پانامہ پر ہنگامہ: اور کیا کیا نظر انداز ہو گا؟
- تحریر
- ہفتہ 21 / مئ / 2016
- 4556
مدّت ہوئی ہماری چھٹی حس نے بات بے بات بریکنگ نیوز اور ستارہ شناس اینکرز کی پیشین گوئیوں کے ساتھ بھاگ بھاگ کر کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا ٹھیک سے نہیں کہہ سکتے کہ قومی اسمبلی کے اس ہفتے ہونے والے گرما گرم اجلاس سے قبل ہماری چھٹی حس نے کیا کہنا تھا؟ البتہ جس وارفتگی کے ساتھ اپوزیشن اور میڈیا نے سات سوالوں کی گردان کی، اسی سے ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ معاملہ، بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے، کی ڈگر پر چل نکلا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے تئیں سات سوالوں سے بھی آگے کی باتیں کیں۔ اپوزیشن نے ان باتوں میں مزید تریسٹھ سوال دریافت کر لیے، یعنی اب سوالوں کی تعداد ستّر ہو گئی ہے۔ ایک ہنگامہ کیا کم تھا ، اپنے پیچھے کئی ہنگاموں کا مزید سامان چھوڑ گیا۔ اس روا روی میں کئی اہم خبریں نظر انداز ہو گئیں۔۔۔ خدا جانے مزید کتنی اور ہوں گی۔
اب کیا ہو گا؟ بقول منو بھائی۔۔۔ کجھ نہ کجھ تے ہووئے گا، کجھ نہ کجھ تے ہوندا رہندا اے۔ سیاسی شور شرابا ایسی بے کار شے بھی نہیں جس قدر ہمارے اینکرز اس کا مزہ لینے اور ریٹنگ بڑھانے کے بعد ہمیں بتا تے ہیں۔ اب دیکھیں یہ شور شرابا اور ہنگامہ نہ ہوتا تو فارغ اپوزیشن نے اکونومی کے بارے میں اس ہفتے کئی پریشان کن خبروں پر حکومت کے کیا کیا لتّے نہ لینے تھے۔ لیکن بھلا ہو ان پامانہ پیپرز کا، اپوزیشن کو اس قدر مصروف رکھا کہ سوئی کے ناکے پر پہرہ دیتے ہوئے ہاتھی گزر جانے پر اس کا دھیان ہی نہیں پڑا۔
ہم اور ہمارا عبدل اپنی تنگی ترشی کے دن یہ سوچ سوچ کر گذار رہے تھے کہ برادر ملک چین سے دس سالوں کے دوران چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی تو ہم ایسوں کے دلدّر دور ہوں گے۔ ان دس سالوں میں سے یہ پہلا مکمل سال تھا، تناسب کے حساب سے ساڑھے چار ارب ڈالر تو اس سال آنے تھے مگر اسٹیٹ بنک کے حساب کتاب نے تو اور ہی نقشہ دکھایا ہے۔ اس مالی سال میں پہلے دس ماہ کے دوران FDI بمشکل ایک ارب ڈالر ہوئی۔ اسٹیٹ بنک کی رجائیت کا کمال ہے کہ انہوں نے جمع تفریق سے ہماری حوصلہ افزائی کی کہ اس ایک ارب کو بھی کم نہ جانئے کہ یہ گذشتہ سال سے پورے پانچ فی صد زائد ہے۔ سدا کے کچھ نکتہ چیں ماہرین نے اس مثالی کارکردگی پر یہ گرہ لگائی کہ گذشتہ سال کا حجم اس وقت کی خراب امن و امان اور سیاسی بے یقینی کے ساتھ تھا۔ اس سال تو امن و امان بہت بہتر رہا اور سیاسی افق پر بھی مطلع تقریباً صاف رہا۔ اس اعتبار سے فقط ایک ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری بہت کم ہے۔ جو سرمایہ کاری ہوئی ، اس کا بیشتر حصہ صرف دو شعبوں میں ہوا، انرجی اور آئل ایند گیس۔ چین کی سرمایہ کاری ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر اور، ہانگ کانگ کی ایک سو تیس ملین ڈالر رہی ۔ یو اے ای کی سرمایہ کاری بھی اس کے لگ بھگ رہی۔ جس ملک میں خریدے گئے فلیٹس نے ہماری سیاست کو گرما رکھا ہے، اس برطانیہ کی ہمارے ہاں سرمایہ کاری پہلے دس ماہ میں فقط 58 ملین ڈالر رہی۔
امریکہ بہادر کی سرمایہ کاری گذشتہ سال 181 ملین ڈالر تھی لیکن اس سال امریکہ نے اپنی سرمایہ کاری میں سے 75 ملین ڈالر واپس کر لیے جسے معیشت کی زبان میں Disinvestment کہتے ہیں۔ ہمارے سب سے پیارے دوست ملک سعودی عرب نے گذشتہ سال اپنی سرمایہ کاری سے 53 ملین ڈالر واپس کیے تھے۔ اس سال واپسی کا یہ حجم بڑھ کر 81 ملین ڈالر ہو گیا۔ سرمایہ کاری کے اس رجحان سے دوستوں کی بھی پہچان ہو رہی ہے اور سرمایہ کاری کے سہانے ڈھول کا پول بھی کھل رہا ہے۔ لیکن اس پر جنہیں آواز اٹھانی تھی وہ سب تو پانامہ کے ہنگامے میں لت پت تھے۔ ان کی بلا سے، اس قدر کم سرمایہ کاری کیوں آئی؟ یہی رجحان رہا تو آگے چل کر کیا ہو گا؟
صبح شام چینی کمپنیوں کی پاکستان میں رضاکارانہ انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا سن سن کر کئی بار ان کے ہاتھ پاؤں عقیدت سے چھونے کو دل کرتا تھا لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ جس کمپنی کا وعدہ تھا کہ پنڈ دادنخان میں دو سو ملین ڈالر سے کوئلے کی کانوں میں سیمی میکینکل ٹیکنالوجی متعارف کروائے گی اور اس کوئلے سے 330 میگا واٹ بجلی بنائے گی، اس چینی کمپنی نے اپنے طور پر بھوپور طریقے سے نیپرا میں بارہ سینٹ فی یونٹ کا ٹیرف حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کی جو تھر کول کے لیے منظور شدہ ٹیرف سے کہیں زیادہ تھا۔ حسب منشاء ٹیرف نہ ملنے کے بعد کمپنی نے سرمایہ لگانے کی بجائے کوچ کرنا ہی بہتر سمجھا۔ یہی کمپنی نیلم جہلم ہا ئیڈرو پاور پروجیکٹ میں بھی شریک کار ہے۔ پنڈ دادن خان میں 330 میگا واٹ کا یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے ۔ زور شور سے شروع کیے گئے پروجیکٹس کا خاموشی سے لپیٹے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل گڈانی پارک کا منصوبہ بھی دھوم دھڑکے کے بعد خاموشی سے شیلف کر دیا گیا۔ پنجاب میں قدرے چھوٹے کوئلہ بجلی گھروں کے لیے مقامی سرمایہ کاروں کو ایک ہزار میگا واٹ کے لیے دعوت دی گئی۔ صرف تین سرمایہ کاروں نے خواہش ظاہر کی لیکن صرف ایک ہی نے شرائط پوری کیں اور اجازت نامہ حاصل کیا۔ اپوزیشن کے مصروف ہونے کا فائدہ یہ ہوا کہ کسی نے اس پریشان کن رجحان کی نشان دہی کی، نہ شور ڈالا کہ شور تو سارے کا سار پانامہ کے لیے مخصوص ہو چکا ہے۔
یاوش بخیر۔۔۔ اس سال یکم فروری کو وزیر خزانہ اور مشیر برائے ایف بی آر نے اپنے تئیں ایک انقلابی رضاکارانہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا گیا۔ اسکیم کے لیے ٹیکس کی شرح انتہائی کم رکھی گئی۔ نکتہ چینوں کو بتایا گیا کہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔ اس اسکیم سے دس لاکھ نئے ٹیکس گذار دریافت ہوں گے۔ جس ملک میں ٹیکس گزاروں کی تعداد بمشکل دس لاکھ بھی نہیں، اس ملک کے لیے یہ ایک سہانا خواب تھا۔ بتایا یہی گیا کہ اب خوابوں کی تعبیر کا وقت آگیا ہے۔ تنقید کے لاکھ نشتر چلے لیکن ٹیکس اسکیم ایمنسٹی اسکیم چل نکلی۔ پانامہ کے ہنگامے میں جب کہ ہر ایک سوالوں کو سات سے ستّر کرنے میں مصروف ہے، ایک انگریزی روزنامے نے یہ ٹوہ لگائی ہے کہ یہ اسکیم یکم مئی سے موقوف کر دی گئی ہے۔ دس لاکھ کی بجائے فقط 9,020 نئے ٹیکس گذار ہی ہاتھ آئے۔
حکومت نے گذشہ بجٹ میں 0.60% ود ہولڈنگ ٹیکس لگایا جس پر تاجروں کی طرف سے بہت لے دے ہوئی۔ ہڑتالیں ہوئیں، مذاکرات ہوئے اور بالآ خر حکومت نے یہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی ۔ حسبِ معمول اتنی توقعات بتائی گئیں کہ تنقید دم توڑ گئی لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو یہ توفیق بھی نہ ہوئی کہ ڈھنگ سے وضاحت ہی کر دی جاتی کہ دلِ ناتواں پر آخر ایسی کیا گذری کہ تین مہینوں ہی میں اسکیم کا بستر گول کر دیا گیا۔ عمران خان کے بقول اپوزیشن کا کام ہے حکومت پر تنقید کرنا۔ اب کیا کیجیے عمران خان سمیت تمام اپوزیشن نے اپنی تمام تنقید پانامہ پیپرز کے حوالے سے مخصوص کر رکھی ہے۔
پانامہ پر ہنگامے کی وجہ سے ایسی کئی اہم خبروں کو اپوزیشن نے گھاس نہ ڈالی اور نہ ہمہ وقت چوکس اور پارسا میڈیا نے۔ چلئے، یہ چند خبریں تو پانامہ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے مرکزِ نگاہ نہ ہو سکیں لیکن پاناما پیپیرز میں پہلی اور دوسری قسط میں سامنے آنے والے پانچ سو سے زائد ناموں کی تحقیقات کی بات بھی صرف حاشیے کی حد تک ہے۔ کیا کریں کہ حکومت اپنے دفاع میں مصروف ہے اور اپوزیشن سوالوں کو سات سے ستّر کرنے کے پھیر میں ہے۔ اکونومی میں لگی اس دیمک کی خبروں کو کون گھاس ڈالے گا۔ ہر ایک اپنے اپنے گھر کو محفوظ کرنے کے جنون میں مبتلا ہے:
ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے
تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے