حریت پسند کشمیری بیٹیوں کی یادیں

حریت پسند صرف وہ فرد نہیں جو عسکری محاذ پر غاصب قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہو بلکہ ہر وہ انسان حریت پسند ہے جو اپنی قومی آزادی کی خاطر قلمی، زبانی، سیاسی اور سفارتی سطح پر کوشش کرتا ہے۔ اور اس جد وجہد میں  اپنی خواہشات و جذبات کی قربانی بھی دیتا ہو۔ ایسے افراد میں  ایسی دو عظیم کشمیری بیٹیاں بھی شامل ہیں جن کی نذر آج یہ کالم کیا جا رہا ہے۔ ایک بیٹی لبریشن فرنٹ کے مرحوم سرپرست اعلی امان اﷲ خان کی عاصمہ خان اور دوسری لبریشن فرنٹ کے چیف ارگنائزر راجہ حق نواز خان کی اعلی تعلیم یافتہ بیٹی ہے جس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے ۔

عاصمہ خان سے میری پہلی ملاقات 1983 ء میں اس وقت ہوئی تھی جب میں پہلی بار برطانیہ گیا تھا۔ عاصمہ خان کی عمر اس وقت  دس سال لگ بھگ ہوگی۔ میری ان سے کوئی زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئی تھیں کیونکہ وہ سکول جایا کرتی تھیں۔ ایک سال بعد میں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں، میں گرفتار ہو گیا۔ پھر چھوٹوں کے بڑوں سے بھی رابطے کٹ گئے۔ امان اﷲ خان کے جنازے میں تو شرکت کی مگر ان کی اہلیہ اور بیٹی سے ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ امان اﷲ خان کی تدفین گلگت میں کی گئی تھی جہاں میں خرابی صحت کے باعث نہ جا سکا۔ اما ن اﷲخان کی اہلیہ اور صاحبزادی عاصمہ خان سے تعزیت کے لیے آج میں ان کی راولپنڈی میں رہائش گاہ پر گیا ۔ ایس ایل ایف کے مرکزی چئیرمین انجنئیر جلیل فرید بھی میرے ساتھ تھے۔ عاصمہ خان اور انکی کی والدہ سے 33 سال بعد میری ملاقات ہوئی ۔ ان کی والدہ کے ساتھ ہونے والی میری ان دنوں کی باتیں انہیں من وعن یاد تھیں لیکن عاصمہ خان نے اپنے والد امان اﷲ خان کے ساتھ گزرے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کے ساتھ ان کا بہت کم وقت گزرا۔ مگر جو وقت گزرا وہ یاد گار تھا۔ اس مختصر وقت میں انہوں نے اپنے والد سے بہت قیمتی اصول سیکھے۔ انہوں نے کہا وہ ایک بار والد کے ساتھ لوٹن سے ٹرین پر لندن گئیں۔ اس سفر کی یاد کا زکر کرتے ہوئے عاصمہ خان جو اب خود دو بچوں کی ماں ہیں آبدید ہو گئیں۔

عاصمہ خان جو کیمرج سے فارغ التحصیل ہیں، ایک لمحہ کے لیے ایک بار پھر ان کے اندر سے چار سالہ عاصمہ بولنے لگیں۔ اس پر ہمیں دکھ بھی ہوا اور خوشی بھی۔ دکھ اس لیے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ والد سے محرومی کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ میں نو سال کا تھا تو میرے والد فوت ہو گئے تھے لیکن وہ بچے اور زیادہ حساس ہو جاتے ہیں جو والد کی موجودگی کے باوجود دوسرے بچوں کی طرح والد کی انگلی پکڑ کر سکول آنے جانے سے محروم ہوں ۔ ایک دن میں اپنی پانچ سالہ مومنہ کو سکول لے جا رہا تھا کہ اس نے کار میں عقب سے پوچھا پاپا آپ کیسے اور کس سکول جایا کرتے تھے۔ میں نے زیادہ غور کیے بنا کہہ دیا کہ بیٹا میں تو پیدل جایا کرتا تھا۔ بیٹی کے پوچھنے پر میں نے کہا کہ میرے پاپا تو فوت ہو گئے تھے۔ دوسرے دن معلمہ نے مجھے بلا کر کہا کہ آئیندہ بیٹی کے ساتھ ایسی حساس باتیں نہ کرنا۔ کیونکہ جب وہ معمول کے بر عکس کافی دیر کلاس میں خاموش رہی تو میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جب میرے پاپا پڑھتے تھے تو ان کے پاپا فوت ہو گئے تھے۔

عاصمہ خان کی گفتگو پر ہمیں خوشی اس لیے ہوئی کہ ایسے جذبات کا اظہار تو انسان اپنوں کے ساتھ ہی کر سکتا ہے۔ عاصمہ خان نے کہا وہ سوچا کرتی تھیں کہ کاش ان کے والد بھی چھٹی کے وقت سکول کے دروازے پر انتظار کر رہے ہوں اورسکولوں کے پروگراموں میں شرکت بھی کیا کریں۔ لیکن میرے والد اکثر تحریکی و تنظیمی کاموں میں مصروف رہا کرتے تھے۔ گھر پر بھی ان کے پاس میرے لیے بہت کم وقت ہوا کرتا تھا۔ حالانکہ میں اکلوتی اولاد تھی۔ میں سوچتی تھی کشمیر نے میرے والد کو مجھ سے چھین لیا لیکن آج مجھے اپنے والد کا تحریکی ورثہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ میرے والد گلگت کے رہنے والے تھے لیکن آزاد کشمیر کے محب وطن لوگوں نے ان کا ساتھ دے کر ثابت کیا کہ ان کے اندر کوئی علاقائی تعصب نہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے میرے والد کے جنازے میں گلگت جا کر وہاں کے عوام کو جو پیغام دیا اس کا ہماری قومی یکجہتی کی سوچ پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔

لبریشن فرنٹ کے چیف ارگنائزر راج حق نواز خان کا تعلق سہنسہ آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ تحریک و تنظیم کی خاطر گزشتہ تیس سالوں کے دوران شاید مجموعی طور پر ایک ماہ میں ایک بار گھر رہے ہوں۔ حالانکہ ان کا تنظیمی دفتر کوٹلی میں ہے لیکن تحریکی لوگوں کے معمولات ان کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ حق نواز خان کی اولاد کی تعلیم و تربیت کا سارا کریڈٹ ان کی انتہائی صابر و بردباراہلیہ کو جاتا ہے، جنہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو اعلی تعلیم دلوائی۔ بڑی بیٹی ایک وکیل ہے۔ دوسری نے ایم ایس سی کیا جبکہ تیسری ایم بی بی ایس کر رہی ہیں۔ تعلیم و تربیت کے وقت تو راجہ حق نواز خان کو ان کی عظیم شریک حیات اور بیٹیوں نے ان کے تحریکی کاموں کو متاثر نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کسی جگہ انہیں اخلاقی طور پر بلیک میل کیا۔

لیکن شادی کے وقت ہر بچی کی فطری خوائش ہوتی ہے کہ جس گھر میں وہ پیدا ہوئی ، پلی بڑھی وہاں سے جب  رخصت ہو تو اس کا والد اگر زندہ ہو تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے خداحافظ کہے۔ لیکن تحریکی ذمہ داریوں نے راجہ حق نواز کی بیٹی کی یہ آخری خوائش بھی اس سے چھین لی ۔ جس دن اس عظیم بیٹی کی رخصتی تھی اس دن امان اﷲ خا ن کی باڈی ایک قافلے کی شکل میں پنڈی سے گلگت راجہ حق نواز خان اور ساتھیوں کی معیت میں لے جائی گئی۔ راجہ حق نواز خان کو اس موقع پر بھی اپنی بیٹی کی خواہش قربان کرنا پڑی۔ ایسا کرنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ اس کے لیے دل پر پتھر رلھنا پڑتا ہے۔ وہ مائیں اور وہ بیٹیاں جو ایسے لمحات پر بھی اپنی خواہشوں، احساسات اور جذبات کو قربان کر دیں وہ یقیناً بہت عظیم ہیں اور ایسی خواتین کے شریک حیات، باپ اور بھائی بلا شبہ بہت خوش نصیب ہیں۔ اﷲ تعالی ایسے سب لوگوں کی قربانیوں کو قبول کرے۔ اور وطن عزیز جنت نظیر کشمیر کو جلد آزادی نصیب کرے۔ آمین۔