راکھ سے اٹھا ویت نام
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 17 / مئ / 2016
- 4983
’’بنکاک کے شعلے‘‘ بچپن میں بڑا سنا تھا، چند مرتبہ بنکاک کے شہر کو چھوا مگر ’’شعلوں کی تپش‘‘ محسوس نہ کر سکا۔ اس لیے کہ ایشیا کے اس خطے کے کسی ملک کے سفر کے دوران بنکاک ایئرپورٹ کو ہی چھوا۔ تین روز قبل لاہور سے مقامی ایئرلائن کا جہاز اڑا، پانچ گھنٹوں کی فضائی مسافت کے بعد جب جہاز بنکاک ایئرپورٹ کے اوپر منڈلا رہا تھا تو صبح صادق نے بنکاک کو دیکھنے کا موقع دے دیا۔
فضا سے کسی بھی شہر پر پہلی نگاہیں ڈالتے ہی آپ اس کے مکانوں سے اس شہر کے مکینوں کے ماہ وسال، طرزِ زندگی کی ہلکی سے جھلک دیکھنے کے بعد اس بارے میں رائے بنا لیتے ہیں۔ عمارات سے لگا شہرترقی کی جانب گامزن ہے۔ جدید عمارات کا اضافہ، صاف وشفاف سڑکیں، سرسبز اور شہر کے اندر پھیلی جھیلیں جنوب مشرقی ایشیا کا خاص شہری منظرنامہ تھا۔ لیکن میرا تجسس تھا ہنوئی، ویتنام کا دارالحکومت، ہوچی من کا ویتنام، جہاں یورپ ایشیا فورم کے زیراہتمام ایشیا اور یورپ کے براعظموں کے ترقی پسند دانشور، ایکٹوسٹ اور مزدور یونین کے رہنما اکٹھے ہو رہے تھے ۔ موضوع تھا یورپ اور ایشیا میں امن و سلامتی کی صورتِ حال، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ، روس اور ان خطوں میں جنگ، تنازعات اور مستقبل میں امن کے امکانات اور عالمی طاقتوں اور مقامی گروپوں کے پیدا کردہ تنازعات۔ ویتنام جانا ایسے ہی تھا جیسے ہم ایک نئی دنیا جارہے تھے۔ میرے جیسے جہاں گرد کے لیے خصوصاً، میری جہاں گردی میں تاریخ و تہذیب کے علاوہ اہم ترین دلچسپی میزبان ملک کی سیاسی و سماجی تاریخ اور حالات رہے ہیں۔
ہوچی من جیسا عظیم ایشیائی مارکسٹ جس نے دنیا کی سپرطاقت کو اپنی سرزمین پر شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ امریکہ یہاں سے جیسے شکست کھا کر بھاگا، اس نے پچھلی صدی میں دنیا میں انقلابی تحریکوں اور سوشلسٹ تحریکوں کو ایک نیا حوصلہ دیا۔ ہوچی من نے گرجوں، عبادت گاہوں، عوامی مقامات پر بم نہیں مارے، خود کش حملہ آور تیار نہیں کیے کہ جاؤ خفیہ طور پر فلاں کا گھر اجاڑ دو۔ ہوچی من نے چوری چھپے دہشت گردی نہیں کی تھی، جسے آج کئی گروہوں نے دہشت گردی کو مسلح جدوجہد سے نتھی کر دیا ہے۔ بالکل نہیں! اس نے مسلح فوج، امریکہ کی مسلح فوج کے سامنے آکر کھلی جنگ کی تھی۔ جدید اسلحہ سے لیس سامراجی طاقت کے خلاف کمیونسٹوں کی سیاسی و انقلابی تحریک، فوجی ٹھکانوں پر کھلے میدانوں میں جنگ، ایک ایسی جنگ جس میں ویتنام کا ہر گھر متاثر ہوا، ہرگھر سے جنازہ نکلا، ہر گاؤں، قصبہ، شہر جنگی میدان بن گیا۔ امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی کے قتل عام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ویتنام نے سامراج کے خلاف جدوجہد کی ایک نئی داستان رقم کی۔
ہڈیاں ہی ہڈیاں، چیتھڑے ہی چیتھڑے
آگ کے اَنبار سے چیختا ہے ویتنام
ویتنام اُٹھا، ایشیا اور یورپ سوشلسٹ تحریکوں کے مرکز بن گئے۔ فرانس سے اٹھنے والی طلبہ تحریک سے لے کر پاکستان میں اٹھنے والی ذوالفقار علی بھٹو اور معراج محمد خان کی قیادت میں طلباء مزدور تحریک، بھارت میں نکسل باڑیوں کی اشتراکی تحریک، ویتنامیوں کی جدوجہد کے شعلوں سے تپی اور بھڑکی۔
جہاز ہنوئی کے اوپر پرواز کر رہا تھا، دماغ دہائیوں پیچھے Reverse پہنچ چکا تھا۔ یہاں امریکہ نے بم برسائے تھے۔ ایئرپورٹ کے بالکل سامنے تین سرسبز پہاڑیاں کھڑی تھیں۔ تاریخ نے وہ سب منظر دیکھا ہو گا۔ امریکی بموں نے اس کے جنگل کو خاکستر اور ویتنامیوں کے خون نے اسے آبیار کیا ہو گا۔ اوہ یہ ہے ایئرپورٹ، بڑا جدید، صاف فضا سے نظر آتا ہوا۔ ہنوئی ایئرپورٹ پر جب جہاز سے قدم باہر نکالے تو پہلی نظر سے ہی اندازہ ہوا کہ یہ ’’بولنے والی قوم‘‘ نہیں، یہ ’’دھرنے والی قوم‘‘ نہیں، یہ ’’کرنے والی قوم‘‘ ہے۔ باتیں کرنے والی قوم باتوں اور داستان گو قومیں ماضی میں الجھی رہتی ہیں۔ کچھ قومیں تو اپنے ماضی کی شان و شوکت Glory کے ساتھ دوسرے خطوں کے سات ہزار سالہ ماضی کو بھی اپنے ماضی کے ساتھ نتھی کر لیتی ہیں۔ ایسی الجھتی ہیں کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ ہنوئی ایئرپورٹ، لاہور، کراچی یا اسلام آباد کوئی ایک بھی ایئرپورٹ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ویتنام کا ایئرپورٹ ہمارے ہاں جو تصور ہے، وہ بھی ماضی کا ہی ہے۔
مجھے یہ ویزا بڑا بھلا لگا، یوں لگا تاریخ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ویزہ سٹمپ ہو کر آیا، ملک کا نام لکھا تھا، Socialist Republic of Vietnam۔ اس وقت دنیا میں چار ملک ایسے ہیں جو اپنے آپ کو سوشلسٹ ریاستیں کہلاتے ہیں۔ پیپلز ریپبلک آف چائنا، ریپبلک آف کیوبا، لاؤ پیپلز ڈیمو کریٹک ریپبلک اور سوشلسٹ ریپبلک آف ویتنام۔ ہنوئی ایئرپورٹ جدید ہی نہیں، صاف ہی نہیں، بلکہ صفائی کا متواتر انتظام یہ عکاسی کر رہا تھا کہ قوم تہذیبی ترقی بھی کر رہی ہے۔ ایئرپورٹ سے گاڑی باہر نکلی تو ہنوئی کے مضافات شروع ہوئے۔ ہمارے لاہور اسلام آباد کی وسیع شاہرات بھلا کیا مقابلہ کریں گی، اس سوشلسٹ ریپبلک کی شاہراہوں کا۔ میرے ساتھ فن لینڈ کا ایک مندوب بھی اسی گاڑی میں تھا۔ کار ہنوئی شہر کی طرف روانہ ہوئی۔ مکانوں سے پتا چلا کہ مکین آسودہ حال ہیں۔ زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر تین سے چار منزلہ مکانات پگوڈا کی طرزِ تعمیر پرکئے گئے ہیں۔ تہذیب و ثقافت کے ساتھ جدیدیت کا امتزاج، اعلیٰ فن تعمیر۔ کشادہ شاہراہیں، ایئرپورٹ سے نکلتے ہی شروع ہو گئیں۔
آنکھوں نے دیکھا لیکن دماغ نے یقین نہ کیا، اس لیے کہ سرد جنگ کے بعد فوکاہاما نے اپنی کتاب The End of History میں دنیا کو ’’سرمایہ دارانہ جمہوریت کی جنت‘‘ کی خبر سے آگاہ کیا تھا۔ سرمایہ دار دنیا اور اس کے ہمارے ہاں موجود بچونگڑے بھی اونچی آواز میں بول کر کہنے لگے کہ اشتراکیت اب میوزیم کا حصہ ہے۔ ارے یہ کیا ہے؟ بڑے بڑے جدید صاف شفاف قد آور نیون سائن، درانتی اور ہتھوڑا، سرخ پرچم پرکندہ۔ کیمونسٹوں کا پرچم بلند ہے ویتنام میں ۔ یہ کیا ہے! ہوچی من کی تصاویر اور سرخ پرچم پر کندہ ستارہ۔ یہ سلسلہ ایئرپورٹ سے شروع ہوا اور ہنوئی شہر تک چلا۔ راستے میں ہنوئی شہر کا دریا آیا، سرخ دریا۔ یہ نام اس دریا کو اس لیے ملا کہ اس کا پانی سرخ مٹی کی وجہ سے سرخ ہے۔ ہنوئی شہر میں سو جھیلیں ہیں، جن میں چھ بڑی جھیلیں ہیں۔ ایک ویتنامی دوست نے میری غلطی کی نشاندہی کی، شہر میں جھیلیں نہیں بلکہ شہر دریا اور جھیلوں کے اندر ہے۔ ہنوئی شہر کے باسیوں سے لگا زندہ قوم ہے، تاریخ میں مر نہیں گئی اور نہ ہی ماضی میں اُلجھ گئی۔ اپنے شاندار ماضی پر نازاں، حال میں زندہ اور مستقبل میں آگے بڑھنے کا عزم لیے مسکراتی قوم۔
سڑکوں پر لوگوں کا مزاج بتا دیتا ہے کہ قوم کا مزاج کیا ہے۔ سڑکوں پر غصہ اور لڑنے بھڑنے کے لیے تیار راہی، قوموں کے مزاج National Characterکی عکاسی کرتا ہے۔ عورت برابری سے اس سماج میں چلتی نظر آئی۔ یہاں لوگ ا نسان نظر آئے، سماج بکھرا نہیں بلکہ جڑا نظر آیا۔ ہنوئی تک سرخ اشتراکی پرچموں اور ہوچی من کی قد آور تصاویر نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم کتنے خوش ہوئے۔ ان نیون سائن پر لکھا تھا، 22-5-2016۔ ایک ویتنامی سے پوچھا کہ شہر اتنا اشتراکی پرچموں سے کیوں سجا ہے اور اوپر یہ تاریخ کیوں درج ہے؟ جواب ملا کہ 22مئی کو انتخابات ہیں ویتنام میں۔
پہلے روز کانفرنس کے بھرپور اور مسلسل سیشنز کے بعد شام ڈھلنے سے پہلے ہنوئی کی تلاش میں نکلے۔ بس اتنا عرض ہے کہ زندہ قوم ہے ویتنامی اور خوبصورت دھرتی ہے ویتنام۔ اور اس دھرتی کو جسے خالق نے تخلیق کیا، اس قوم نے اس کو انسانی تخلیقات سے مزید حسین کر دیا۔