئیر بننے پر اُن تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی بے حد خوشی اور ہمدردی ہورہی ہے۔

7؍ مئی کو برطانیہ کے تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب پاکستانی نژاد صادق خان نے زیک گولڈ اسمتھ کو ہرا کر تاریخی شہر لندن کے مئیر بن گئے۔اس کے علاوہ صادق خان کی جیت اس وقت ہوئی ہے جب لیبر پارٹی اور اس کے لیڈر جیریمی کوربین پر کئی طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ تاہم صادق خان نے اپنے الیکشن کے مہم کے دوران جان بوجھ کر خود کو جیریمی کوربین سے دوری رکھاجس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ایک تو صادق خان جیریمی کوربین کے لیڈر چنے جانے سے خوش نہیں ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ صادق خان کو یہ ڈر تھا کہ جیریمی کوربین اگر ان کی حمایت میں مہم چلائینگے تو زیادہ تر لوگ صادق خان کو ووٹ نہیں دینگے۔تاہم جیریمی کوربین نے صادق خان کو ٹوئیٹ کر کے مبارک باد دی ہے اور کہا کہ ’لندن کو سب کے لئے منصفانہ طور پر بنانے کے کام میں مزید انتظار نہیں کرسکتا ‘۔

زیک گولڈ اسمتھ جو کہ معروف کرکٹر اور سیاستدان عمران خان کے سابقہ سالے ہیں۔ عمران خان نے ان کی حمایت میں مہم بھی چلائی تھی۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ ایشیائی کمیونیٹی زیک گولڈ اسمتھ کو ووٹ دے گی۔ لیکن صادق خان کی جیت سے اس بات واضح ہوگئی کہ ایشیائی یا اقلیتی طبقہ کے لوگوں نے گولڈ اسمتھ کو اتنے ووٹ نہیں دئے ، جس کی انہیں امید تھی۔اس ذبردست مقابلہ میں زیک گولڈ اسمتھ اور وزیر اعظم دونوں صادق خان پر انتہا پسندوں سے تعلقات کا الزام لگاتے رہے تھے۔ لیکن وزیر اعظم کی ان باتوں سے ووٹروں پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ایسا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کو اب کنزرویٹو پارٹی میں اس بات پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

زیک گولڈ اسمتھ کی ہار کا الزام ان کی کمزور مہم کو دیا جا رہاہے۔سابق ایم پی اور مئیر کے امیدوار اسٹی ون نورس نے کہا کہ ’ جب ہر کوئی صاف طور پر سن سکتا ہے توپھر لوگوں کو ہوشیار کرنے کی کیا وجہ ہے‘۔ یہ بات انہوں نے زیک گولڈ اسمتھ کی ہار اور غلط پالیسی پر کہی۔ گریٹر لندن اسمبلی کے لیڈر انڈریو بوف نے کہا کہ ’ہماری حکمت عملی غلط تھی اور اس سے ہمارے رشتے مسلم کمیونیٹی سے خراب ہوسکتے ہیں۔‘کنزر ویٹوپارٹی کی سابق چیر وومین سیدہ وارثی نے کہا کہ’ ہماری پارٹی کی بے جا الزامات اور خواہ مخواہ انتہا پسندوں کی وارننگ کی بات سے ہمیں ایسی ہار سے دوچار ہونا پڑا اور جس سے ہماری پارٹی کے وقار اور عزت کو دھچکا پہنچا ہے‘۔ یہاں تک کہ زیک گولڈ اسمتھ کی بہن اور عمران خان کی سابق بیوی جمائما نے کہا کہ ’ یہ افسوس ناک بات ہے کہ زیک کی مہم نے لوگوں کو اتنا متا ثر نہیں کیا جتنا کہ ہم اس امید کر رہے تھے۔ حالانکہ زیک ہمیشہ سے ہی ایک اچھے ماحول ، آزاد ذہن اور دیانتدارسیاستدان ہیں‘۔جمائما نے مزید کہا کہ’ میں صادق خان کو مبارک باد دیتی ہوں کہ وہ لندن کے سب سے پہلے مسلم مئیر بنے ہیں۔ ایک ایسے شہر کا جو تمام مذاہب اور مختلف ثقافتوں کا شہر ہے۔ نوجوان مسلمانوں کے لئے یہ ایک عمدہ مثال ہے‘۔

صادق خان کی جیت کو اب تک کے لندن مئیر الیکشن کا ایک بہترین نتیجہ کہا جا رہا ہے۔ لندن کے ہر حصیّ سے صادق خان نے سب سے زیادہ ووٹ لئے ہیں۔ اس طرح اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ صادق خان کو ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔ان کی اس جیت سے اس بات کا بھی اندازہ ہورہا ہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے لیبر پارٹی پر یہود دشمنی کا جو الزام لگ رہا ہے صادق خان کی جیت سے شاید اس میں کمی آئے۔ نیو یارک کے مئیر بل دی بلاسیو نے صادق خان کو لندن مئیر بننے کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے ان کی شاندار جیت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ ہم آپ کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں اور جلد ہی آپ سے ملاقات ہوگی‘۔وہیں پیرس کی مئیر این ہیڈالگو نے صادق خان کو مبارک باد کا پیغام ٹوئیٹر کے ذریعہ بھیجا اور کہا کہ ’ ہم پیرس اور لندن کے تعاون کو اور مضبوط کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں دارالحکومتوں کے بیچ نئے مکانوں کی تعمیر، آلودگی اور ثقافت جیسے اہم مسئلوں پر مل کر کام کرینگے‘۔
صادق خان کی پیدائش ایک پاکستانی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے لندن ہجرت کر کے آئے تھے اور لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان کا پورا خاندان جنوبی لندن کے کونسل اسٹیٹ (وہ رہائشی مکان جس میں کم آمدنی یا غریب لوگ رہتے ہیں)میں آباد تھا۔ اسی وجہ سے صادق خان نے ہمیشہ اپنی تقریر میں اس بات کا ذکر کیا کہ میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا ہوں اور میری پرورش ایک کونسل اسٹیٹ میں ہوئی ہے۔ صادق خان پیشے سے ایک وکیل ہیں اور انہوں نے ایم پی بننے سے پہلے انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر کام کیا تھا۔ ان کی شادی سعدیہ سے بائیس سال پہلے ہوئی تھی اور ان دونوں کے دو بیٹیاں ہیں۔ صادق خان کی بیوی سعدیہ بھی ایک وکیل ہیں۔

صادق خان اور ان کے گھر والے ہمیشہ رمضان پابندی سے مناتے ہیں اور یہ پہلے برٹش منسٹر تھے جنہوں نے حج کے فریضہ بھی اد کیا ہے۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ٹوٹنگ اور بالہم کے علاقے کے مدرسہ میں عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے جس کی وجہ سے کم عمری سے ہی انہیں توحید،نماز،زکوٰۃ، روزہ اور حج جو کہ اسلام کے پانچ ارکان ہیں ، کا علم ہوا۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی انتہا پسندی کے خلاف لڑنے میں گزاری ہے۔ انگلینڈ کی پوری مسلم آبادی کے لگ بھگ 40% چالیس فی صد مسلمان لندن میں آباد ہیں اور صادق خان نے ہمیشہ مسلمانوں کے معاملے میں کھل کر باتیں کی ہیں۔ اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ صادق خان کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے لندن کے زیادہ تر مسلمانوں نے صادق خان کو ووٹ دیا ہے۔
لندن کے مئیر کے اختیار میں خاص طور سے ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحول اور نئے مکانوں کی تعمیر اور پلاننگ ہوتی ہیں، جس کے لئے مئیر شہر کی ترقی اور تعمیری کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لندن اسمبلی کے ممبران ہوتے ہیں جو مئیر کی پالیسی کی حمایت میں ووٹ دے کر مئیر کے کا موں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ صادق خان نے اپنے منثور میں اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ مئیر بنے تو چار سال تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ نہیں بڑھائینگے۔

صادق خان نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ’ میری مہم بنا تنازعہ کے نہیں تھی لیکن وہ ووٹر قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوف کے مقابلے میں امید کو چنا ہے۔اس لئے مجھے امید ہے کہ میں لندن شہر کے لئے ان تمام وعدوں کو پورا کروں گا جو میں نے کئے ہیں۔میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ لندن شہر کو بہتر بناؤں‘ ۔صادق خان نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ لندن اسمبلی کو شفاف اور رسائی والی انتظامیہ بنائیں گے۔
صادق خان کی شاندار جیت سے مسلمانوں اور پاکستانی نژاد کے لوگوں کے علاوہ لندن کے ہر ذات اور مذہب کے لوگ بھی خوش ہیں۔ تاہم تنقید کرنے والے، صادق خان کی ان باتوں کو بھی یاد دلا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ تنازعہ کے شکار رہے ہیں۔ مثلاً چند سال قبل برطانوی پارلیمنٹ نے ہم جنس شادیوں کو قانونی درجہ دینے کے لئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا ، صادق خان نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد سے صادق خان کو کئی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں ۔

تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ وہ تاریخی شہر لندن کی خوبصورتی میں چار چاند لگائیں گے۔ دنیا کے سب سے اچھے ٹرانسپورٹ نظام کو مزید بہتر بنا ئیں گے ۔ اس کے ساتھ ہی لندن شہر میں مکانوں کی قلت کو دور کریں گے۔ جرائم کو کم کرنے کے لئے پولیس ڈپارٹمنٹ کو بہتر بنایا جائے گا، تاکہ آنے والے دنوں میں تاریخی شہر لندن صادق خان کو صرف نام سے نہیں بلکہ فخریہ ایک کامیاب مسلمان مئیر کے نام سے یاد رکھے گا۔