طیب اردوآن کا آخری معرکہ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 21 / مئ / 2016
- 5357
صدر جمہوریہ ترکیہ طیب اردوآن نے سیاست کا آغاز نجم الدین اربکان کی جماعت رفاہ پارٹی سے کیا، ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ لیکن اس وقت ان کا خاندان ترکی کے ارب پتی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاست کا آغاز رفاہ پارٹی سے کرتے ہوئے انہوں نے بحیثیت میئر استنبول اپنی قائدانہ شناخت کا لوہا منوایا۔ نجم الدین اربکان کو اپنا استاد کہنے والے طیب اردوآن اقتدار کی سیاست کے لیے کچھ بھی کرنے کی تاریخ رکھتے ہیں۔ اسی لیے وقت آنے پر انہوں نے اپنے استاد نجم الدین اربکان کو الوداع کہا اور عبداللہ گل اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔
اس دوران انہوں نے ترکی کے ایک مخصوص حلقے میں مقبول مذہبی شخصیت فتح اللہ گلینکے ذریعے سیاست میں مذہبی طاقت حاصل کی اور اپنی نئی جماعت کو عملی طور پر اسلام دوست جماعت کے طور پر متعارف کروایا۔ فتح اللہ گلین جو سعید نورسی کے مذہبی افکار سے متاثر ہیں۔ روشن خیال نظریات کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمات میں اپنے مداحین اور حمایتیوں کو زیادہ سے زیادہ کاروبار کرکے سماجی طاقت بنانے کی ترغیب دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فتح اللہ گلین کے مداحین ترک سماج میں تجارت اور کاروباری حلقوں میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں تجارت کرکے خاص سرمایہ دارانہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ طیب اردوآن کی خوش قسمتی کہ ان کو عبداللہ گل جیسا معتدل اور شفاف شناخت رکھنے والا سیاسی ہمسفر ملا، جنہوں نے طیب اردوآن کی لیڈر شپ بلڈنگ اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کی آمد کے راستے استوار کئے۔ فتح اللہ گلین کے زیادہ سے زیادہ تجارت کرکے دولت کمانے کے درس نے جسٹس اینڈڈویلپمنٹ پارٹی کو ترکی کی ابھرتی ہوئی بورژدازی نے نمایاں حصہ دار بنایا۔
طیب اردوآن کی ایک خوش نصیبی یہ بھی ہے کہ جب ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو اس وقت ترکی ایک جدید معاشی، اقتصادی، ترقی کا انفراسٹرکچر قائم ہی نہیں کر چکا تھا، بلکہ ترک معیشت ایک بڑا ٹیک آف لینے میں کامیاب ہو چکی تھی جس کا سہرا UNDP کے سابق اعلیٰ ترک عہدیدار کمال درویش کے سربندھتا ہے، جنہوں نے سابق وزیراعظم بلند ایجوت کی خصوصی درخواست پر ترک معیشت میں انقلاب برپا کرنے کے لئے اقدام کئے۔ انہوں نے ان کے اقتدار کے آخری دنوں میں UNDP سے استعفیٰ دے کر ترکی کی وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالا۔ اردوآن ایک ایسے جہاز کے پائلٹ بنے جو شاندار پرواز کے لیے تیار کھڑا تھا۔ مضبوط معیشت، گلین کے حمایتیوں کی طرف بے بھرپور مذہبی حلقوں کی حمایت اور خود ان کی شعلہ بیانی نے مقبولیت کی اس پرواز کو چار چاند لگا دیئے۔
اقتدار کے چند سالوں میں ہی گلین اور اردوآن اختلافات مخصوص حلقوں میں محسوس کیا جانے لگے۔ اس دوران طیب اردوآن نے پولیٹیکل سائنس کے ایک پروفیسر احمت دعوت اولو کو اپنا مشیر خارجہ اور بعد میں وزیر خارجہ نامزد کیا، جو اپنے افکار اور تحریروں کے ذریعے ترکی میں ایک ’’نئی سلطنتِ عثمانیہ‘‘ کا خواب دیکھ رہے تھے۔ دھیمے مزاج کے خاموش طبع احمت دعوت اولو نے بحیثیت دانشور عدم تصادم Zero Conflict کا تصور بھی دیا، یعنی ترکی اپنے روایتی حریفوں کے ساتھ تعلقات کو حیران کن حد تک معمول Normalize پر لائے گا۔ ان میں روس، آرمینیا، بلغاریہ، ایران، شام، یونان، عراق اور دیگر علاقائی ممالک سرفہرست ہیں۔ اسی لیے جب وہ وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے ان ممالک کے ساتھ تجارت، آمدورفت، سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں اصلاحات کیں۔ احمت دعوت اولو جو ایک Neo-Ottomanism اور دوسری طرف Zero Conflicfکے علمبردار تھے جب وزارتِ خارجہ سے وزارت عظمیٰ کے تخت پر بٹھائے گئے تو ان کی خارجہ پالیسی نے ان تمام متذکرہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو کس نہج پر پہنچایا اس حوالے سے آپ آج ترکی کے عراق، روس، شام اور دیگر ممالک سے تعلقات اور علاقائی صورتحال کی نوعیت دیکھ کر آسانی سے اندازہ کر سکتے ہیں۔
آج کا ترکی 2002ء کے ترکی سے مختلف ہے۔ آج کا ترکی خصوصاً عراق، شام اور روس کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر تنازعات میں گھرا ہؤا ہے۔ لیکن احمت دعوت اولو، طیب اردوآن کے ’’وفادار ساتھی‘‘ کے طور پر وزیر خارجہ سے بھی زیادہ اردوان کے ایک اہم کامریڈ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اسی لیے جب طیب اردوآن نے صدارت کا تاج حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری احمت دعوت اولو کو عطا کر دی گئی۔ شعلہ بیان طیب اردوآن نے بحیثیت وزیراعظم علیحدگی پسند کردوں کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا، جس کے تحت انہوں نے سزائے موت یافتہ علیحدگی پسند کرد راہنما عبداللہ اوجلان کے ساتھ جیل میں رابطہ قائم کرکے کرد علاقوں میں اپنی پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ اس فیصلہ پر ان کی مخالف جماعتیں خصوصاً سوشل ڈیموکریسی کی علمبردار جمہوری خلق پارٹی اور تنگ نظر قوم پرست ملی حرکت پارٹی نے سخت تنقید کی ۔
وزیراعظم ترکی کے طور پر طیب اردوآن نے دوران پولیس، سول انٹیلی جینس اور عدلیہ میں بھرپور ’’اقتداری اثر‘‘ قائم کر لیا، جس کے تحت انہوں نے ملٹری بیورو کریسی سے نمٹنے ’’ Deal کرنے‘‘ میں آسانی پیدا ہوئی۔ اردوآن کی حکمرانی کی تاریخ تضادات اور دلچسپ مطالعہ کا ایک شاندار باب ہے۔ انہوں نے مناسب وقت آنے پر دوست کو مخالف اور مخالف کو دوست بنانے میں عار محسوس نہیں کی۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے مذہبی استاد فتح اللہ گلین کو الوادع کہا۔ اس کے بعد عبداللہ گل سے دوری اختیار کی جو درحقیقت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی ایک اعتدال پسند اور ایماندار شناخت تھے۔ غربت میں جنم لینے والا اردوآن خاندان اب ارب پتی خاندان میں بدل چکا تھا، جس میں ان کی بیٹی سمعیہ، بیٹا بلال، داماد اور خاندان کے لاتعداد لوگ شامل ہیں۔ اسی طرح ان کی پارٹی کی قیادت ترکی کے ارب پتیوں کی پارٹی میں بدل گئی۔
ترکی کے بانی اتاترک نے اپنی زندگی میں جو زمین ترک ریاست کو وقف کر دی تھی، اور جس زمین پر دہائیوں سے اتاترک زرعی فارم قائم تھا، اس ریاستی زمین پر وزیراعظم طیب اردوآن نے ترکی کا عظیم الشان وزیراعظم ہاؤس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ انقرہ کے مضافات میں بیش تیپے کی پہاڑی کی چوٹی پر اس 600 ملین ڈالرز سے تعمیر کئے گئے اس محل میں 1150 کمرے ہیں اور یہ 3200,000 مربع فٹ میں پھیلا ہوا ہے اور یہ محل وزیراعظم ترکیہ کے لیے تعمیر کیا گیا، جب یہ محل تعمیر ہو چکا تو وزیراعظم اردوآن، صدر جمہوریہ بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یوں خوش قسمت اردوآن نے اسے صدارتی محل قرار دے دیا نئے ترکی New Turkey کے دعویدار صدر طیب اردوآن اس شاندار محل میں منتقل ہوگئے اور وزیراعظم احمت دعوت اولو نے’’ ایک وفادار کامریڈ‘‘ کے طور پر پرانے وزیراعظم ہاؤس میں ہی رہنے پر اکتفا کر گئے۔ طیب اردوآن کا میئر استنبول سے وزیراعظم ترکی کا سیاسی سفر، ایک ماہر حکمران کا سفر ہی نہیں بلکہ ایک مرد آہن کا سفر بھی ہے۔ محکومی سے حکمرانی کا سفر، کمزوری سے طاقت کا سفر، غربت سے امارت کا سفر، دوستی سے دشمنی کا سفر۔ مگر یہ ماننا پڑے گا کہ مقبولیت کا سفر اور اس مقبولیت کو سنبھالنے Mainltain کرنے کا بھی فن بھی وہ خوب جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے مین اسٹریم Main Stream کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ باری باری اپنے حلیفوں کو علیحدہ کرتے ہوئے اب انہوں نے اپنے تابعدار وزیراعظم احمت دعوت اولو کو بھی علیحدہ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ وہ اپنی صدارت میں ترکی کو پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام میں ڈھالنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے دھیمے مزاج کے سابق پروفیسر وزیراعظم احمد دعوت اولو جو سراسر فتح اللہ گلین اور طیب اردگان کی مہربانیوں سے سیاست اور اقتدار کی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہوئے، اب ان کے سنہرے دور کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔
صدر طیب اردوآن نے ملک سے بھر آنے والے’’مختار‘‘ (نچلی سطح کے کونسلرز) کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ’’تابعدار وزیراعظم‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ آج وہ جو کچھ بھی ہیں وہ صرف میری وجہ سے ہیں‘‘۔ اسی لیے تو ان کے ‘‘نہ کچھ ہونے‘‘ کا اختیار بھی طیب اردوآن کے پاس ہے۔ حلیف سے حریف کے اس سیاسی سفر میں جب وہ وزیراعظم سے صدر بنے تو انہوں نے کمالسٹ فوج میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے کردوں کی طرف بڑھا یا ہوا دوستی کا ہاتھ واپس لے لیا اور بحیثیت صدر ترکی کردوں کے خلاف سخت آپریشن کا فیصلہ کیا۔
پارلیمانی طرز حکومت رکھنے والا ملک ترکی، عملی طور پر اب صدارتی طرز پر چلا جارہا ہے اور صدر طیب اردوآن اپنی آخری جنگ لڑنے کے لیے آئینی عمل سے ترکی کو صدارتی نظام کی طرف گامزن کرنے پر چل پڑے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے ایک اور ارب پتی ساتھی منالی یلدرم سابق وزیر ٹرانسپورٹ کو اپنی سابق پارٹی(جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) کا سربراہ اور وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طیب اردوآن اس آخری معرکے کے لیے نئے انتخابات اور اس انتخابات کے ذریعے اپنی پارٹی کو ایوان میں 367 سیٹیں جتوانے اور پھر پارلیمنٹ سے صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کی اجازت لینے کی تیاری میں ہیں۔ طیب اردوآن ایک ایسے ترکی کا خواب دیکھ رہے ہیں جو اگلے 9 سال ان کی گرفت میں رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ترکی دنیا کی معیشت اور سیاست میں قیادت کرے گا۔
بس یہاں ہمیں چند ایک سوالات کے جواب درکار ہیں۔ وہ ترکی جس نے ستر سال میں جمہوریت کا سفر طے کیا آج کہاں کھڑا ہے۔ سماج میں گروہی ارتکاز Polorization، بگڑتی معیشت، پڑوسی ممالک اور اتحادی ممالک کے ساتھ بگڑتے تعلقات، جنگوں میں گھرا ترکی، کیا صدارتی نظام کی طاقت حاصل کرنے کے بعد صدر طیب اردوآن ان معاملات کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ ان سوالات کے ساتھ یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ ایسے میں کہیں ترکی میں کسی فوجی انقلاب یا عوامی تحریک کے ذریعے یہ سارا منظرنامہ ہی نہ بدل جائے۔ یہ منظرنامہ موجودہ صدر نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے قائم کیا ہے۔ لیکن ایک بات راقم اپنے تجربے سے یہ کہنے کی جسارت کرتا ہے کہ 2016ء کا سال ترک سیاست میں فیصلہ کن سال ہے۔