میں چور نہیں ہوں: ایک لیڈر
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- اتوار 15 / مئ / 2016
- 5520
ستر کی دہائی میں ایک گورے لیڈر کا بیان بہت مشہور ہوا تھا کہ ’میں چور نہیں ہوں‘۔ بعد میں چوری پکڑے جانے پر اسے استعفی دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ کتنی بھد اڑی تھی اس کی۔ آج تک اس کی قوم کو یہ طعنے دئے جاتے ہیں کہ تمہارا لیڈر کہتا تھا کہ میں چور نہیں ہوں، اور بعد میں وہ پکڑا گیا۔ آپ خود ہی انصاف سے بتائیں کہ جو پکڑا جائے، وہ لیڈر کاہے کا ہوا؟
یہ قول یوں یاد آیا کہ چند دنوں سے میڈیا میں ہمارے محبوب لیڈروں کے خلاف ایک بلاوجہ کا طوفان سا اٹھا ہوا ہے کہ فلاں کرپٹ ہے اور فلاں کرپٹ ترین ہے۔ پہلے سب کہتے تھے کہ جناب آصف علی زرداری سے ذیادہ کرپٹ شخص کوئی نہیں ہے، پھر پتہ چلا کہ نہیں نہیں، میاں نواز شریف صاحب تو کرپٹ ترین ہیں، اور اب جناب عمران خان صاحب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جی آف شور کمپنیوں کے اولین مالک تو وہی تھے لیکن ٹیکس کے کاغذات میں کبھی ذکر نہیں کیا۔ یہ صرف بلاوجہ بدنام کرنے کی مہم ہے حالانکہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب چور نہیں ہیں۔
اگر ہم اپنی روایات پر غور کریں تو ہمیں بخوبی علم ہے کہ اکاؤنٹنگ کسی سچے پکے مسلمان کو وارا نہیں کھاتی ہے۔ ہمارے دیس کے ممتاز تاریخ دان جناب مشتاق احمد یوسفی کی گواہی تو ریکارڈ پر ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے تو حساب میں فیل ہونا مسلمانی کی نشانی سمجھا جاتا تھا اور پاس ہونے کی قبیح حرکت صرف بنیے ہی کرتے تھے۔ ایسے میں اگر ہمارے کسی راہنما کی حساب کتاب میں بھول چوک سامنے آ جاتی ہے، تو اس چیز کو یوسفی صاحب کی گواہی کے مطابق ان کے مسلمان ہونے کی گواہی سمجھا جانا چاہیے نہ کہ الٹا ان کو برا بھلا کہا جائے۔ برے تو وہ لوگ ہیں جو کہ ریاضی میں اتنے مشاق ہیں کہ ایسی بھول چوک کو پکڑتے ہیں۔ یہ پکڑنے میں مہارت رکھنے والے ضرور یہود و ہنود کے ایجنٹ ہیں جو حساب کے اتنے ماہر ہیں۔
ہمارے راہنماؤں کو برا کہنے کی وجہ ان کے دشمن یہ بتاتے ہیں کہ ان افراد نے کچھ کالے سفید نوٹ خرچ کر کے کسی پاناما نامی ملک میں کوئی کمپنیاں کھول لی ہیں یا کوئی صنعت وغیرہ لگا لی ہے۔ پھر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہمارے قومی لیڈروں نے فلاں فلاں چیز پر پیسہ کھایا ہے۔ یہ سب معترضین ہمارے کلچر اور روایات سے نابلد اور ناواقف ہونے کے علاوہ نہایت ہی سطحی سوچ رکھتے ہیں۔ بات کو مزید بڑھانے سے پہلے ہم ممتاز مورخ اور تجزیہ نگار جناب میجر جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمان کا وہ تجزیہ پیش کرتے ہیں جو کہ یا تو ہماری قوم نے پڑھا نہیں ہے، اور پڑھا ہے تو سمجھا نہیں ہے۔ جنرل صاحب نادر شاہ درانی کی سیاحت ہند کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کچھ یوں لکھتے ہیں:۔
’ایک مفید رسم‘
“جہلم کے قریب ایک قلعہ دار نے ہم پر دھاوا بول دیا لیکن فوراً ہی پھرتی سے قلعے میں محصور ہو گیا۔ ارادہ ہوا اس کو اسی طرح محصور چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں، لیکن الو شناس ملتمس ہوا کہ نیا ملک ہے، یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔ ہم نے فرمایا کہ اس طرح قدم رکھے تو دلی پہنچنے میں دیر لگے گی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ لوگ عقب سے آ کر تنگ نہ کریں۔
اس روز ہمیں نزلہ سا تھا اور قصد لڑائی بھڑائی کا ہرگز نہ تھا۔ الو شناس کے اصرار پر دو دن تک قیام کیا لیکن کچھ نہ ہوا۔ تنگ آ کر ہم نے پوچھا کہ کوئی ایسی تجویز نہیں ہو سکتی کہ یہ معاملہ یونہی رفع دفع ہو جائے۔ الو شناس گیا اور جب شام کو لوٹا تو اس کے ساتھ ایک ہندی سپاہی تھا۔ الو شناس کے کہنے پر ہم نے سپاہی کو پانچ سو طلائی مہریں دیں۔ ابھی گھنٹہ نہ گزرا ہو گا کہ قلعے کے دروازے کھل گئے۔ ہم بڑے حیران ہوئے۔
ہند میں یہ ایک نہایت مفید رسم ہے۔ جب کٹھن وقت آن پڑے یا مشکل آسان نہ ہو تو متعلقہ لوگوں کو ایک رقم یا نعم البدل پیش کیا جاتا ہے۔ تحفے کی مقدار اور پیش کرنے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں، لیکن مقصد ایک ہے۔ اسے یہاں رشوت کہتے ہیں۔ کس قدر زود اثر اور کارآمد نسخہ ہے۔ اگر لاکھوں کے اٹکے ہوئے کام ہزار پانچ سو سے سنور جائیں، تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ رشوت دینے دلانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس عمل سے کرنسی حرکت میں رہتی ہے۔ ہم واپس ایران پہنچ کر اس رسم کو ضرور رائج کریں گے۔
ہمیں بتایا گیا کہ کچھ مہریں سپاہی نے اپنے استعمال کے لیے خود رکھ لی تھیں۔ باقی کوتوال کو دیں، جس نے اپنا حصہ لے کر بقیہ رقم قلعہ دار کے حوالے کی۔ قلعہ دار نے سنتریوں کو خوش کر کے دروزے کھلوا دئے۔ واقعی یہ عجوبہ روزگار ہے۔“
کیا میجر جنرل شفیق الرحمان کی گواہی پڑھ کر بھی آپ ہمارے محبوب لیڈروں کو برا کہیں گے؟ یہ نیک لوگ پورے اخلاص سے کوشش کر رہے ہیں کہ ایک مفید رسم جاری رہے۔ وہی رسم جسے دیکھ کر پردیسی حکمران بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ملک میں جاری ہونی چاہیے۔ اور ہم ہیں کہ اپنے محبوب لیڈروں کو برا بھلا کہتے ہیں اور کسی کو نہیں چھوڑتے۔ یہ نیک افراد دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کہ کسی پر کٹھن وقت آیا ہو تو اس کی مشکل آسان کریں، لاکھوں کے اٹکے ہوئے کام محض ہزار پانچ سو سے نکالیں تاکہ لوگوں کے کاروبار چلیں، کرنسی حرکت میں رہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں، اور ہمارے یہ نادان معترض دوست اس نیک جذبے کی تعریف کرنے کی بجائے ملک و قوم سے دشمنی پر اترے ہوئے ہیں۔
اچھے بھلے چلتے ہوئے پراجیکٹ کرپشن کی خبروں کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں، نہ جانے کتنے چولہے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، کرنسی دوسرے ملکوں کا رخ کرتی ہے۔ اس سے یاد آیا کہ وہ بلوچستان میں ایک افسر کو خواہ مخواہ پکڑ لیا گیا ہے، اس کا جرم بس یہی تھا کہ وہ اپنا پیسہ ملک میں رکھنے کا قائل تھا۔ کیا اب باقی تمام افسران اپنا پیسہ ملک سے باہر نہیں بھیجنے لگیں گے؟ لیکن نہیں، ہمارے یہ نادان دوست ملک سے کیپٹل فلائٹ کروائیں گے اور بعد میں کہیں گے کہ ایک تہائی دبئی پاکستانیوں نے خرید لیا ہے اور پاناما میں اتنی کمپنیاں کھول لی ہیں۔
بہرحال امید ہے کہ کرپشن کے نام پر ہیجان پیدا کرنے والے لوگ اب جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں گے اور قوم کو سچ بتانے لگیں گے کہ پاناما کی آف شور کمپنیاں تو اچھی ہوتی ہیں، اتنی اچھی کہ ہم نے خود کھولی ہوئی ہیں۔ اور ہند کی اس قدیم مفید رسم کو بھی برا کہنا چھوڑ دیں گے اور اس کی افادیت کو ماننے لگیں گے۔ مزید یہ کہ کوئی شریف بندہ کہہ رہا ہو کہ ’میں چور نہیں ہوں‘، تو اس کی بات پر اعتبار کر لینا چاہیے۔
(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)