عراق میں امریکہ کی کوئی گنجائش نہیں!
ہالینڈ کی ایک نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق عراقی حکومت کے زیر انتظام جیلوں میں خفیہ طور پر پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ صدام حسین (مرحوم) کے محکمہ جاسوسی کے قدیم صدر دفتر واقع کا ظمیہ میں ایک چھوٹے سے تہہ خانے ’’موت گھر‘‘ میں پھانسی دینے کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے۔ اس سے قبل عراقی حکومت کی حالت زار کی ایسی ہی ملتی جلتی رپورٹ لندن کے صحافی رابرٹ فسک نے بھی دی تھی جس میں اس نے اس بات کی نشان دہی کی تھی کہ خفیہ طور پر موت کی سزا دیئے جانے کے واقعات کا سرکاری طور پر کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔
رابرٹ فسک مزید لکھتا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے ذریعے عراق کو ’’آزاد‘‘ کرانے کے بعد مقدمات کی سرسری سماعت کے بعد موت کی سزا دینے کا زمانہ ختم ہوگیا ہوگا اور عراق میں جمہوریت کے ’’نفاذ‘‘ کے بعد یہ ظالمانہ روایت بھی ختم ہوچکی ہوگی لیکن فسک کے مطابق ایسا نہیں ہؤا۔ ہلاک کئے جانے والے زیادہ تر افراد بائیں بازو کے ’’باغی‘‘ بتائے جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ لوگ (جن میں ، میں بھی شامل ہوں) جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ رابرٹ فسک کی صداقت اور مقصدیت شبہات سے بالاتر ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ سال 33افراد دار پر چڑھائے گئے تھے اور تقریباً دو سو سے زائد افراد کو اب تک موت کی سزا دی گئی ہے۔ پھانسی دینے کا طریقہ بھی ظالمانہ ہے۔ پھانسی دیئے جانے والے شخص کے ہاتھ باندھ کر بنچ پر کھڑا کرکے پھانسی کا پھندا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح کبھی موت ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی اگر موت واقع نہ ہو تو طالبان کے طریقہ کا ر کی طرح سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے۔ ہلاک کرنے کا یہ ظالمانہ طریقہ اب بغداد کی بھی خصوصیت بنتا جارہا ہے۔ عراق کا ناقص اور ظالمانہ نظام عدل دیکھ کر سوچا جاسکتا ہے کہ آخر عراقیوں نے ایساکیا کیا ہے جو اس طرح کا غیر انسانی سلوک ہورہاہے؟ امریکہ نے عراق پر حملے اور قبضے کے بعد اپنے مقاصد کی تکمیل تو کرلی لیکن اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں کون مصائب کا شکار ہے اور کون کیا کررہا ہے۔ وہ زمینی حقائق سے قطعاً بے خبر ہے یہاں تک کہ عراق میں سیاسی قوتوں کی کشمکش کی بھی اسے خبر نہیں ہے یا وہ خبر رکھنا نہیں چاہتا۔
عراق کے اندرونی حالات جاننے والے جانتے ہیں کہ اس وقت حالات امریکہ کے حملے سے پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہیں اور ان بدترین حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ پر ہے۔ امریکہ کو چونکہ عراق پر اب بھی کنٹرول حاصل ہے اس لئے اس پرلازم ہےکہ اس قسم کے ظالمانہ طریقوں کو روکنے کےلئے وہ سخت عملی اقدام کرے۔ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ عراق کو کس طرح لوٹا جارہاہے؟ حالانکہ یہ سوال غلط ہے اصل اور صحیح سوال یہ ہے کہ عراق کو کس طرح نہیں لوٹا جارہا۔ کیونکہ پہلے غیرملکی قبضہ اور اب اپنوں کا قبضہ۔ اور اس قبضے کا مطلب و مقصد ہی اس کی دولت کو لوٹنا اور اسے اور اس کے عوام کو پیچھے دھکیلنا اور پتھروں کے دور میں پہنچانا ہے۔ تو لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنا فطری بات ہے۔ اس بدنصیب ملک کے اندر لوٹ مار کا ہر دروازہ کھلا ہے۔ جوں جو ں وقت گزر رہا ہے، نئے نئے اسکینڈل اور بدعنوانیوں کا انکشاف ہورہا ہے اور برسراقتدار ٹولے کے ہاتھوں اس کی خود داری ، امن و امان، وحدت و سالمیت اور اس کی دولت و عزت سلب کرنے کے نئے نئے واقعات منظر عام پرآرہے ہیں۔ اس پر قابض ملکی اورغیرملکی طاقتوں نے اس ملک اور عوام کو معاشرتی بدامنی میں ڈبو دیا اور فقرو فاقہ کے ایسے سمندر میں پھینک دیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نہ یہاں کے عوام کو ماضی کی تاریخ میں کبھی اس سے سابقہ پڑا۔ اس ملک کا شیرازہ اس طرح منتشر کردیا گیا ہے کہ دور حاضر میں اس کا کوئی دوسرا ثانی نہیں۔
امریکہ اس ملک پر قبضہ کرنے اور پھر برقرار رکھنے کیلئے ایک خطیر رقم خرچ کرچکا ہے جبکہ یہی رقم اس بدنصیب ملک کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں کیلئے کافی تھی اور اس کے ذریعے اسے ترقی یافتہ ملک کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا تھا۔ ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی جو اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیر بھی ہیں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے۔ انجلینا جولی نے یاد دلایا تھا کہ عراق میں صرف چند گھنٹوں میں جو رقم خرچ کی جارہی ہے اس سے ہزارہا بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر عراق جنگ کے صرف آٹھ گھنٹے کے مصارف روک دیئے جائیں تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ بچوں کو اسکو ل بھیجا جاسکتا ہے۔
اس وقت بھی ایگری منٹ اور معاہدوں کے تحت امریکی فوج عراق میں موجود ہے۔ معاہدوں کے تحت لائی گئی اس امریکی افواج کا رتبہ و دبدبہ قابض امریکی فوجوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان موت کے سوداگروں پر کثیر سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے۔ بلاشبہ ان پر خرچ کی جانے والی رقم عراق ہی کی دولت ہے جو یہاں کے باشندوں کی نظروں کے سامنے لوٹی گئی اور لوٹی جارہی ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ ان مجرمانہ کارروائیوں کو روک سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی محافظ خود بھی اس لوٹ مار میں شامل ہوگئے ہیں۔ معاہدوں کے تحت لائے گئے فوجی سیکورٹی اور موت کے ٹھیکے دار ہیں، جن کے اسکینڈل اور بدعنوانیوں کی بدبو پورے عراق میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر کوئی ان کے جرائم سے بخوبی واقف ہے۔ اگر کوئی واقف نہیں تو امریکی وزارت دفاع ہے۔
بعض امریکی تجزیہ نگاروں نے امریکی حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ اگر عراق میں امریکی کوششیں ناکام ہوگئیں تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری عراق کی آئندہ نسل کے نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں میں شمولیت پر مجبور کرسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ اور مغرب کو لگ بھگ 50لاکھ (جی ہاں پچاس لاکھ) ’’نوجوان دہشت گردوں‘‘ کی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت 52فیصد عراقیوں کو بے روزگاری کا سامنا ہے خصوصاً نوجوانوں میں صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔
عراق بچوں کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ملک ہے جہاں 40فیصد آبادی 15سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں صرف 19فیصد آبادی ایسے افراد کی ہے جو 15 سال سے کم عمر ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر معاشی مواقع نہ مل سکے اور ان میں بہتری نہ آئی تو عراقی نوعمر بچے دہشت گردی کیلئے ریکروٹس کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں جہاں دنیا میں دہشت گردی، انتہاپسندی ، عسکریت پسندی، خودکش حملے اور غیریقینی صورت حال کا چلن ہے اس کو تقویت دینےاور جاری و ساری رکھنے کیلئے رسد کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟ میرے خیال میں یہ جاننے اور سمجھنے کیلئے لغت یا بی اے کی ڈگری (جعلی یا اصلی) حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔