حقوق العباد کے لئے حضور اکرم ﷺ کی تاکید

نَحْمَدُہُ وَنُصَلِّیْ وَنسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِےْمِ اَمَّا بَعْدُفَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّےْطٰنِ الرَّجِےْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِےْمِ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِےْمِ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقَ
قراٰن کریم کی اس مقدس آیت میں اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ وعم نوالہ اپنے پیارے پیغمبر نبی آخر الزمانﷺ کو ارشاد فرما رہے ہیں کہ بیشک آپ خلق عظیم کے مالک ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی اس حدیث پاک میں آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ سوائے اس کے نہیں کہ مجھے اللہ تبارک و تعالی نے اخلاقی عظمتوں کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے ۔

حضور اکرم ﷺ نے جن و انس کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی فلاح کے لیے عبادات وحسن معاملات اور عمدہ ترین اخلاقیات کی تعلیم کے نور سے جہان کو منور فرما دیا ۔ آپ نے اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ وعم نوالہ کی بندگی کا حق ادا کرنے کا طریقہ سکھلایا اور مخلوق خدا کے سا تھ حسن معاملات اور بہتر سے بہتر وطیرہ اختیار کرنے کا بھی سبق پڑھایا ۔ آپ نے جو بھی تعلیمات اصحاب رسول اور اصحابیات کو ارشاد فرمائیں انہیں عملی طور پر اپنی زندگی پر بھی لاگو فرمایا ۔ ازواج مطہرات اہل بیت عظام کو بھی ان اصولوں کی عملی پابندی کرنے کا بھی اسی طرح سے درس دیا ۔

آپ ﷺ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پہچان کرائی ۔اور آپ نے محسوس فرمایا کہ لوگ حقوق اللہ میں بھی کوتاہی کرتے ہیں اور حقوق العباد میں بھی۔ مگر حقوق العباد میں حقوق اللہ کی نسبت زیادہ کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے آپ نے خصوصی طور پر حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے حکم ارشاد فرمایا۔ آپ نے اخلاق رذیلہ سے بچنے اور اخلاق عظیمہ کو اپنانے کی تعلیم دی ۔ خود جب بھی آئینہ دیکھتے تھے تو دعا فرمایا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ کَمَا اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِی اے میرے اللہ جس طرح سے تونے میری شکل و صورت کو حسین بنایا ہے اس طرح سے میرے اخلاق بھی حسن سے مزین فرما د ے ۔ اور اللہ تبارک و تعالی نے بھی آں جناب کے جس طرح سے جسم مبارک کو حسن و جمال کا ایک شاہکار بنایا اور آپ کا ثانی اور آپ کی مثل پوری رب کی مخلوق میں کوئی نہیں ہے، اسی طرح سے آپ کو دولت اخلاق سے بھی مالا مال فرمایا کہ آپ جیسے اچھے اخلاق والا بھی کائنات میں آپ کا کوئی ثانی نہ پیدا ہوا نہ ہو ئے گا ۔ خود مالک الملک نے آپ ﷺ کے بارے میں اپنے کلام پاک میں فرمایا اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِےْمِ۔آپ ﷺ نے اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا اَکْمَلُ الْمَوْمِنِےْنَ اِےْمَانَا اَحْسَنُوْ خَلْقَا وَ الْطَفَھُمْ بِاَ ھْلِہِ کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہو ں اور اپنے اہل و عیال کے سا تھ نرمی اختیار کرنے والا ہو ۔

حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی مبارک میں گیارہ شادیاں فرمائی تھیں جن میں سے دو ہماری مائیں سیدہ خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیھا اور سیدہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ کی زندگی مبارک میں دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں اور نو ازواج مطہرات جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں سیدہ ام المومنین حضرت سودہؓ، سیدہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، سیدہ ام المومنین حضرت حفصہ، سیدہ ام المومنین حضرت ام سلمی، سیدہ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش، سیدہ ام المومنین حضرت جویریہ، سیدہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ، سیدہ ام المومنین حضرت صفیہ، سیدہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنھن اجمعین۔ بیک وقت نو ازواج مطہرات کے سا تھ آپ نے برابری کا حسن سلوک فرمایا۔ جتنا جتنا راشن  مقرر تھا سب کو مساوات کے سا تھ تقسیم فرماتے تھے ۔ روزانہ عصر کے بعد یا جب بھی وقت ملتا تو سب گھروں میں تشریف لے جا تے اور ہر گھر کا حال احوال پوچھتے اور جہاں جس چیز کی بھی ضرورت ہوتی اسے پورا فرما دیا کرتے تھے۔

تمام ازواج مطہرات کو بٹھلا کر مشاورت سے رات کے قیام کی باریاں بانٹ لی تھیں روزانہ ایک گھر میں ایک رات قیام فرما تے تھے جب گھر میں تشریف لے جا تے تو گھر کا کام کاج کرنے میں بھی ہا تھ بٹاتے تھے۔ ازدواجی تعلق کی سب سے مضبوط بنیاد جذبہ محبت ہے ۔ یہ جذبہ موجود ہو تو میاں بیوی گلستان ہستی میں اکٹھے محو خرام ہو تے ہیں اور سا تھ ساتھ مقصد اعلی یعنی تربیت اولاد پر اچھے اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔ جذبہ محبت مفقود ہو تو تعلق ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے دو اجنبی دوران سفرو قت گذار رہے ہوں۔ پیارے پیغمبر ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے بہت محبت فرما تے تھے۔ کبھی کسی زوجہ محترمہ نے ایک پیالے سے پانی پیا تو جہاں اس کے ہونٹ لگے ہو تے تھے آپ ﷺ وہیں پر ہونٹ مبارک لگا کر بقیہ پانی نوش فرما لیا کرتے تھے۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک زوجہ محترمہ آٹا گوندھ رہی ہے اورکہیں جانے کی جلدی ہے تو فرمایا تم آٹا گوندھو میں چولہے میں آگ جلا دیتا ہوں۔

اتنی بڑی شان والی ہستی جس کی غلامی کرنا ہزاروں انسان فخر سمجھتے تھے جب اپنے گھروں میں تشریف لے جاتے تو اس طرح سے گھر میں ہوتے کہ جیسے میاں بیوی برابری کی بنیاد پر اپنے اپنے حوق کی ادائیگی کے سا تھ زندگی گذار رہے ہوں۔ بلا وجہ کبھی بھی ناراض نہ ہو تے تھے ۔ جب بھی موقع مناسب سمجھتے تھے تو سب ازواج کے لیے تفریح و دل بستگی کا بھی انتظام فرما دیتے تھے۔ سفر پر تشریف لے جا تے تو اپنی پسند سے کسی بھی زوجہ مطہرہ کو سفر میں ساتھ لے جانے کے لیے انتخاب نہیں فرما تے تھے بلکہ قرعہ ڈال لیا جاتا۔ جس کے نام کا قرعہ نکلتا، اسی کو سا تھ لے جاتے۔ غرضیکہ آپ کے تمام گھرانے جنت نظیر تھے۔

حضور اکرم ﷺ کی چار بیٹیاں بھی تھیں سیدہ حضرت زینب، سیدہ حضرت رقیہ، سیدہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنھن اجمعین۔ آپ کے تین داماد تھے ان سب کا بھی آپ کے گھروں میں آنا جانا ہوتا تھا۔ آپ اپنی صاحبزادیوں سے انتہائی شفقت محبت اور پیار فرمایا کرتے تھے ۔ اور اپنی بیٹیوں کی اولاد سے بھی بہت محبت فرما تے تھے۔ بڑی شہزادی حضرت زینبؓ کی ایک بیٹی امامہ اکثر حضور اکرم ﷺ کے گھر میں ہی رہتی تھی، جو آپ ﷺ سے بہت زیادہ مانوس تھی۔ آپ اس سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔ سب سے چھوٹی شہزادی خاتون جنت بتول سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کی اولاد میں تین شہزادے سیدنا حضرت حسنَ اور سیدنا حضرت حسین، سیدنا حضرت محسن رضی اللہ تعالی عنہم اور دو شہزادیاں سیدہ حضرت ام کلثوم اورسیدہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہما تھیں۔ ان میں حضرت محسن بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ باقی تمام بچے والدین کے سایہ عاطفت میں جوان ہوئے ان کا گھر حضور اکرم ﷺ کے دولت خانہ سے متصل تھا۔ ان بچوں کا نانا جان کے گھر اکثر آ نا جانا ہوتا تھا۔ نبی کریمﷺ اپنی بیٹیوں کی ہر خوشی غمی میں شرکت فرماتے تھے ۔ اور ان کے خانگی معاملات میں ہمیشہ محبت الفت بانٹنے کے لیے دخیل رہتے تھے ۔ پیارے پیغمبرﷺ کی خاندگی زندگی پوری امت کے لیے ایک نمونہ ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے اخلاق حمیدہ میں خصوصاً جن باتوں پر زور دیا ان میں سے آپ نے فرمایا ہر ایک کے سا تھ احسان کیا کرو کوئی احسان کرے تو اس کا نیک بدلہ دینا ضروری ہے۔ یعنی تم اس کے سا تھ بھی احسان کرو۔ جو تمہارے سا تھ برا سلوک کرتا ہے، اس سے درگزر کرو۔  آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہمیشہ توکل اور رضاء بالقضاء پر راضی رہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ ہر کام میں متانت اور سنجیدگی اختیار کر و۔ پروقار زندگی گذارو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ سچ بولو، جھوٹ سے ہمیشہ پرہیز کرو۔ امانت میں کبھی خیانت نہ کرو۔ جس سے وعدہ کرو سچا کرو اور کبھی بھی وعدہ خلافی مت کرو۔ ہمیشہ اپنے جذبات پر بالخصوص غصے پر قابو پانا سیکھو ۔ شرم و حیا کو اپنا زیور بناؤ ۔ نرم مزاجی کی عادت بناؤ۔ تواضع و انکساری کو اپنا فخر سمجھو۔ صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالی جل جل لہ وعم نوالہ کے سامنے ہی دعا کے لئے ہا تھ پھیلاؤ۔ مخلوق خدا سے سوال کرنے سے احتراز کرو ۔ ہرحال میں اللہ تبارک و تعالی کا شکر کرو۔ وہ جس حال میں بھی رکھے اس پر صبر کرو۔ سخاوت کی عادت بناؤ۔ بخل اور کمینگی سے  دور رہو۔ قناعت او استغنی کو اپنے اعمال کا حسن سمجھو۔ کفایت شعاری کی عادت ڈالو۔ فضول خرچی سے بچو ۔ دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنا سیکھو۔ اپنی خطاؤں کی ہمیشہ اللہ تعالی سے معافی مانگو۔ رحم دلی کرو۔ بے رحمی سے بچو۔ فضول، لغو، لا یعنی کاموں سے پرہیز کرو۔ اپنے وقت کو قیمتی بناؤ ۔ نیک کاموں میں تدبر و تفکر کرتے رہا کرو ۔ اخلاق رذیلہ سے ہمیشہ بچو ۔ خود بینی کو ایک بری بلا سمجھو۔ بے حیائی کی کبھی اشاعت نہ کرو۔ دوسروں کو ہمیشہ اپنے سے اچھا سمجھو۔ کبھی بھی کسی انسان کو حقیر نہ جانو۔ ہر کام کو خلوص نیت سے رضائے الہی کے لیے کرو۔ ریا کاری سے خود کو بچاؤ۔ برے اور بے حیائی کے کاموں سے احتراز کرو ۔ غیبت اور چغل خوری سے بچو۔ کسی کے متعلق بلا وجہ بد گمانی اختیار نہ کرو۔ اچھائی کے کاموں میں کبھی دریغ نہ کرو۔ کہیں صلح و صفائی کرانا ہو یا کسی جگہ کسی گفتگو یا کام سے فساد پڑنے کا خطرہ ہو تو اچھے انداز میں مصالحت کروا دو۔

کسی شخص کو کبھی رسوا نہ کرو۔ کسی سے انتقام لینے کا کبھی نہ سوچو۔ بلکہ در گذر اور معاف کرنا ہی اپنی سرشت میں داخل کرو ۔ بغض وکینہ، حسد قساوت قلبی سے بچو۔ منافقت کو قریب بھی نہ پھٹکنے دو ۔ ظلم سے ہمیشہ بچو۔ بد گوئی بالکل نہ کرو۔ کبھی بھی عیب جوئی کا نہ سوچو ۔ نگاہیں ہمیشہ نیچی رکھو۔ اپنے آپ کو بد نگاہی سے محفوظ کرو۔ کسی پر بھی لعنت نہ بھیجو ۔ گناہوں سے بچتے رہا کرو اور اگر کوئی بھول چوک کر ہو جائے تو فوراً توبہ کرو۔ اللہ تبارک و تعالی سے معافی مانگو۔ بد عقیدگی سے بچو۔ اللہ تعالی کے تمام حقوق جو انسانوں کے ذمے ہیں، ان کی بھی ادائیگی کرو اور انسانوں کے جو حقوق ہیں ان کا بھی خاص خیال رکھو۔

غرضیکہ ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ کی حیات مبارک کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دنیا کو حسن اخلاق کی دولت سے مالا مال فرمادیا ۔ ایسی عمدہ زندگی گزاری کہ اللہ تبارک و تعالی نے عرش معلی سے ارشاد فرمایا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ۔ اے لوگو تمہارے لیے اللہ تعالی کے رسولﷺ کی زندگی ایک بہترین کامل نمونہ ہے ۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی ہمیں اسوہ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔