ڈینش و اردو لسانی رابطے میں اضافہ

“دو ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان گہری تفہیم کے لیے زبان کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان نے میشہ ڈنمارک کے ساتھ اپنے گرم و دوستانہ تعلقات کا لطف اٹھایا ہے لیکن 1960 کے آخیر سے 1970کے آغاز تک جب پاکستانی شہریوں نے روزگار کی تلاش میں ڈنمارک ہجرت کی تو اِن دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا۔ اس طرح دو ملکوں کے درمیان ایک ثقافتی پل کی تعمیر اور افہام و تفہیم کے عمل کا آغاز ہؤا۔“

ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر مسرور احمد جونیجو کے یہ  الفاظ ان کے اس توصیفی مکتوب سے لیے گئے ہیں جو انہوں نے ڈنمارک میں مقیم ممتاز صحافی و ادیب نصر ملک اور ان کی اہلیہ ہما نصر کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں شائع ہوئی پہلی جامع ’’ ڈینش اردو لغت ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے اور جو اس لغت میں شامل ہے ۔ یہ لغت  حال میں ہی ایم پبلیکیشنز، گوجرانوالہ نے بڑے اہتمام سے شائع کی ہے ۔

چھ سو دو صفحات پر مشتمل اِس ڈینش اردو لغت میں پندرہ ہزار سے زائد ڈینش الفاظ کے اردو میں معنی دئے گئے ہیں اور اس کے مؤلفین نصر ملک اور ہما نصر دونوں کا کہنا ہے کہ اِن ڈینش الفاظ کے چنا ؤ میں کئی ماہرین لغت کے مشوروں کو سامنے رکھا گیا ہے تاکہ یہ ایک ایسی لغت ثابت ہو جس سے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات ہی نہیں بلکہ ڈینش زبان سیکھنے اور اردو جاننے والا ہر شخص استفادہ کر سکے۔

ڈینش زبان جو اردو کے مقابلے میں ایک ترقی یافتہ صنعتی و تکنیکی ماحول کی زبان ہے اور ایک قدیمی پس منظر رکھتی ہے اور اِن دونوں زبانوں کے جغرافیائی، سماجی، ثقافتی، تاریخی اورسیاسی پس منظر اور ماحول میں بھی زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے ۔ نصر ملک ڈینش اردو لغت کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ڈینش الفاظ کے اردو معنی لکھتے ہوئے اردو کے لسانی معیار کو بطور خاص اہمیت دی گئی ہے۔  ڈینش الفاظ کے اردو معنی کے ایسے آسان فہم متبادل بھی پیش کیے گئے ہیں جو اصل مفہوم کو مزید واضح کرتے اور لغت سے استفادہ کرنے والے کے لیے آسانی مہیا کرتے ہیں ۔ ایسا کرنے کہ وجہ بتاتے ہوئے نصر ملک لکھتے ہیں کہ کسی ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بذاتِ خود ایک مشکل کام ہے اور بعض اوقات ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ  ایک زبان میں پائے جانے والے کسی ایک لفظ کا ٹھوس معنی دینے والا متبادل لفظ دوسری زبان میں پایا ہی نہیں جاتا ۔ ڈینش زبان کے کئی الفاظ کے اردو معنی تلاش کرتے ہوئے ہمیں متعدد بار ایسی صوررت حال سے دوچار ہونا پڑا ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ معنی کی تلاش اور ترجمے کے دوران ہمیں ایسے کئی ڈینش الفاظ کا سامنا بھی کرنا پڑا جن کا اردو میں براہ راست نہ صرف کوئی متبادل نہیں بلکہ کئی ڈینش الفاظ کا تو اردو زبان میں سرے سے تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ ایسی صورت حال میں ہم نے ڈینش الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے مفہوم کو اجاگر کرنا مناسب سمجھا اور یہی طریقہ اپنایا ہے ۔

ڈینش اردو لغت کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اکادمی ادبیات کے سابق چیئر مین فخر زمان لکھتے ہیں کہ لغت نویسی ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے ۔ لغت نویسی کی روایت کا حصہ بننا اور اسے کامیابی سے آگے بڑھانا، اس صورت میں اور بھی دشوار اور کٹھن ثابت ہو سکتا ہے جب لغت ذو لسانی ہو اور متعلقہ زبانوں کی اپنی طرز و نوعیت کی اولین لغت ہو ۔ اس عمل میں ہر دو زبانوں کے لسانی مزاج کی مکمل سمجھ بوجھ استعمال میں لاتے ہوئے ایک زبان کے الفاظ، محاورات اور تراکیب کو نئے ہمعصر تقاضوں کی روشنی میں نہ صرف دوسری زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے بلکہ نئے الفاظ، مرکبات اور اصطلاحات کے لیے نئے سانچے بھی وضع کرنے پڑتے ہیں۔ تاکہ ہر دو زبانوں کی تفہیم آسان سے آسان تر ہو جائے۔ فخر زمان مزید لکھتے ہیں کہ نصر ملک کی صحافتی، علمی اور ادبی خدمات کم و بیش چار دہائیوں پر محیط ہیں۔ زیر نظر ڈینش اردو لغت کی تدوین و اشاعت ان کا اور ان کی ہمہ صفت اہلیہ ہما نصر جو کہ ایک مصورہ و شاعرہ ہیں، کا بطور ماہرین لسانیات و صوتیات ایک شاندار علمی کارنامہ ہے جو ڈینش اور اردو دنیاؤں کے ملاپ اور مضبوط سے مضبوط تر تہذیبی و ثقافتی روابط کی بنیاد فراہم کرے گا ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ نصر ملک اور ہما نصر نے جس طرح اردو زبان کے لسانی مزاج کے مختلف رنگوں اور خوشبوں کی مدد سے ڈینش الفاظ و تراکیب کے معانی و مفاہیم کو واضح طور پر ایک نئی قابل فہم صورت بخشی ہے اور اظہار و بیان کے کئی ایک نئے پیرائے ہماری قومی زبان میں سموئے ہیں، اس سے ان کی اردو اور ڈینش زبان پر دسترس ہی سامنے نہیں آتی بلکہ اِن زبانوں سے ان کی محبت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔  ڈینش اردو لغت کی شکل میں ان کا یہ کارنامہ تاریخی حیثیت کا حامل ہوتے ہوئے ڈینش اور اردو اربابِ علم و ادب سے دادِ تحسین پائے گا اور اس کے نتیجے میں ڈینش اور اردو حلقوں کے باہمی تعلقات کو ایک مضبوط اور دیر پا اساس کی فراہمی کے روشن ترین امکانات کا آئینہ دارثابت ہو گا۔

پاکستان کے اردو لغت بورڈ کے سابق چیئرمین اور کراچی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ ، ممتاز محقق و نقاد، و ماہر لسانیات جناب ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ نصر ملک کے اپنی طرز کی اولین ڈینش اردو لغت تالیف کرنے کی اطلاع پاکر میں بہت حیران بھی ہوا اور خوش بھی ۔۔۔۔ کیونکہ اِس طرح کی دو زبانی لغات سے دونوں زبانوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ دونوں زبانوں کو جاننے والے ایک دوسرے کی زبان سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ، بلکہ یہ ہم زبانی کبھی کبھی ہم خیالی اور پھر ہم دلی میں بھی ڈھل جاتی ہے ۔ میں ڈینش زبان سے قطعاً واقف نہیں ہوں لیکن ڈینش اردو لغت میں دی گئی اردو تشریحات اور مترادفات پر نظر ڈالتے ہوئے، میں نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ نصر ملک اور ان کی اہلیہ ہما نصر نے اس لغت کی تالیف میں بہت احتیاط برتی ہے اور کوشش کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح معنی ومفہوم صاف اور واضح ہوں ۔۔۔۔ میں اِس پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

نامور مصنف و محقق، ماہر لسانیات، نقاد ، معلم و مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ڈینش اردو لغت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لغت نویسی کے محرکات میں لسانی رابطے، ادب اور زبانوں کے فروغ کے علاوہ سیاسی، سماجی اور تجارتی روابط شامل ہیں ۔ زبان کی اپنی ایک ثقافت ہوتی ہے ۔ آج کے عالمی تہذیب و ثقافتی پس منظر میں مختلف انسانی معاشرے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور مکالمے کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔ انسانی تمدن اور معاشرتی و تہذیبی ارتقا کے تسلسل میں زبانوں کی اثر پذیری ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرتی ہے ۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں کہ ڈینش اردو ڈکشنری کی تالیف و تدوین یقیناًایک اہم اور دقیق کام ہے ۔ نصر ملک برسہا برس سے ڈنمارک میں مقیم ہیں ۔ وہ ایک روشن خیال ادیب و صحافی ہیں ۔ انہوں نے ڈنمارک کو اپنا وطن ثانی جانا اور ڈینش اردو ڈکشنری کی شکل میں اپنے آبائی وطن سے دوری کا قرض چکا دیا ۔ نصر ملک اور ان کی شریک حیات ہما نصر کی اِس مشترکہ کاوش نے ناقابل فراموش اور منفرد تاریخ رقم کی ہے ۔ ان کا یہ علمی کارنامہ ڈینش معاشرے اور دنیائے اردو سے منسلک آبادیوں کے درمیان ایک رابطہ و تعلقِ خاص کا وسیلہ رہے گا ۔

معروف ترقی پسند و روشن خیال اردو مصنفہ، شاعرہ، بے مثال مترجم اور حقوق نسواں کی علمبرار محترمہ فہمیدہ ریاض ڈینش اردو لغت پر اپنے تاثرات میں لکھتی ہیں کہ نصر ملک، کوپن ہیگن، ڈنمارک سے شائع ہونے والے شمال مغربی یورپ کے پہلے اردو اخبار صدائے پاکستان کے مدیر، اسکینڈے نیویا میں اردو شاعری کے پہلے مجموعہ کلام قطبین کے خالق، ڈینش زبان و ادب سے اردو میں ترجمہ ہونے والی پہلی کتاب دیوتاں کا زوال کے مترجم ہیں اور ریڈیو ڈنمارک کی اردو سروس کے ایڈیٹر و پروڈیوسر رہے ہیں ۔۔۔۔  ڈنمارک سے انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے پہلے اردو جریدہ اردو ہمعصر کے ایڈیٹر کے فرائض و خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ پس منظر ان کی اعلی علمی، ادبی، صحافتی اور نشریاتی صلاحیتوں اور قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فہمیدہ ریاض لکھتی ہیں کہ ڈینش اردو ڈکشنری، نصر ملک کی علم سے محبت اور ان کی کئی دہائیوں پر مبنی شب و روز کی محنت کا ایک اور روشن ثبوت ہے ۔ اپنی اہلیہ ہما نصر کی شراکت میں انہوں نے اِس لغت کی تدوین کرکے اردو اور ڈینش، ہر دو زبانوں میں کسی بھی طرح سے دلچسپی رکھنے والوں اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے لسانی حوالے سے ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ سر انجام دیا ہے جس پر میں انہیں دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں۔

کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، ہر دلعزیز نامور شاعر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی ڈینش اردو لغت کے مؤلفین کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ نصر ملک اور ہما نصر نے ڈینش اردو فرہنگ مرتب کرکے اِس کو ایک اِمدادی کتاب کی صورت بخشی ہے ۔ یہ ڈکشنری ڈینش زبان کے استعمال ہونے والے ہزاروں الفاظ کے واضح، آسان اور جدید ترین معانی و مفاہیم کا احاطہ کرتی ہے ۔ اس میں سائنسی، تکنیکی اور کاروباری الفاظ و تراکیب سمیت ہر قسم کے پیشہ وارانہ الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ زندگی کے ہر شعبے سے منسلک افراد کو ڈینش زبان سمجھنے اور استعمال کرنے میں بہتر سے بہتر مدد فراہم کی جا سکے۔ اپنے سادہ و سہل مگر اچھوتے ڈیزائن کے ساتھ اِس ڈکشنری کی اشاعت یقینی طور پر نصر ملک اور ہما نصر کا ایک کارنامہ ہے، جس کی اہمیت اور افادیت کو نہ صرف ڈینش و اردو حلقوں میں بلکہ عالمی سطح پر پزیرائی حاصل ہونا مسلّم ہے ۔

فیڈرل اردو یونیورسٹی آف کراچی کے شعبہ تصنیف و تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر اسلم فرخی نے متذکرہ ڈینش اردو لغت پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک اجنبی سر زمین پر جا بسنا ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ وہاں نا صرف اپنی قومی اور مادری زبانوں کی داغ بیل ڈالنے کے ساتھ ساتھ سالہا سال، اپنے خون جگر سے ان کی آبیاری اور پرورش کرنا بلکہ ان کی شاندار ترقی و ترویج کا ایک ٹھوس وسیلہ بنے رہنا نصر ملک ہی کا کمال ہے۔ محب وطن شاعر، ادیب اور براڈ کاسٹر نصر ملک قابلِ داد ہیں کہ انہوں نے ڈینش اردو لغت اِس طرح مرتب کی ہے کہ یہ دونوں زبانیں سیکھنے اور ان کے درست استعمال میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہے ۔ نصر ملک اور ان کی اہلیہ محترمہ ہما نصر کے علمی وفورِ ذوق و شوق نے بلاشبہ ایسے تمام لوگوں کے لیے جوڈینش زبان کو سیکھنے کے مرحلہ میں ہیں، لسانیات کی پر پیچ راہیں انتہائی ہموار، صاف شفاف اور آ سان کردی ہیں ۔

ان سبھی احبابِ علم و دانش نے ڈینش اردو لغت شائع کرنے والے ادارے ایم پبلیکیشنز گوجرانوالہ، پاکستان کے روح رواں امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل معروف شاعر ، ادیب اور مترجم  اسد ملک کی کاوشوں کو بھی سراہا اور مبارکباد پیش کی ہے کہ انہوں نے اپنی نوعیت کی اِس پہلی لغت کی اشاعت کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

آخر میں ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر عالیجناب مسرور احمد جونیجو کے اس توصیفی مکتوب ہی کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا جو اِس ڈینش اردو لغت میں شامل ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک نئی زبان سیکھنے والے کسی بھی فرد کے لیے ڈکشنری ایک بہت اہم اوزار یعنی ذریعہ ہے ۔ اسی سلسلے میں نصر ملک اور ان کی اہلیہ ہما نصر جو آن لائن اردو میگزین www.urduhamasr.dk کی شریک مدیرہ ہیں، ان دونوں کی یہ مشترکہ تازہ ترین کاوش ڈینش اردو لغت ایک قابل ستائش اور بیحد مستحسن اقدام ہے ۔ نصر ملک ڈینش بڑاڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ڈنمارک ریڈیو)کے ساتھ پچیس سال تک کام کرتے رہے ہیں، انہوں نے ڈنمارک میں اردو جاننے والی برادری کوڈینش معاشرے میں رونما ہونے والی سیاسی پیش رفت اور حالاتِ حاضرہ سے با خبر رکھنے کے لیے بڑا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے نامور ڈینش ادیبوں کی تخلیقات کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے ۔
سفیر مسرور احمد جونیجو لکھتے ہیں کہ یہ ڈینش اردو لغت اردو زبان کے فروغ کے لیے نصر ملک کی زندگی بھر کی لگن اور خدمات کا ایک اور بڑا ثبوت ہے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ یہ لغت پاکستانی طلبا و طالبات اور ڈینش زبان سیکھنے والوں کے لیے ایک مؤثرو کارآمد ذریعہ ہو گی ۔

ڈینش اردو لغت کے حصول کے لیے رابطہ:
Aim Publications
4th Floor 01, Din Plaza,
GT Road, Gujranwala. Pakistan.
Tel: + 300 840 1120

ڈینش اردو لغت کے مؤلفین نصر ملک اور ہما نصر سے براہ راست رابطہ کے لیے:
Nasar Malik & Huma Nasar, VAEREBROVEJ # 14/1 - 3, DK-2880, BAGSVAERD, COPENHAGEN. DENMARK.
E-mail: [email protected] WS: www.urduhamasr.dk