ایک نئی سرد جنگ کی تیاریاں
امریکہ اور پانچ نارڈک ممالک کی سربراہی ملاقات 13 مئی کو واشنگٹن میں ہوئی۔ اس میں آئس لینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن اورفن لینڈ کے سربراہان حکومت شریک ہوئے ۔ اس اجلاس کا مقصد روس کے خلاف امریکی محاذ آرائی میں ان ممالک کا تعاون حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ سویڈن اور فن لینڈ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نیٹو اتحاد کا باقاعدہ رکن بنیں۔
یہ اجلاس دوگھنٹے جاری رہا۔ اِن رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری گیا ہے جس میں روس کی مبینہ دھمکیوں اور جارحیت کے بڑھتے ہوئے خطرے اور فوجی سرگرمیوں پر بطور خاص توجہ دیتے ہوئے ’’سیکورٹی کے لیے خصوصی مشترکہ اقدامات لیے جانے ‘‘ پر زور دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ اورنارڈک ممالک کی مشترکہ فوجی سرگرمیوں کو بڑھا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ میں انتخابات کے بعد بھی یہ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی ۔
چھ ملکوں کی سربراہی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں زور دیا گیا ہے کہ یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر انہیں مزید سخت کر دیا جائے گا ۔ اعلامیہ میں روس کو ایک ’’ جارح ’’ ملک قرار دیتے ہوئے اُس کی مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ ’’ بکھرا ہوا روس ‘‘ ابھی تک بہت جارح ہے اور وہ مستقبل میں بحیرہ بالتیک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ۔ اس بارے میں کریمیا کا روس کے ساتھ الحاق اور یوکرین کی صورت حال کی مثالیں پیش کی گئیں ہیں۔
امریکہ اور نیٹو مشرقی یورپ میں بڑے فوجی اڈے قائم کرنے میں مصروف ہیں۔ اگلے سال کے آخر تک ان میں سے بیشتر کی تکمیل ہو جائے گی ۔ بظاہر ان اڈوں کا قیام مشرقی یورپی ممالک میں کسی بھی قسم کی ممکنہ عسکری جارحیت کا پیشگی سدباب کرنا ہے لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ ان اڈوں پر رکھے جانے والے دورمار میزائیلوں اور جنگی طیاروں کا رخ ہمیشہ روس کی جانب رہے گا ۔ ڈنمارک اور ناروے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ متذکرہ سربراہی ملاقات کے دوران ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ نیٹو کی فوجی قوت میں اضافے کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور یہ دونوں ملک کسی نہ کسی حد تک اس کے لیے تیار بھی ہو گئے ہیں ۔
ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے امریکی صدر بارک اوباما کی حکومت کا بطور خاص شکریہ ادا کیا کہ وہ بھی اپنی فضائیہ کے لیے ایف 35 ساخت کے ’’جوائنٹ سٹرائک فائٹر ‘‘ جنگی طیارے خرید رہی ہے ۔ ڈنمارک خود بھی یہی طیارے خرید رہا ہے حالانکہ اِس سودے کے خلاف عوامی احتجاج بڑھتا جا رہا ہے۔ امن پسند ڈینش تنظیموں نے اس سودے کے خلاف آنے والے دنوں میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
ناروے یہ جنگی طیارے پہلے ہی خرید چکا ہے اور اسے ناروے کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی جنگی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک ’’ عظیم دانشمندانہ سرمایہ کاری ‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی امریکی صدر اور نارڈک ملکوں کےسربراہوں کی ملاقات کے بارے میں سیاسی حلقوں اور میڈیا میں تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ یہ ملاقات روس کے خلاف، یورپی مشرقی ممالک میں نیٹو اور امریکی فوجی قوت کو وسعت دینے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکی ’’ شیلڈ میزائل دفاعی نظام ‘‘ روسی سرحدوں کے قریب نصب کیا جا رہا ہے جو نیٹو کے جارحانہ عزائم کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یہ نظام سب سے پہلے پولینڈ میں نصب کیا جائے گا اور 2018میں باقاعدہ کام شروع کر دے گا ۔ اسی کے ساتھ ہی امریکہ نے اب روسی سرحدوں کے قریب یورپ میں اپنے فوجی تعینات کرنے شروع کر دیے ہیں اور انہیں ہر وقت ’’ جنگی حالت‘‘ کے لیے تیار رکھا جا رہا ہے ۔
امریکہ و نیٹو کے سیاستدان واویلا کرتے نہیں تھکتے کہ ’’ شیلڈ میزائل دفاعی نظام‘‘ روس کے خلاف نہیں بلکہ اس کا رخ ایران کی جانب ہے ۔ حالانکہ ایرانی دھمکیاں تو اب ختم ہو چکی ہیں اور باقاعدہ سرکاری سطح پر ایران و امریکہ اور یورپ کے باہمی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔ لیکن امریکی شیلڈ میزائل دفاعی نظام نہ صرف ابھی تک موجود ہے بلکہ اسے مزید بہتر بناتے ہوئے وسعت دی جا رہی ہے ۔ اِن سب اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے اِس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روس کے خلاف ایک سرد جنگ اب ایک حقیقت بن چکی ہے ۔ روس کے صدر پوتن بھی اعلان کر چکے ہیں کہ روس امریکی شیلڈ میزائل دفاعی نظام اور نیٹو کی فوجی وسعتوں کا مقابلہ کرے گا۔
واشنگٹن میں سربراہی ملاقات کے حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ نارڈک ممالک یورپی بر اعظم میں امریکی فوجی قوت بڑھانے میں ساتھ دیں تاکہ روس کو جس طرف چاہیں دھکیلا یا ہانکا جا سکے۔ اب یہ بات بڑی حد تک یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ نارڈک ممالک روس کے خلاف امریکی محاذ آرائی کی سیاست میں امریکی پالیسیوں ہی پر چلیں گے ۔ اس یقین کو کئی دوسرے زمینی حقائق سے بھی تقویت ملتی ہے ۔ مثلاً امریکہ نے آئس لینڈ میں کیفلاوک کے مقام پر بند فوجی اڈے کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ امریکہ ناروے میں تھرمسو Tromsø کی بندگاہ پر ایٹمی آبدوزوں کا اڈہ قائم کرنے کی تیاریوں میں ہے ۔ امریکی آبدوزیں پہلے ہی بحرہ بالتیک کے پانیوں میں آزادانہ گشت کرتی ہیں ۔ ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کے جنگی طیارے بھی روسی سرحدوں کے ساتھ اپنے اپنے بحری علاقوں میں پروازیں کرتے رہتے ہیں ۔ ڈنمارک کے طیارے تو بالتیک ریاستوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔
امریکہ کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ جیسے دو غیر جانبدارنارڈک ملک، روس کے خلاف امریکہ و نیٹو کی حصار بندی میں جنگی مدد دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ امریکہ واشنگٹن میں سربراہی ملاقات کے نتیجے میں ان دونوں ملکوں کو روس کے خلاف سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ ملوث کرنے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی ۔ سویڈن کے عوام نیٹو میں شرکت کے خلاف ہیں اور وہاں اس بارے میں مضبوط تحریکیں موجود ہیں۔ لیکن سویڈن کی کئی سیاسی پارٹیاں پچھلے کئی برسوں سے نیٹو میں شمولیت کی وکالت کر رہی ہیں ۔
واشنگٹن ملاقات کے بعد سویڈن کی روایتی غیر جانبداری اور اس کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے ۔ پچھلے سو سال سے اپنی پالیسیوں کی بنا پر ہی سویڈن یورپی جنگوں میں ملوث ہونے سے دور رہا ہے۔ سویڈش عوام اسے اپنے لیے خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں ۔ لیکن اب یہ ضمانت، امریکی دباؤ کی وجہ سے کمزور ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ سویڈن کی یورپی یونین میں شمولیت اور مشترکہ دفاعی پالیسیوں میں کسی نہ کسی حد تک شامل رہنے کی پالیسی سویڈن کو پہلے ہی امریکی بلاک میں شامل کر چکی ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے کئی سالوں سے سویڈن کا نیٹو کی جنگی مشقوں میں شامل ہونا بھی اسے غیر جانبداری کی پالیسی سے دور لے جانے میں کردار ادا کر رہا ہے ۔
عالمی جنگی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ موسم گرما کی تعطیلات سے پہلے سویڈش پارلیمانی اکثریت اور حکومت نیٹو کے ساتھ ایک نام نہاد ’’ ہوسٹ کنٹری ایگریمنٹ ‘‘ کی منظوری دے دے گی ۔ جس کے تحت نیٹو کو یہ سہولت مل جائے گی کہ وہ سویڈن میں اپنا فوجی سازوسامان رکھ سکے گی ۔ اس سازو سامان کس نوعیت کا ہوگی، اس بارے میں سرکاری سطح پر ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔ لیکن عوام بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی نوعیت کیا ہوگی اور سویڈن میں اس فوجی سازوسامان کے ڈھیر لگانے کا اصل مقصد کیا اور اس کا ہدف کون ہو سکتا ہے ۔
نیٹو کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف نارڈک ممالک میں عوامی مخالفت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ نیٹو کی سویڈن میں اپنا فوجی سازو سامان رکھنے کی کوششوں کے خلاف ابھی سے احتجاجی مظاہرے ہونے لگے ہیں ۔ ناروے میں بھی نیٹو کو مسترد کرنے والی ایک ملک گیر تحریک شروع کرنے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں اس سلسلے میں ایک تنظیم ’’ سٹاپ نیٹو‘‘ قائم کی جا چکی ہے جو لوگوں کو نیٹو کے خلاف متحرک کر رہی ہے ۔ ڈنمارک میں عوام کی ایک بڑی اکثریت جدید جنگی طیاروں کی خرید کے خلاف متحرک ہے۔
واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما اور نارڈک ممالک کے سربراہان حکومت کی ملاقات کے بعد اگرچہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ’’ سب کچھ ٹھیک ہے اور ملاقات میں شامل سبھی رہنما دفاعی اعتبار سے ایک ہی نظریہ رکھتے ہیں‘‘۔ تاہم مبصرین ان تیاریوں کو ایک نئی سرد جنگ کا نام دے رہے ہیں۔ امریکی سرپرستی میں ایک نئے انداز سے ایک نئی سرد جنگ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کا رخ روس کی جانب ہے ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)