بنگلہ دیش: سیاسی جرم یا وار کرائمز

  • تحریر
  • ہفتہ 14 / مئ / 2016
  • 4212

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ حسینہ واجد کی حکومت نے 1971 کے وار کرائمز کا سہارا لے کر جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمٰن نظامی کو تختہ ء دار پر لٹکا دیا۔ حکومت کو ردِ عمل کا ڈر تھا اور کئی شہروں میں ہنگامے ہوئے بھی لیکن حکومت نے ان متوقع ہنگاموں سے نمٹنے کی پیش بندی کر رکھی تھی۔

دو سال قبل جب جماعت اسلامی کے ایک اور لیڈر کو وار کرائمز ٹریبونل سے سنائی گئی سزا سنائی گئی تو ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ پانچ سو سے زیادہ افراد ان ہنگاموں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان ہنگاموں کے بعد عوامی لیگ حکومت نے وسیع پیمانے پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں کارکن جیلوں میں ہیں۔ مطیع الرحمٰن نظامی کی گرفتاری سے قبل ان کے آبائی شہر پبنہ میں کئی مزید کارکنوں کر گرفتار کیا گیا۔ یوں اس بار ہنگامے اس قدر زیادہ نہ پھیلے اور جانوں کا زیادہ ضیاع نہ ہوا۔ لیکن اس پھانسی نے سیاسی اور ذہنی طور پر تقسیم بنگلہ دیش کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل دیا ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے عالمی پریس میں بنگلہ دیش کے بارے میں جو بھی خبریں آئیں، ایک سے ایک پریشان کن تھیں۔ بنگلہ دیش کی گارمنٹس ایکسپورٹس کا ایک عالم میں شہرہ تھا۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات گذشتہ سال 24 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں جبکہ بنگلہ دیش کی صرف گارمنٹس کی برآمدات اسی دوران 26 ارب ڈالر تھیں ( پاکستان کی گارمنٹس کی ایکسپورٹس فقط ساڑھے چار ارب ڈالر اور مجموعی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی برآمدات بمشکل بارہ ارب ڈالر تھیں )۔ پھر اچانک رانا پلازہ کا اندوہناک واقعہ ہو گیا۔ سینکڑوں مزدور ملبے تلے دب گئے۔ یہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں سب سے خونی مزدور کش واقعہ کہلایا۔ اس واقعے نے بنگلہ دیش میں لیبر سیفٹی کی قلعی کھول دی۔ اور یوں لیبر سیفٹی کے حوالے سے بنگلہ دیش پر ایک بد نما داغ لگ گیا۔

بنگلہ دیش دنیا کے ان دو درجن کے لگ بھگ ممالک میں شامل ہے جنہیں سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس درجے کی وجہ سے بنگلہ دیش کو یورپ، امریکہ اور کئی دیگر ممالک میں خصوصی مارکیٹ رسائی کی سہولیات ہیں۔ جس کی وجہ سے امپورٹ پر یا تو ڈیوٹی بالکل نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا فائدہ بنگلہ دیش نے نہایت ہوشیاری سے اٹھایا۔ بنگلہ دیش میں کاٹن پیدا نہیں ہوتی۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس انڈسٹری کی بنیاد کوریا کی مشہور کمپنی دیووو کے تعاون سے 1977 میں ہوئی جب تین سو کے لگ بھگ لوگوں کو کوریا لے جا کر ٹریننگ دی گئی۔  آج بنگلہ دیش کی گارمنٹس کی برآمدات پاکستان کی کل برآمدات سے بھی زیادہ ہیں۔  اس بظاہر زبردست کارکردگی کے لئے  لیبر کا  سالہا سال تک سوچا سمجھا استحصال کیا گیا۔ تیس سال سے بھی زائد عرصے میں لیبر کی تنخواہیں بمشکل 25 ڈالر ماہانہ رکھی گئیں۔ غربت کے سمندر میں فیکٹری مالکان کو سستی لیبر کی کبھی کمی نہ رہی۔ اس پر مستزاد حکومت کی یہ واحد ڈالر کمانے والی انڈسٹری تھی، اس نے دانستہ ان شرمناک حد تک کم لیبر معاوضوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ 2007 سے 2012 کے درمیان بار بار  ہڑتالوں اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے تحت لیبر کی تنخواہیں اب پچاس پچپن ڈالر ماہانہ کی گئی ہیں۔ جو اب بھی علاقے اور دنیا میں کم ترین سطح پر ہیں۔ لیبر کے اس سوچے سمجھے استحصال میں حکومت کی آشیرواد آج بھی شامل ہے ۔ یوں فیکٹری مالکان نے اپنی تجوریا ں تو خوب بھریں لیکن بندہء مزدور کے اوقات  تلخ ہی رہے۔

اس قدر بھرپور برآمدات کے باوجود بنگلہ دیش ابھی تک تکنیکی اعتبار سے کم ترین ترقی والا ملک ہے۔ ایکسپورٹس کے بعد دوسرا بڑا سہارا بنگلہ دیش کے لاکھوں بیرون ملک ورکرز ہیں جن کے ہر سال بھیجے ہوئے اربوں ڈالرز سے کاروبارِ گلشن چلتا ہے۔ ہمیں چند بار بنگلہ دیش جانے کا موقع ملا۔ انڈسٹری کے لوگوں سے بھی ملے ، یونیورسٹی پروفیسرز، حکومتی افسران اور این جی اوز کے کرتا دھرتا لوگوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ دولت کی تقسیم میں خوفناک حد تک عدم مساوات دیکھا۔ سنا تو تھا لیکن پہلی بار اس کا مشاہدہ کیا کہ غربت بجائے خود بڑا کاروبار ہے۔ بے تحاشا این جی اوز ہیں جو غربت کے خاتمے کے لیے قائم ہیں۔ دنیا بھر سے موٹی موٹی رقمیں امداد کے طور پر آتی ہیں۔ ان رقوم کا کچھ حصہ پروجیکٹس پر خرچ ہوتا ہے لیکن باقی سے مالکان کی امارت میں دن دوگنی رات چوگنی ہو رہی ہے۔

اسی غربت کو دور کرنے کے لیے گرامین بنک نے ایک عالم میں شہرت پائی۔ اس کے بانی ڈاکٹر یونس نے اپنے اس ماڈل کی دنیا بھر میں وکالت کی کہ کس طرح ان کی اسکیموں سے غربت میں کمی آئی ہے۔ اتنے لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آگئے۔ ان کا زیادہ کام خواتین پر مرکوز تھا۔ انہیں ان خدمات پر نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ لیکن اسی دوران ان کے ناقدین نے یہ کھوج لگا لیا کہ ان کا بنک پرسنل سیکورٹی پر قرض دینے کے لیے تیس فی صد سے بھی زائد سالانہ شرح کے حساب سے سود لیتا ہے۔ اس قدر سود سے بیشمار خاندان ایک مسلسل نئی مصیبت میں گرفتار ہو گئے۔ پرانا قرض اور سود ادا کرنے کے لیے نیا قرض۔  یوں یہ بھیانک سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ڈاکٹر یونس ملک میں تو مشہور ہوئے، دنیا میں بھی ان کا طوطی خوب بولا۔ بنگلہ دیش میں کرپشن کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ بنگلہ دیش کی فوج کی خفیہ آشیر واد سے ڈاکٹر یونس نے صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان بھی کیا۔ اس غیر اعلانیہ فوجی اور غیر سیاسی گٹھ جوڑ کا ہمارے ہاں بھی بنگلہ دیش ماڈل کے نام سے خوب شہرہ رہا۔ 2009 میں حسینہ واجد نے انتخاب جیتا تو انہوں نے ڈاکٹر یونس کی اصل طاقت گرامین بنک کا احتساب شروع کر دیا۔ کچھ دیر کے لیے ڈاکٹر یونس گرفتار بھی ہوئے۔ حکومت نے ان کے بنک کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور ڈاکٹر یونس کو اپنے ہی قائم کردہ بنک سے بے دخل کر دیا۔ یوں ڈاکٹر یونس کے سیاسی عزائم اور بنگلہ دیش کو کرپشن فری کرنے کے عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے۔

2009کے انتخابات میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ جیتی۔ حسینہ واجد اور بیگم ضیاء الرحمٰن کی سیاسی دشمنی نے ملک کر یرغمال بنا رکھا ہے۔ گذشتہ الیکشن میں بیگم خالدہ کی پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور یوں انتخابات میں عوامی لیگ کی عددی گرفت مزید مضبوط ہو گئی۔ حسینہ واجد کی حکومت کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کی طرح گہرے دوستانہ ہیں۔ 2009 کے انتخابات میں بھارت کی دلیری سے درپردہ مالی امداد نے حسینہ واجد کو الیکشن جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنی اس کامیابی پر بھارتی پریس میں کئی تجزیہ کاروں نے مضامین لکھے اور اس طر یقہ ء کار کو ملک کی علاقائی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دینے پر زور دیا۔ ان کے بقول سیاسی پارٹیوں پر اس سرمایہ کاری کے طفیل اقتدار میں آنے کے بعد یہ پارٹیاں لازماٌ بھارت نواز ہوں گی۔ حسینہ واجد کی حکومت نے بھارت کے ساتھ طویل سرحدی جھگڑا نمٹا کر بھارت کے ساتھ تعلقات میں اٹکی پھانس نکال کر بھارت تعلقات میں ایک شانتی پیدا کر دی ہے۔ یوں اپنی بھارت دوستی کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت نے سیاسی تقسیم اور انتقام کو جس مقام پر پہنچا دیا ہے اس کے آئیندہ نتائج بھیانک دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی عمل میں سے اپنے مخالفین کو زبردستی باہر کرنے سے پیدا ہونے والا  خلاء مذہبی انتہا پسندوں اور کئی جنونی گروپس نے پورا کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ ایک سال میں کئی پروفیسرز اور بلا گرز اس لیے قتل کر دیے گئے کہ ان کے خیالات سے ان حلقوں کو اختلاف تھا۔ اپنے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے جنون میں حسینہ واجد حکومت ان انتہا پسندوں سے آنکھیں چرائے ہوئے ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔

مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی اس تقسیم اور خلیج کو مزید گہرا کرےگی ۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ تاریخ کو اپنی دانست میں سیدھا کرنے کے جنون میں حسینہ واجد تاریخ میں اپنے اور اپنے ملک کے لیے کانٹے بو رہی ہیں، جنہیں کاٹنے میں نہ جانے کتنی اور نسلوں کا مستقبل زخمی ہو گا۔